غیر شادی شدہ مرد”مشیروں“ سے کنی کترائیں

شہزاد اعظم۔جدہ
جب کوئی لڑکا اپنی شادی کے لئے لڑکی دیکھنے کی تگ و دو شروع کرتا ہے تو اسکا ارمان یہی ہوتا ہے کہ ایسی لڑکی مل جائے جسے دیکھ کر بالی وڈ،ٹالی وڈ، کالی وڈ، لالی وڈاورانتہا یہ کہ ہالی وڈ کی ہیروئنیں بھی اپنا منہ پیٹنا اور بال نوچنا شروع کر دیں۔جب وہ اپنے اس ارمان کو حقیقت میں بدلنے کے کی کوششوں میں ناکام رہتا ہے تو لوگ اسے مشورہ دینا شروع کرتے ہیں کہ” میاں! شکل و صورت میں کیا رکھا ہے، اصل بات تو یہ ہے کہ بیوی ایسی ہونی چاہئے جو سگھڑ ہو، میاں کو خوش رکھنے والی اور اس کی قدر کرنے والی ہو۔ “سچ یہ ہے کہ ایسے مشورے دینے والے اس کے ”دشمن“ ہوتے ہیں۔ یہ وہ ”مظلوم و بے کس“لوگ ہوتے ہیں جن کی اپنی بیویاں قبول صورت کے زمرے میں بھی نہیںآتیں۔انہیں خدشہ ہوتا ہے کہ اس لڑکے کو اگر حسین بیوی مل گئی تو عجب ”اذیت ناک پچھتاوہ“ ہمارا مقدر بن جائے گا۔اسی لئے ان کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ یہ لڑکاجو دلہن لائے وہ ہماری بیوی سے کم یا اس کے ہم پلہ ہو،اس سے اچھی شکل کی نہ ہو۔اس قسم کے ”مشیر“ دراصل اس دولہا کوساری زندگی جھینکنے کے راستے پر گامزن کرنا چاہتے ہیں۔ 
ہماری بات کس حد تک درست ہے، اس کا تجزیہ کرنے کے لئے دوشادیاں ضروری ہیں جن میں سے ایک معمولی شکل و صورت کی عورت سے کی جائے اور دوسری پیکرِ حسن و جمال دوشیزہ سے۔اسکے بعد آپ ہماری ہاں میں ہاں ملاکر گواہی دیں گے کہ ہم نے جو کچھ کہا تھا وہ سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہے۔یقین کیجئے کہ جب کم شکل بیوی ناز انداز یا نخرے دکھاتی ہے تومیاں کی ناک بھوںچڑھ جاتی ہے اور دل کی گہرائی سے ایک آواز آتی ہے کہ اسے کوئی چیز پھینک کر ماردے۔اس کے برخلاف حسین بیوی جب کوئی نخرہ کرتی ہے تو روح پکار اٹھتی ہے کہ ”میں صدقے، میں واری“۔کم شکل بیوی اگر فیشن کی نقل کی کوشش کرتے ہوئے لباس کی لمبائی چوڑائی میں ایک سوتر کا بھی اختصار کرے تو اسے کہا جاتا ہے کہ شرم کرو،یہ کوئی مغربی ملک نہیں، پاکستان ہے، اپنی حد میں رہو۔آئندہ ایسی حرکت کی تو اچھا نہیں ہوگا۔ دوسری جانب حسین بیوی اگر فیشن کو دل و جان سے اپناتے ہوئے لباس میں کپڑے کا ہر ممکن حد تک استعمال کم کردے تواسے کہا جاتا ہے کہ جان من!یقین کیجئے، پاکستان تو ہمارے رہنے کے قابل ہی نہیں۔ میرا تودل چاہتا ہے کہ آپ کو ساتھ لے کر انگلینڈ یا امریکہ کے کسی شہر میں جا بسوں۔
حسین بیوی کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ اسے بیٹی کی پیدائش پر کوئی دھچکا نہیں پہنچتا خواہ درجن بھر بیٹیاں ہی کیوں نہ ہوجائیں کیونکہ حسین ماں کی بیٹیاں میٹرک تک بمشکل ہی پہنچ پاتی ہیں کہ ان کیلئے شادی کے پیغامات کی بھر مار ہوجاتی ہے۔ایسی بیٹی کو رخصت کرتے وقت داماد کو انتباہ دیا جاتا ہے کہ اس کا خیال رکھنا، اگر ذرا سی اونچ نیچ ہوئی تو میں خود جا کر اسے لے آﺅں گا۔اس کے لئے رشتوں کی کمی تھی نہ آئندہ ہوگی۔ اس کے برخلاف کم شکل بیوی کے ہاں اگر ایک بیٹی بھی پیدا ہوجائے تو باپ کو عمر بھر کا روگ لگ جاتا ہے۔اسے یہی فکر کھائے جاتا ہے کہ اس کو بیاہ کر کون لے جائے گا؟وہ بیٹی کی شادی کے لئے دوستوں سے نہ چاہتے ہوئے بھی روابط بڑھاتا ہے۔اخبار میں ”ضرورت رشتہ“ کے ”پُرکشش“ اشتہار دلواتا ہے تاکہ کوئی شکار تو پھنسے جسے داماد بنایا جا سکے۔ بیٹی کو ”آزادی“ بھی دی جاتی ہے کہ اگر وہ خود کسی کو پسند کر لے تو اچھا ہے۔ ایسی بیٹی کو رخصت کرتے وقت داماد کو نہیں بلکہ بیٹی کو انتباہ دیاجاتا ہے کہ بیٹی!یاد رکھنا کہ ایک مرتبہ جب شوہر کے گھر ڈولی چلی جائے تو جنازہ ہی واپس آتا ہے۔ آج سے میکے کے دروازے تمہارے لئے بند ہوگئے۔ تم ہمارے لئے مرگئیں۔ اب تمہارا مرنا جینا شوہر اور سسرال والوں کے لئے ہی ہے۔
اب ذرا خود ہی جواب دیجئے کہ لوگ ایسے مشورے کیوں دیتے ہیں کہ” میاں !شکل و صورت کوئی معنی نہیں رکھتی۔“غیر شادی شدہ مردوںکو ایسے ”مشیروں“ سے کنی کترانی چاہئے اور یہ حقیقت ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ شکل و صورت کئی معنی رکھتی ہے۔
 

شیئر: