Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

گجرات میں ’مسجد کا گھوڑا‘ ٹک ٹاک پر وائرل کیوں ہے؟

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع گجرات میں آج کل ’مسجد کا گھوڑا‘ زبانِ زدِ عام ہے۔
’مسجد کا گھوڑا‘ سننے میں عجیب ضرور لگتا ہے، لیکن یہ حقیقت ہے کہ گجرات کی ایک زیرِ تعمیر مسجد ایک گھوڑے کی مالک ہے۔ اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ مسجد کا یہ گھوڑا فروخت کے لیے دستیاب ہے، لیکن کئی روز گزر جانے کے باوجود کوئی خریدار سامنے نہیں آیا۔
اس کے باعث مسجد کمیٹی کے چیئرمین اور امام مسجد ہمہ وقت گھوڑے کی دیکھ بھال پر مامور ہیں اور اس کی ضروریات پوری کرنے میں مصروف ہیں۔
معاملہ کچھ یوں ہے کہ گجرات کے ایک گاؤں سعود شریف میں زیرِ تعمیر مسجد کے لیے مقامی کمیٹی کے چیئرمین کو چندہ جمع کرنے کا ایک انوکھا طریقہ سوجھا۔ انہوں نے روایتی چندہ اپیل کے بجائے مسجد کے نام سے ایک ٹک ٹاک اکاؤنٹ بنایا اور اوورسیز پاکستانیوں سے چندے کی اپیل شروع کر دی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ان کا انداز وائرل ہو گیا۔
وہ مسجد کی تعمیر کا کام دکھاتے اور اپنے مخصوص انداز میں مخاطب ہوتے، ’اچھا بھائی ایمان آلیو، نیسا کہ تسی ویکھ سکدے او،‘ اور پھر اصل مدعا بیان کرتے۔ اس دوران کبھی کبھار شعر و شاعری کا سہارا بھی لیتے۔ اس انداز نے لوگوں کو متوجہ کیا اور مسجد کے لیے مختلف شخصیات اور مختلف ممالک سے عطیات موصول ہونے لگے، جس سے مسجد کا تعمیراتی کام بھی آگے بڑھنے لگا۔
اسی دوران گزشتہ ہفتے ایک اوورسیز خاندان نے مسجد کو ایک گھوڑا عطیہ کر دیا۔ پنجاب کے دیہات میں گائے یا بھینس مسجد کو عطیہ کرنے کی روایت صدیوں پرانی ہے، جو عموماً ایصالِ ثواب یا صدقے کے طور پر دی جاتی ہے۔ مسجد کے لاؤڈ اسپیکر پر اس عطیے کا اعلان کیا جاتا ہے اور مقامی آبادی کو دعوت دی جاتی ہے کہ جو جانور خریدنا چاہے وہ بولی دے سکتا ہے۔ بعض اوقات یہ بولی کئی دنوں تک جاری رہتی ہے اور جو سب سے زیادہ بولی لگاتا ہے، وہ رقم مسجد کمیٹی یا امام کو ادا کر کے جانور لے جاتا ہے۔
لیکن شاید یہ پہلا موقع تھا کہ کسی نے مسجد کو گھوڑا عطیہ کیا۔ معاملہ اس لیے بھی مختلف تھا کہ گھوڑا عطیہ کرنے والے شخص نے، جو قریبی گاؤں سے تعلق رکھتے ہیں، باقاعدہ اعلان کرنے کے بجائے گھوڑا اپنے گھر سے کھول کر مسجد کے دروازے پر باندھ دیا اور مسجد کمیٹی کے چیئرمین اور ٹک ٹاکر حاجی نواز کو آگاہ کر دیا۔
اس کے بعد حاجی نواز نے اپنے منفرد انداز میں اعلان کیا اور لوگوں سے کہا کہ وہ گھوڑے پر بولی لگائیں اور خرید کر لے جائیں۔
گجرات میں گھوڑوں کے شوقین افراد کی بڑی تعداد موجود ہے اور کئی افراد کے پاس ایک سے زیادہ گھوڑے ہیں، اس لیے توقع تھی کہ مسجد کا یہ گھوڑا چند گھنٹوں میں مہنگے داموں فروخت ہو جائے گا۔ تاہم ایسا نہ ہو سکا۔
البتہ گھوڑا دیکھنے کے لیے دور دراز علاقوں سے لوگ آنے لگے۔
اس دوران حاجی نواز نے ایک طنزیہ ویڈیو بھی بنائی، جس میں انہوں نے کہا کہ اب انہیں گھوڑا پالنا پڑ رہا ہے، جس کے لیے لگام اور خوراک کا انتظام بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ اب وہ خود اور مسجد کے امام گھوڑے کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کسی نے کاٹھی اور سانگ (نیزہ) کا بندوبست کر دیا تو وہ گھوڑے کو نیزہ بازی کے مقابلوں میں دوڑانا شروع کر دیں گے۔
یہ ویڈیو اپ لوڈ ہونے کے اگلے ہی دن پڑوسی ضلع منڈی بہاؤالدین سے کسی نے کاٹھی اور لگام عطیہ کر دی، جس سے حاجی نواز کی ذمہ داری مزید بڑھ گئی۔
اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے حاجی نواز نے بتایا کہ گھوڑا عطیہ کرنے والے شخص نے کسی وجہ سے گھوڑا اپنے گھر سے کھول کر مسجد کے دروازے پر باندھ دیا۔
’میرے پاس تو بکری بھی نہیں تھی اور مسجد کے امام بھی ان کاموں سے بالکل ناآشنا ہیں۔ اب ہم دونوں دن رات گھوڑے کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔ دور دور سے لوگ آتے ہیں، مگر بولی لگانے کے بجائے مشورہ دے کر چلے جاتے ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ پہلے دن مشورہ ملا کہ لگام ہونی چاہیے، تو دو ہزار روپے کی لگام لے آئے۔ دوسرے دن کسی نے کہا کہ گھوڑے کی پچھلی ٹانگیں بھی باندھی جاتی ہیں، اس کے لیے پچھاڑیاں خریدنی پڑیں۔ تیسرے دن ایک شخص نے کہا کہ گھوڑا جسمانی طور پر کمزور لگ رہا ہے اور اسے روزانہ دو سے تین بوتل سرسوں کا تیل چارے کے ساتھ دینا چاہیے، جس کے بعد تیل بھی خریدنا پڑا۔
ان کے مطابق، ان کی حالت دیکھ کر اب لوگ چارے کے لیے بھی عطیات دینے لگے ہیں۔
دورانِ گفتگو حاجی نواز نے زور دے کر کہا، ’آپ کو میری باتیں مذاق لگ رہی ہوں گی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کل میں اور مسجد کے امام نے گھوڑے کے جسم پر کھرکنا بھی کیا تاکہ اس کے فالتو بال اتر جائیں اور وہ خوبصورت نظر آئے۔‘
آخر میں حاجی نواز نے ملک بھر کے گھوڑوں کے شوقین افراد سے اپیل کی کہ وہ گھوڑے پر بولی لگائیں، رقم ادا کریں اور گھوڑا لے جائیں۔ ’یہ ایک برکت والا گھوڑا ہے، اور اگر آپ چاہیں تو اس کا نام بھی ’برکت‘ رکھ سکتے ہیں۔‘

شیئر: