Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

دستخط سوچ اور مزاج کی عکاسی کرتے ہیں، ماہرین

  لندن .... دستخط طرح طرح کے ہوتے ہیں۔ زیادہ ہوشیار اور سیانے قسم کے لوگ اپنے دستخط کو اتنا گنجلک بنادیتے ہیں کہ عام آدمی کیلئے اسے پڑھنا اور اسکی تصدیق کرنا مشکل ہوتا ہے۔ بہت سے مالیاتی ادارے اور بینک وغیرہ اپنے افسران کو ایسی تربیت دیتے ہیں کہ وہ اپنے جو دستخط تیار کریں اور جسے استعمال کرنا چاہیں تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ ایسا ہو کہ کوئی اسکی نقل نہ تیار کرسکے اسلئے اب تک جو دستخط سامنے آئے ہیں وہ طرح طرح کے ہیں۔ بعض بہت چھوٹے ہوتے ہیں اور بعض بہت ہی بڑے۔ اب ماہر نفسیات نے ایسے تمام دستخطوں کا تجزیہ کرنے کے بعد جو رپورٹ جاری کی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ دستخط انسانی سرشت ، سوچ اور مزاج کی عکاسی کرتے ہیں۔ماہرین کا کہناہے کہ جتنے بڑے دستخط ہوتے ہیں دستخط کرنے والے ا تنے ہی بڑے عزائم ا ور ارادوں کے مالک ثابت ہوتے ہیں۔رپورٹ کی تیاری میں جن 340 دستخطوں کا جائزہ لیا گیا ان کی جانچ پڑتا ل کیلئے متعلقہ اشخاص سے کئی سوالات بھی کئے گئے اور ان سب کے جوابات کی روشنی میں یہ نتائج اخذ کئے گئے ہیں۔ اعدادوشمار کے مطابق خواتین کے دستخط نسبتاً بہت چھوٹے ہوتے ہیں جبکہ مرد بالعموم بڑے دستخط کرتے ہیں اور یہ بڑے دستخط اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ وہ ہر جگہ ہر صورت میں نمایاں رہنا چاہتے ہیں اور دستخط کو اپنی شخصیت کا اظہاریہ بنانا پسند کرتے ہیں۔ یہ تحقیقی رپورٹ یونیورسٹی آف یوروگوائے کے ماہرین نفسیات نے مرتب کی ہے۔ اچھے ، نمایاں اور بہترین دستخط ان لوگوں کے پائے گئے جو معاشرے میں نمایاں ہونے کی خواہش رکھتے ہیں یا اسکی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے افراد ہمیشہ یہی چاہتے ہیں کہ وہ مرکز نگاہ رہیں۔بعض ماہرین کے مطابق یہ دستخط نرگسیت کی بھی عکاسی کرتے ہیں اور نرگسیت مسلمہ طور پر ایک نفسیاتی بیماری ہے جسے خودپسندی سے بھی تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ یہ تحقیقی رپورٹ ریسرچ ان پرسنلٹی نامی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔

شیئر: