’دوبارہ میرا نام لیا تو قانونی کارروائی ہوگی‘، علیزے شاہ کی یاسر نواز کو وارننگ
منگل 13 جنوری 2026 12:47
سوشل ڈیسک -اردو نیوز
علیزے شاہ نے یاسر نواز کو خبردار کیا ہے کہ کسی بھی انٹرویو میں ان کا نام لینے سے اجتناب کیا جائے۔ (فوٹو: علیزے شاہ، انسٹاگرام)
پاکستان کی معروف اداکارہ علیزے شاہ نے اپنے انسٹاگرام پر ایک سخت اور دو ٹوک پیغام جاری کرتے ہوئے اداکار و ہدایتکار یاسر نواز کو خبردار کیا ہے کہ ’وہ اب ان کا نام کسی بھی پلیٹ فارم پر استعمال نہ کریں، ورنہ وہ قانونی راستہ اختیار کریں گی۔‘
پیر کے روز علیزے نے اپنی انسٹاگرام سٹوری میں لکھا کہ یاسر نواز کے ساتھ انہوں نے پانچ سال پہلے ایک ہی ڈرامے میں کام کیا تھا، مگر اس کے باوجود وہ آج بھی مختلف ٹی وی شوز اور انٹرویوز میں بار بار ان کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔
علیزے کے مطابق کبھی یاسر معذرت کر لیتے ہیں اور کبھی یہ کہہ دیتے ہیں کہ ان کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ اچھا نہیں تھا۔ یہ سب ایک ہی بات کو بار بار اچھالنے کے مترادف ہے۔
علیزے شاہ کا کہنا ہے کہ وہ اس پورے معاملے کے شواہد اور ریکارڈ سنبھال کر رکھ چکی ہیں، جن میں وہ تمام پروگرام شامل ہیں جہاں ان کے بارے میں بات کی گئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر آئندہ کہیں بھی ان کا نام لیا گیا تو وہ بغیر کسی مزید وارننگ کے ہتکِ عزت کا کیس دائر کریں گی۔
یہ نیا تنازع اس وقت دوبارہ سامنے آیا جب حال ہی میں جیو انٹرٹینمنٹ کے شو ہنسنا منع ہے میں ایک ہلکے پھلکے گیم کے دوران علیزے شاہ کی تصویر سکرین پر آئی۔ اس موقع پر یاسر اور دانش نواز مہمان تھے۔ مذاق کے انداز میں علیزے کی تصویر ایک اور معروف شخصیت کے ساتھ دکھائی گئی، جس پر دانش نے چھیڑتے ہوئے کہا کہ ’یاسر شاید علیزے کو بطور بہن منتخب کریں گے۔‘
یاسر نے پہلے بات ٹالنے کی کوشش کی، مگر پھر ہنستے ہوئے کہا کہ ’تم ہی اپنی بہن بنا لو، مجھے نہیں چاہیے۔ یہی جملہ علیزے کے لیے ایک بار پھر تکلیف دہ ثابت ہوا۔‘

یہ کشیدگی دراصل سنہ 2020 کے ڈرامے ’میرا دل میرا دشمن‘ کے دوران شروع ہوئی تھی۔ اس وقت یاسر نواز اور ان کی اہلیہ و میزبان ندا یاسر نے ایک شو میں علیزے کے بارے میں کھل کر بات کی تھی اور کہا تھا کہ ان کے ساتھ کام کرنا آسان نہیں تھا۔ یاسر نے یہاں تک کہا تھا کہ شوٹنگ کے دوران وہ ذہنی طور پر پریشان رہے اور انہیں اس پروجیکٹ کا حصہ بننے پر افسوس بھی ہوا۔
ان بیانات کے بعد سوشل میڈیا پر ایک بڑی بحث چھڑ گئی تھی۔ کچھ لوگوں نے یاسر نواز کا ساتھ دیا تو کئی فنکار علیزے شاہ کے دفاع میں سامنے آئے جن میں فیروز خان اور مومنہ مستحسن جیسے نام بھی شامل تھے۔
اس کے بعد یاسر نواز نے خود بھی تسلیم کیا تھا کہ کسی ساتھی فنکار کا نام لے کر اس طرح بات کرنا درست نہیں تھا اور انہوں نے افسوس کا اظہار کیا تھا۔
اب علیزے شاہ نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ یہ معاملہ ان کے لیے بند ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یاسر نواز نے دوبارہ ان کا نام لیا تو وہ نہ صرف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گی بلکہ ان وجوہات کو بھی سب کے سامنے لائیں گی جن کی بنا پر یاسر ان کے ساتھ کام کرنے سے خوش نہیں تھے اور ان کے مطابق وہ وجوہات یاسر کی ساکھ کے لیے اچھی ثابت نہیں ہوں گی۔
