Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سولر سسٹم کے باوجود جنوری میں 52 ہزار روپے بجلی کا بل: سمارٹ میٹرز صیحح بلنگ نہیں کرتے؟

متاثرہ شہری کا کہنا ہے کہ ’انہوں نے اتنی بجلی استعمال نہیں کی اور ان کے گھر سولر سسٹم بھی نصب ہے۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان میں گرمیوں کے موسم میں بجلی کے بلوں کا بڑھ جانا عام بات سمجھی جاتی ہے، لیکن سردیوں میں زیادہ بل موصول ہونا شہریوں کے لیے تشویش اور پریشانی کا باعث بن جاتا ہے۔
ملک میں اس وقت سردیوں کا موسم ہے۔ اس دوران شہری عموماً بجلی کی کھپت پر زیادہ توجہ نہیں دیتے جس کے باعث بعض اوقات بجلی کا استعمال بڑھ جاتا ہے، جبکہ بعض اوقات تو بجلی کے زیادہ استعمال کے بغیر بھی بل زیادہ آ جاتا ہے۔
اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کے ایک صارف عمر قریشی (فرضی نام) کو بھی حال ہی میں ایسی ہی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا، جنہیں جنوری کے مہینے کا بجلی کا بل 52 ہزار 478 روپے موصول ہوا۔
انہوں نے بل دیکھ کر ابتدا میں تو یقین ہی نہیں کیا، تاہم تصدیق کرنے پر معلوم ہوا کہ بل انہی کے نام پر جاری ہوا ہے اور رقم بھی درست درج ہے۔
بل کے مطابق صارف کے استعمال شدہ یونٹس 843 ظاہر کیے گئے، اور بل کی رقم میں سے تقریباً 36 ہزار روپے بجلی کی قیمت جبکہ باقی رقم مختلف ٹیکسز اور دیگر چارجز کی مد میں شامل تھی، جس کے بعد مجموعی بل 50 ہزار روپے سے تجاوز کر گیا۔
متاثرہ شہری کا کہنا ہے کہ ’انہوں نے اتنی بجلی استعمال نہیں کی اور ان کے گھر سولر سسٹم بھی نصب ہے، اس کے باوجود بل کا اتنا زیادہ آنا ان کے لیے باعثِ تشویش ہے۔‘
عمر قریشی سردیوں میں بجلی کا بل زیادہ آنے کی شکایت کرنے والے اکیلے صارف نہیں بلکہ کچھ دیگر صارفین بھی اسی نوعیت  کی شکایات کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
اردو نیوز نے اس معاملے پر سب سے پہلے اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کے ترجمان عاصم نذیر راجہ سے بات کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’آئیسکو کے راولپنڈی ریجن میں سمارٹ میٹرز کے ذریعے ریڈنگ لی جاتی ہے، جس میں کسی قسم کی غلطی یا انسانی دخل اندازی کی گنجائش نہیں رہتی۔‘

آئیسکو کے ترجمان نے کہا کہ ’نیٹ میٹرنگ کے بعض صارفین کو بلوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔‘ (فوٹو: اے پی پی)

انہوں نے مزید کہا کہ ’دیگر ریجنز میں فی الحال میٹر ریڈرز ہی ریڈنگ کا عمل انجام دے رہے ہیں، جو صارفین کے گھروں میں جا کر میٹر کی تصویر لیتے ہیں اور اسے متعلقہ سسٹم میں اپ لوڈ کرتے ہیں، جس کی بنیاد پر بجلی کی ریڈنگ درج کی جاتی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اس پورے عمل میں شفافیت کو یقینی بنانے کی کوشش کی جاتی ہے اور صارفین کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی نہیں کی جاتی، تاہم اگر کسی صارف کو بل کے حوالے سے کوئی مسئلہ درپیش ہو تو وہ اپنے متعلقہ آئیسکو دفاتر سے رجوع کر سکتا ہے۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ’صارفین کسٹمر فیسلٹییشن سینٹرز اور ہیلپ لائنز کے ذریعے بھی کسی بھی وقت اپنی شکایات درج کروا سکتے ہیں۔‘
آئیسکو کے ترجمان نے اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ ’نیٹ میٹرنگ کے بعض صارفین کو بلوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کچھ صارفین نے کمپنی سے کیے گئے معاہدے کے برخلاف زیادہ کلوواٹ کے سولر سسٹمز نصب کیے، جس کے باعث بلنگ کے مسائل پیدا ہوئے۔‘
ترجمان کا کہنا تھا کہ ’اس وجہ سے اگر کسی صارف کے یونٹس کریڈٹ نہیں ہو سکے تو وزیرِ توانائی کی ہدایت پر آئندہ بلوں میں ان یونٹس کو ایڈجسٹ کر دیا جائے گا۔‘

انیل ممتاز کے مطابق بجلی کے شعبے میں اس طرح کی بلنگ کو غیرقانونی تصور کیا جاتا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

ترجمان نے واضح کیا کہ ’کسی بھی کمرشل یا گھریلو صارف کو اگر بجلی کے بل سے متعلق کوئی شکایت ہو تو وہ اپنے قریبی آئیسکو سینٹر میں جا کر اس کا ازالہ کروا سکتا ہے۔‘
اردو نیوز نے اس معاملے کو مزید سمجھنے کے لیے کراچی میں مقیم انرجی کے ماہر انیل ممتاز سے بھی گفتگو کی۔
انیل ممتاز نے اردو نیوز کے فراہم کیے گئے مذکورہ بجلی کے بل کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ ان کی ماہرانہ رائے میں صارف کو ایک ایسٹی میٹڈ بل بھیجا گیا ہے، یعنی اصل ریڈنگ کے بجائے اندازے کی بنیاد پر بلنگ کی گئی، جس کے باعث بل غیر معمولی حد تک زیادہ آ گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’بل کا بغور جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں کچھ یونٹس پیک آور جبکہ کچھ نان پیک آور کی مد میں دکھائے گئے ہیں، تاہم بل کے آخر میں واضح طور پر درج ہے کہ یہ ایک ایسٹی میٹڈ بل ہے۔‘
ان کے مطابق بجلی کے شعبے میں اس طرح کی بلنگ کو غیرقانونی تصور کیا جاتا ہے، اور اسی وجہ سے صارف کو زیادہ بل موصول ہوا۔
انیل ممتاز کے مطابق اگر صارف اس بل کے خلاف متعلقہ فورم پر شکایت درج کراتا ہے تو متعلقہ سیکشن 74 کے تحت اس بلنگ کو غیر قانونی قرار دیا جا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق گرمیوں کے مقابلے میں سردیوں میں صارفین پیک آور اور نان پیک آور یونٹس کے استعمال پر کم توجہ دیتے ہیں (فوٹوـ اے ایف پی)

انہوں نے مزید بتایا کہ ’پنجاب، اسلام آباد اور بالائی علاقوں میں سردیوں کے دوران بجلی کی کھپت عموماً کم ہو جاتی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’تاہم کئی صارفین اس دوران بجلی سے چلنے والے ہیٹرز کا استعمال شروع کر دیتے ہیں، جس سے بلوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں، بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں صارفین کو اکثر غلط بل بھی بھیج دیتی ہیں۔‘
ماہرین کے مطابق گرمیوں کے مقابلے میں سردیوں میں صارفین پیک آور اور نان پیک آور یونٹس کے استعمال پر کم توجہ دیتے ہیں۔
بعض صارفین یہ سمجھ لیتے ہیں کہ سردیوں میں بجلی نسبتاً سستی ہوتی ہے، حالانکہ ان یونٹس کی قیمت اور حساب میں کوئی فرق نہیں آتا۔ بجلی اگر احتیاط سے استعمال نہ کی جائے تو سردیوں میں بھی بل غیر معمولی حد تک بڑھ سکتے ہیں۔

 

شیئر: