اگر آپ شام کے وقت ایمسٹرڈیم یا نیدرلینڈز کے کسی بھی رہائشی علاقے میں چہل قدمی کریں تو ایک بات فوراً نظر آتی ہے۔ گھروں کی لائٹس جلتے ہی کھڑکیوں کے اندر کا منظر صاف دکھائی دیتا ہے۔
صوفے، لیمپس، ڈائننگ ٹیبلز اور بعض اوقات خاندان کے افراد کھانا کھاتے ہوئے بھی نظر آ جاتے ہیں۔ بیشتر ممالک میں اندھیرا ہوتے ہی پردے گرا لیے جاتے ہیں مگر نیدرلینڈز میں ایسا کم ہی ہوتا ہے۔
دن کے وقت بھی اکثر کھڑکیاں بغیر پردوں کے کھلی رہتی ہیں۔
مزید پڑھیں
-
دورانِ مطالعہ توجہ بڑھانے کے سات مؤثر طریقے کون سے ہیں؟Node ID: 900176
یہ عادت برسوں سے غیر ملکیوں کے لیے تجسس کا باعث رہی ہے اور سوشل میڈیا پر بھی اس پر اکثر تبصرے ہوتے رہتے ہیں۔ کوئی اسے مذہب سے جوڑتا ہے، کوئی تاریخ سے، تو کوئی موسم کو اس کی وجہ قرار دیتا ہے۔
سب سے پہلے ایک غلط فہمی دور کرنا ضروری ہے۔ ڈچ لوگ اجنبیوں کو اپنے گھروں میں جھانکنے کی دعوت نہیں دیتے۔ کسی کے گھر کے باہر کھڑے ہو کر دیر تک اندر دیکھنا بدتمیزی سمجھا جاتا ہے۔
راستے سے گزرتے ہوئے ایک سرسری نظر معمول کی بات ہے، مگر گھورنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ کھلی کھڑکیاں توجہ حاصل کرنے کے لیے نہیں بلکہ نجی اور عوامی زندگی کے تصور سے جڑی ہوئی ہیں۔
مذہبی اثرات
کچھ ماہرین اس روایت کو کیلون ازم سے جوڑتے ہیں، جو ڈچ تاریخ میں ایک اہم پروٹسٹنٹ مذہبی روایت رہی ہے۔ اس نظریے کے مطابق پردوں کے بغیر کھڑکیاں دیانت داری اور شفاف زندگی کی علامت سمجھے جاتے ہیں، یعنی ’چھپانے کو کچھ نہیں۔‘ تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ آج کے دور میں، جب معاشرہ کافی حد تک سیکولر ہو چکا ہے تو اس کے پیچھے یہ واحد وجہ نہیں ہو سکتی۔
دوسری جنگِ عظیم کا اثر
ایک اور نظریہ دوسری جنگِ عظیم سے جڑا ہے، جب جرمن قبضے کے دوران رات کے وقت مکمل بلیک آؤٹ لازمی تھا۔ گھروں سے روشنی باہر جانے پر جرمانے ہوتے تھے۔ جنگ کے بعد لوگوں نے آزادی کے احساس کے ساتھ پردے کھول دیے۔ اگرچہ اس دور نے ذہنوں پر اثر چھوڑا، مگر اسے مستقل روایت کی بنیادی وجہ نہیں مانا جاتا۔

موسم اور روشنی
نیدرلینڈز میں سورج کی روشنی محدود ہوتی ہے اور یہ صورتحال خاص طور پر سردیوں کے دنوں میں اور بھی بڑھ جاتی ہے۔
ملک میں دن چھوٹے اور آسمان اکثر ابر آلود رہتا ہے۔ اس لیے لوگ قدرتی روشنی کو قیمتی سمجھتے ہیں اور گھروں کو روشن رکھنے کے لیے پردے نہیں لگاتے۔ تاہم یہ وجہ بھی مکمل وضاحت فراہم نہیں کرتی کیونکہ رات کے وقت بھی پردے کھلے رہتے ہیں۔
طرزِ زندگی اور سماجی اعتماد
ماہرین کے مطابق سب سے مضبوط وجہ سماجی رویہ اور محلے داری کا تصور ہے۔ کھلے پردے لوگوں کو گلی اور پڑوس سے جڑے رہنے کا احساس دیتے ہیں۔ باہر کیا ہو رہا ہے، کون گزر رہا ہے، سب کچھ ایک نظر میں معلوم ہو جاتا ہے، جس سے تحفظ اور اعتماد کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ یوں کھڑکی اندر اور باہر کے درمیان ایک نرم سی حد بن جاتی ہے، دیوار نہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ گھروں کا ڈیزائن بھی اہم ہے۔ ڈچ گھروں میں بڑی کھڑکیاں ہوتی ہیں اور پردے لگانے سے کمرے چھوٹے اور اندھیرے محسوس ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے لوگ جان بوجھ کر اپنے گھروں کو اس طرح سجاتے ہیں کہ وہ جزوی طور پر باہر سے نظر آئیں۔













