Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عوام جوش میں نعرے لگابیٹھتے ہیں،حقائق کو نہیں سمجھتے

 تسنیم امجد۔ریاض
وطن عزیزمیں سیاسی محاذ آ رائیوں کے باعث فضا اس قدر مکدر ہو چکی ہے کہ محبان وطن کا سانس لینا دو بھر ہوگیا ہے۔ سیاسی رسہ کشی اور ماراماری میں سیاستدانو ں کا توکوئی نقصان نہیں ہو رہا کیو نکہ وہ توان کا مشغلہ ہے البتہ عوام بری طر ح پس رہے ہیں۔ وہ جوش میں آ کر نعرے تو لگابیٹھتے ہیںلیکن حقائق کو نہیں سمجھتے ۔یہ وتیرہ انہوں نے کوئی ایک ،ڈیڑھ دہائی سے ہی اپنایا ہے ۔اس سے پہلے زندگی اتنی بے ہنگم نہ تھی ۔نہ دھرنے ہوتے تھے اور نہ ہی جلسے جلو سو ں کی بھر مار تھی ۔شاید میڈیا کی وجہ سے ہررونما ہو نے والے وا قعے کا عوام تک پہنچنا ضروری ہو چکا ہے ۔اس نے مثبت و منفی ،دونوں رنگ چھو ڑے ہیں ۔
ہمارا ماضی بہت خو بصورت تھا ۔ٹرین پر سفر کرنے کا پروگرام بنتا تو ہم کزنزخوشی سے پھولے نہ سماتے۔اماں راستے بھرکے لئے مزے مزے کے پکوان تیار کرتیں ۔ابا ایک خصو صی بوگی پہلے سے بک کرا لیتے ۔یو ں لگتا تھا کہ وی وی آ ئی پی ہم ہی ہیں ۔کھڑکی کے پاس سیٹ لینے کی ہماری ضد ہو تی کیو نکہ ہمیں راستے کے منا ظر اور اسٹیشنو ں کی گہما گہمی بہت بھا تی تھی ۔کوپا بک ہو تا تو اما ں پڑوسی کوپے والے کو بھی کھانا بھجوا تیں ۔ایسے سفر عید سے کم نہیںتھے ۔تعلیمی مرا حل بھی بخوبی گز رے ۔یو نیورسٹی کی کو ایجو کیشن یعنی مخلوط تعلیم کے دوران بھی والدین کو کوئی ٹینشن نہ دی ۔عفتیں سا نجھی سمجھیں جاتیں تھیں ۔ا حساسِ ذمہ داری خوب تھا ۔
دھنک کے صفحے پر دی گئی تصویر کسی طور بھی کسی منظم معاشرے کی نہیں لگتی ۔کم سے کم ایسی درسگا ہ کا ہی ا حترام ملحوظِ خا طر رکھا جائے جو تا ریخی نو عیت کی ہے ۔ایم اے او کالج کی تکمیل کن کن مرا حل سے گزری تھی،تاریخ کے اوراق میں سب محفوظ ہے ۔ما ضی کے لیڈ رو ں نے کس طر ح، کیسے کیسے مسا ئل جھیل کر ہماری راہیں سہل کیں ۔سرسید ا حمد خان کی ”مٹھی بھر آ ٹا“ درخواست ہمارے لئے رہنما ئی
فراہم کرتی ہے ۔اس گھر گھر مٹھی بھر آ ٹے سے ملنے والی مدد نے انہیں بڑے بڑے مقا صد میں کا میا بی دلائی ۔جذ بوں میں سچا ئی ہو تو منزلیں خود قدم بوسی کرنے آجاتی ہیں۔آج ہم جن حالات سے دو چار ہیں ان کے لئے شاعر نے بجا کہاہے کہ:
دیپ جس کا محلات میں ہی جلے 
چند لو گو ں کی خو شیو ں کو لے کر جلے 
وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے
ایسے دستور کو ، صبح بے نور کو 
میں نہیں ما نتا ، میں نہیں ما نتا
سڑ کو ں پر کھلے گٹر شہرو ں میں عام دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ان کا پرسانِ حال کو ئی نہیں ۔اگر کسی شہری کو ا حساس ہو جائے تو وہ کسی نہ کسی طریقے کواپنا کر اس خطرے سے با قی لوگوں کو آ گاہ کر نے کی کو شش کر تا ہے ۔کبھی با نس کھڑا کر کے اس پر کو ئی کترن یا چیتھڑا لہرا دیا جاتا ہے اور کبھی ویگن کا ٹا ئر رکھ کر اپنے حصے کا دیا جلانے کی کو شش کی جا تی ہے ۔دھنک کے صفحے پر دی گئی تصویر تو فٹ پاتھ کی ٹوٹ پھوٹ کا نظارہ اسی انداز میں پیش کر رہی ہے جیسے گٹر بغیر ڈھکن کے ۔اس میں ہو نے والے حاد ثے کی نو عیت یکسا ں ہی ہے ۔کبھی کسی طا لبہ کا پا ﺅ ں اس پر پڑ گیا تو اس کے نتےجے کا کون ذمہ دار ہو گا ؟ 
صا حبانِ ا ختیار کو یہ ا حساس ہو نا چا ہئے کی عوام کو سہو لتو ں کی فرا ہمی بنیا دی حقوق کا اہم حصہ ہے ۔پاکستان، اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ہے۔آزادی کے حصول کا مقصد ہی یہ تھا کہ اسلام کے اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی ہو ۔ ہمارے دین نے احترامِ آ دمیت کو کس قدر اہمیت دی ہے اس کا احساس ہو جائے تو شاید ضمیر جاگ جائیں ۔ہمارے بنیادی حقوق کے چا ر ٹر کو دوسرے مذاہب نے اپنے لئے پسند کیا اور جاری کیا۔ افسوس تو یہ ہے کہ ہمیں اپنی تر جیحات مر تب کرنا ہی نہیں آ تیں ۔جن ذمہ دارو ں کو فرا ئض سونپے جاتے ہیں شاید ان میں ایسے بھی ہوتے ہیں جو کسی قسم کی قوتِ فیصلہ سے عاری ہو تے ہیں۔ اسی لئے وہ اپنے ہی شروع کردہ منصوبے باہمی چپقلش کی نذر کر ڈالتے ہیں، یہ سو چے بغیر کہ ملک کی تر جیحات کیا ہیں؟ 
منصو بو ں کے لئے مختص بجٹ اگر اسی مد میں لگا یا جائے تو بہترین بتائج سامنے آ سکتے ہیںلیکن کر تا دھرتا ﺅ ں کے رویے تو یہ ہیں کہ اختیارات ملنا ہی ان کے لئے کا فی ہے۔ کرسی کے تلذذ میں وہ ہر قسم کی جوا ب دہی بھو ل جاتے ہیں ۔ان کی اس بے اعتنائی نے عوام کا جینا دو بھر کر رکھا ہے ۔اسی وجہ سے بحیثیت قوم ہماری شنا خت مو ہوم ہو تی جا رہی ہے ۔ہم اس ہجوم کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں جس کی کو ئی سمت یا منزل نہ ہو ۔ذہنی تناﺅ کی وجہ سے بیما ریا ں بڑھ رہیں ہیں جبکہ ما ضی قریب میں اتنی بیماریا ں نہیں تھیں ۔آج سرطان کو ہی دیکھئے ، کتنا عام ہو چکا ہے ۔
کیا اس سے پہلے ایسے تھا ؟ گھریلو جھگڑے ،خود کشی اور قتل کی وار دا تو ں میں ا ضا فہ لمحہ¿ فکر یہ ہے ۔کیا کیا لکھیں اور کس کس کا ذکر کریں۔دلکے پھپھولے پھوڑنے کے لئے دفتر کے دفتر درکار ہیں ۔ہمیں اپنے ما ضی پر فخر اور حال پر رونا آ تا ہے کیو نکہ ہم تو وہ قوم ہیں جس کی تہذیب سے دوسروں نے سیکھا ۔دنیا میں بودو باش کے معیا ری اندازکیا ہیں، ہمارے آ باءنے اقوام کو سکھا یا ۔دوسری اقوام اسی کو شش میں رہتی تھیں کہ ان معیارات کو کس طر ح مستعار لیا جا ئے اور ان کی طرح مثالی بنا جا ئے ۔ کا ش ہمارے ذمہ داروں کو اس حقیقت کا ادراک ہو جائے کہ:
 عدل و انصاف فقط حشر پہ مو قوف نہیں 
زندگی خود بھی گنا ہو ں کی سزا دیتی ہے 
وطن ان مسا ئل کے حل کے لئے ہم سے ا خوت و ایثار کا مطا لبہ کر رہا ہے ۔دینِ اسلام وضاحت کرتا ہے کہ ہر انسان انفرادی طور پر اللہ کریم کے سامنے جواب دہ ہے ۔انفرادی محاسبہ درکار ہے ۔اگر ایسا ہو جائے تو شا ید قوانین کی بھی ضرورت نہ رہے ۔ہمارے رویے دوسروںکے لئے بھی وہی ہو ں جو اپنے لئے ہیںورنہ سچ یہ ہے کہ تضاد نے ہماری شبیہ متاثر کی ہے ۔ایسے کہ:
ڈھو نڈتا پھرتا ہو ں اے اقبال اپنے آ پ کو
آپ ہی گو یا مسافر ، آپ ہی منزل ہو ں میں
حکومت کو آمدو رفت کے ذرا ئع پر خصوصی تو جہ دینی چا ہئے۔ا حتساب کا عمل تیز اور فوری ہو نا چا ہئے تاکہ استبدا د کا خا تمہ ہو ۔تر قی یا
فتہ اقوام کا جا ئزہ لینا ضروری ہے اور کچھ نہیں تو اپنے دوست اور ہمسایہ ملک چین کو ہی دیکھ لیںجس نے ہمارے قائد کے قول ،کام ،کام اور کام پر عمل پیرا ہو کر کس قدر تر قی کر لی ۔ وہا ں حکو متی معاملات میں د ھا ندلی کرنے والے کو سزائے موت دے دی جاتی ہے ۔کسی قسم کی سفارش نہیں چلتی ۔
ہمارے ہاں افسر شاہی کی لمبی تاریخ کا ایسا بیج بو یا گیا ہے کہ اس کو جڑ سے نکا لنا مشکل ہو چکا ہے ۔یہ ہندو ستان میں برطانوی سامراج کی آ مد سے شروع ہو ئی تھی ۔ مو جو دہ حالات میں سیاسی جما عتیں افسر شاہی کو مضبوط کرنے میں پیش پیش ہیں ۔عوامی رابطے تو انتخاب تک رہتے ہیں اس کے بعد یہ انتظامیہ کو فا ئدے پہنچا کر ان سے اپنی مر ضی کے قوانین پاس کراتے ہیں ۔ ان رویو ں پر معروف وکلاءکا تبصرہ کچھ اس طر ح ہے کہ :
” بیو رو کریسی اس ما ئع کی طرح ہے جو ہمیشہ ڈھلوان کی جا نب بہتی ہے ۔یہی زوال اس کا عروج بن جا تا ہے۔“
 

شیئر: