سمندروں میں پلاسٹک کی آلودگی ’’عالمی بحران‘‘

نیروبی۔۔۔اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ پلاسٹک کی آلودگی سے سمندری زندگی کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔اقوامِ متحدہ کے سمندروں سے متعلق ادارے کی سربراہ لیزا سوینس نے کہا ہے کہ حکومتوں، کمپنیوں اور لوگوں کوپلاسٹک کی آلودگی سے بچنے کے لیے تیزی سے عمل کی ضرورت ہے۔انھوں نے کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں ہونے والی ماحولیاتی کانفرنس کے موقعے پرکہا کہ یہ تمام سیارے کا بحران ہے۔ پلاسٹک سے ملنے والی سہولت کے بعد چند مختصر دہائیوں کے اندر اندر ہم سمندروں کا ماحولیاتی نظام تباہ کر رہے ہیں۔اس کانفرنس میں دنیا بھر سے مندوبین پلاسٹک کے کچرے پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات چاہتے ہیں۔سوینس نے کینیا میں کچھوؤں کے ایک ہسپتال کا دورہ کیا جہاں اُن کچھوؤں کا علاج کیا جاتا ہے جو پلاسٹک نگل کر بیمار پڑ گئے ہوں۔انھوں نے ہسپتال میں ’کائی‘ نامی ایک کچھوا دیکھا جسے ایک مچھیرے نے سمندر کی سطح پر پڑا دیکھا تھا۔اگر کچھوے زیادہ پلاسٹک کھا لیں تو ان کا پیٹ پھول جاتا ہے اور وہ تیر نہیں سکتے۔کائی کے جسم سے پلاسٹک نکالنے کے لیے2 ہفتوں تک اس کا علاج کیا گیا، اور جب وہ مکمل طور پر صحت یاب ہو گیا تو اسے دوبارہ سمندر میں چھوڑ دیا گیا۔
 

شیئر: