اخبار 24 کے مطابق ڈاکٹر الجطیلی نے سعودی ٹی وی ’الاخباریہ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ سال 2015 میں شاہ سلمان امدادی مرکز کے قیام سے لے کر اب تک غزہ کے لیے نصف ارب ڈالر مالیت سے زائد کی امداد ارسال کی جاچکی ہے۔
غذائی اور صحت کے حوالے سے ارسال کی جانے والی اشیا کے علاوہ مختلف امدادی منصوبے بھی شروع کیے گئے ہیں علاوہ ازیں ضرورت مندوں کو خیموں کی فراہمی اور دیگر ضروریات زندگی کا سامان بھی ارسال کیا جاتا ہے تاکہ مشکل حالات میں ان کی مدد کی جاسکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ غزہ جنگ کے آغاز سے ہی مملکت نے انسانی بنیادوں پرفوری امدادی مہم شروع کی ، اس مد میں فضائی اور بحری راستوں کے ذریعے امدادی اشیا ارسال کی گئیں۔ فضائی ذریعے سے 71 امدادی طیارے جبکہ 8 بحری جہازوں کے ذریعے امدادی سامان غزہ کے متاثرین کےلیے پہنچایا گیا۔
اشیائے خورونوش کے علاوہ 20 ایمبولینس گاڑیاں بھی ارسال کی گئیں (فوٹو، ایس پی اے)
واضح رہے شاہ سلمان مرکز کی جانب سے غزہ پٹی میں طبی سامان کے علاوہ 20 ایمبولینس گاڑیاں بھی ارسال کی گئیں جبکہ بین الاقوامی تنظیموں کے اشتراک سے پانی اور صحت کے منصوبوں پر عمل درآمد کیا گیا جن کی مالیت 20 لاکھ ڈالر کے قریب ہے۔