سعودی خبررساں ایجنسی کے مطابق ملبوسات کے انداز اور فیشن میں وقت کے ساتھ ساتھ ہونے والی تبدیلیوں کے باوجود ’عقال‘ نے اپنی تاریخی و ثقافتی حیثیت کو برقرار رکھا ہے۔ یہ آج بھی ایک ایسے روایتی ورثے کے طورپر موجود ہے جو معاشرتی جڑوں سے وابستگی اور نسل درنسل منتقل ہونے والی علامت کی نمائندگی کرتا ہے۔
جازان ریجن میں بھی عقال اپنی روایتی اہمیت کے ساتھ عوامی ثقافت اور مقامی لباس کا لازمی جزو ہے۔ سماجی تقریبات ہوں عیدین کے اجتماعات و عوامی محافل میں اس کا استعمال لازمی ہوتا ہے، جبکہ مقامی لوگ اسے اپنی شناخت، روایت اور ثقافتی ورثے کے علامت تصور کرتے ہیں۔
عقال کی صنعت سے وابستہ ’علی احمد العنزی‘ کا کہنا ہے کہ انہیں یہ ہنروالد سے ورثے میں ملا، وقت کے ساتھ ساتھ عقال کی تیاری میں استعمال ہونے والے دھاگوں اور خام مال میں نمایاں ترقی ہوئی۔
قدرتی اون سے بنے عقال کی قیمت زیادہ ہوتی ہے (فوٹو، ایس پی اے)
ان کا مزید کہنا تھا کہ عقال قدرتی اور مصنوعی اقسام کے مواد سے تیار کیا جاتا ہے، تاہم قدرتی اون سے بنے دھاگے زیادہ مقبول ہوتے ہیں کیونکہ وہ سر پر مضبوطی سے جمے رہتے ہیں، چمک اور معیار میں بھی اعلی ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں مخمل اور ریشم بھی عقال کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ مصنوعی عقال میں نائیلون کے دھاگے استعمال ہوتے ہیں۔
عقال کی تیاری کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ ایک عقال کی تیاری میں آدھا گھنٹے سے زیادہ کا وقت لگتا ہے، اس کی تیاری کئی مراحل میں ہوتی ہے۔ ابتدا میں لکڑی کے سانچے یا مشین پر روئی کی تہہ رکھی جاتی ہے، جسے سیاہ کپڑے سے ڈھانپنے کے بعد قدرتی یا مصنوعی دھاگے کو نہایت مہارت سے لپیٹا جاتا ہے۔
بعدازاں ’کسرہ العقال‘ (عقال کا موڑ) کے مرحلے میں عقال کے دونوں سروس کو مضبوطی سے جوڑا دیا جاتا ہے، جبکہ ’تدریس العقال‘ میں کناروں کی سلائی کرتے ہوئے اس کی گرہ کو مضبوط کیا جاتا ہے۔ آخری مرحلے کو ’وزن العقال ‘ کہا جاتا ہے جس میں لکڑی کے سانچے اور ہتھوڑی کی مدد سے اس کی گولائی اور سائز بنائے جاتے ہیں۔
العنزی کے مطابق عقال کی تیاری میں آج بھی کئی روایتی آلات استعمال ہوتے ہیں جن میں دھاگہ لپیٹنے والی مشین، لکڑی کی مخصوص ہتھوڑی ، سانچہ ، لوہے کا برش ، سوئیاں اور قینچی شامل ہے۔
عقال کو مضبوط کرنے کےلیے اسے ہتھوڑے سے کوٹا جاتا ہے(فوٹو، ایس پی اے)
ان کا مزید کہنا تھا کہ عقال کے مختلف سائز ہوتے ہیں جبکہ اس کی موٹائی 4.5 سیٹی میٹر سے5.6 تک ہوتی ہے، عقال کا دائرہ 110 سیٹی میٹر تک ہوتا ہے۔
قیمتوں کا انحصار خام مال اور تیاری کے طریقوں پر ہوتا ہے, اسی لیے ہاتھ سے تیار کیے جانے والے عقال کی قیمت مشین سے تیار ہونے والے عقال سے زیادہ ہوتی ہے، خصوصا وہ اقسام جن میں باریک بنائی اور نفیس دستکاری شامل ہو۔
مصنوعی خام مال سے تیار ہونے والے عقال کی قیمت 60 سے 100 ریال کے درمیان ہوتی ہے، جبکہ قدرتی اون سے تیار ہونے والا عقال 120 سے 150 ریال میں فروخت ہوتا ہے۔ ان میں جرمن ، برٹش ، افریقی اور اٹلی سے امپورٹ کیے گئے اون کے دھاگے استعمال کیے جاتے ہیں۔
مختلف ناموں اور برانڈز کے عقال مارکیٹ میں موجود ہیں (فوٹو، ایس پی اے)
مارکیٹوں میں مختلف برانڈز کے عقال دستیاب ہیں جن میں ’سپر، الملکی ، المبروم ، حبررمان ، البحرینی ، القطری اور کویتی وغیرہ شامل ہیں ۔