Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

نایاب جینیاتی بیماری کا شکار ’غالیہ‘ عزم و حوصلے کی مثال بن گئیں

’مشکلات راستے کا اختتام نہیں ، بلکہ نئی امید کا آغاز ثابت ہوجاتی ہیں‘۔ (فوٹو، ایکس)
نایاب جینیاتی جلدی مرض میں مبتلا ’غالیہ الشمری‘ نے صبر، حوصلے اور برداشت کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے دوسروں کے لیے متاثر کن مثال قائم کردی۔
سبق نیوز کے مطابق غالیہ ابتدائی عمر سے ہی ایک ایسے جلدی مرض میں مبتلا تھی جونہ صرف ان کے بلکہ اہل خانہ کے لیے بھی تکلیف کا باعث تھا۔
غالیہ نے اپنے صبر و حوصلے کی بے مثال کہانی سناتے ہوئے کہا ’ابتدائی عمر سے یہ تکلیف لاحق تھی جس میں جلد زرد پڑ جاتی تھی، ہاتھوں اور تلوں کی جلد پھٹ اور قوت مدافعت جواب دیے جاتی تھی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ابتدا میں گھر والوں نے بہت علاج کرانے کی کوشش کی مگر ڈاکٹر بیماری کو سمجھنے سے قاصر تھے ، کوئی اسے الرجی کہتا کسی نے اسے چنبل سے تعبیر کیا جبکہ بعض معالجین کا خیال تھا کہ یہ پیدائشی خرابی ہے۔ اسی طرح وقت گزرتا گیا اور تکلیف جوں کی توں رہی، مگر میرے سامنے اگر کوئی حل تھا وہ صرف ’صبر اور برداشت‘۔
غالیہ کا کہنا تھا کہ وہ جس بیماری سے گزر رہی تھی اس میں انکی ہتھیلیوں اور تلوں کی جلد متاثر ہوتی تھی، جس کے نتیجے میں پڑنے والی دراڑیں بے پناہ تکلیف دہ ہوتی ، زخم کو مسلسل نگہداشت کی ضرورت ہوتی تھی۔
غالیہ کو درپیش صحت کے سنگین چیلنجز کے باوجود انہوں نے ہمت نہ ہاری اور تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا، ڈیجیٹل میڈیا اینڈ کانٹینٹ سازی کے شعبے میں داخلہ لیا، جہاں انہیں معذور افراد کی نگہداشت کی اتھارٹی کی معاونت بھی حاصل رہی۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ عملی طورپر میڈیا کے میدان میں قدم رکھ چکی ہیں اور متعدد تقریبات و فورمز میں بھی شرکت کرچکی ہیں، جن میں سعودی میڈیا فورم اورسعودی فلم فورم بھی شامل ہیں۔
غالیہ نے بتایا کہ ان کا سب سے بڑا خواب یہ ہے کہ وہ ہر اس شخص کے لیے امید و حوصلے کی آواز بنیں جو صحت یا نفسیاتی مسائل کا سامنا کررہا ہو۔
وہ اس وقت ایک کتاب کی تیاری مصروف ہیں جس میں اپنی بیماری اور جدوجہد کے سفر کوصفحہ قرطاس پر منتقل کررہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بچین سے ہی وہ اپنے جذبات اور خیالات لکھنے کی عادی رہی ہیں تاکہ اپنی تکالیف کا اظہار کرسکیں۔
گفتگو کے اختتام پر غالیہ نے ایک موثر پیغام دیتے ہوئے کہا ’مشکلات کبھی راستے کا اختتام نہیں ہوتیں بلکہ بعض اوقات یہی ایک نئی امید کا آغاز ثابت ہوجاتی ہیں‘۔

شیئر: