اسکالر اسلامی فنڈنگ کو درپیش حقیقی مسائل کے حل پیش کریں، وزیر خزانہ

ظہران.... سعودی وزیر خزانہ محمد الجدعان نے مسلم اسکالرز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسلامک فنڈنگ کو درپیش حقیقی مسائل کے حل پیش کریں۔ مارکیٹ میں پیش آنے والے امور کو سامنے رکھ کر ریسرچ کریں۔ وہ اتوار کو کنگ فہد یونیورسٹی برائے پیٹرولیم و معدنیات میں اسلامی فنڈنگ ریسرچ پر دوسری علمی کانفرنس کا افتتاح کرکے صدارتی خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانفرنس میں شرکت پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کانفرنس ایسے ماحول میں ہورہی ہے جبکہ سعودی عرب ویژن 2030 کی بدولت خوشگوار تبدیلیاں دیکھ رہا ہے۔ ویژن پر عملدرآمد انتہائی محکم انداز میں ہورہا ہے ۔ مالیاتی و اقتصادی بنیادی اصلاحات روبہ عمل لائی جارہی ہیں۔ اقتصادی اصلاحات کی بدولت سرکاری آمدنی کے ذرائع میں تنوع اور اخراجات کا ماحول بہتر ہوگا۔ تیل کے ماسوا آمدنی کے وسائل کی بنیادیں مضبوط ہونگی۔ قومی خزانے کے معاملات کو کنٹرول کرنے کا سلسلہ برقرار رہے گا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ کانفرنس کا موضوع سعودی ویژن 2030 سے مکمل طور پر مطابقت رکھتا ہے ۔ انہوں نے توجہ دلائی کہ سعودی وزارت خزانہ نے 2015 ءکے آخر میں قومی بدلاﺅ پروگرام کے طور پر قومی قرضہ دفتر قائم کیا تھا۔ اس دفتر نے بین الاقوامی اور ملکی بانڈز کے دو پروگرام جاری کئے ۔ بین الاقوامی بانڈز امریکی ڈالر میں بین لاقوامی مارکیٹوں میںپہلی بار سعودی حکومت کے نام سے پیش کئے گئے۔ ان کی قدر 9 ارب ریال تھی اور دورانیہ 5سے10 برس کا رکھا گیا۔ علاوہ ازیں 5 ، 7 اور 10 برس مدت والے تین ایڈیشن 17 ، 13 اور 7 ارب ریال کے یکے بعد دیگرے جاری کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی فنڈنگ کے تحت خسارے میں شراکت کا عنصر انتہائی مناسب ہے۔ اس کی بدولت مختصر مدتی اور اوسط مدتی اقتصادی نمو میں مدد ملتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بینکوں کی فنڈنگ سے ملنے والا تناسب 2 فیصد سے زیادہ نہیں ہوتا جبکہ بعض ترقی یافتہ ممالک میں اس کا اوسط 33 فیصد سے بڑھا ہوا ہے۔ اسلامی فنڈنگ اس انتہائی اہم گوشے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے سکتا ہے۔ کے ایف یو پی ایم کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد السلطان نے اس کانفرنس کو اسلامی فنڈنگ کو عالمی سطح پر منوانے کی جہت میں اہم قدم سے تعبیر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہماری یونیورسٹی نے اسلامی فنڈنگ اور بینک مطالعات کا " التمیز" مرکز قائم کیا ہے۔ یہ مرکز اسلامی بینکاری کے پائیدار فروغ ، اسلامی فنڈنگ اور بینکاری کو جدید خطوط پر استوار کرنے والی اسکیمیں اور پروگرام فراہم کررہا ہے۔ کانفرنس میں 145 مقالات پیش کئے گئے تھے ، 14 منتخب کئے گئے ۔ دنیا کی مختلف یونیورسٹیوں کے اسکالرز نے پی ایچ ڈی کے 40 مقالے بھی کانفرنس کو بھجوائے۔ 
 

شیئر: