لاہور میں کئی برس بعد بسنت کی واپسی نے صرف لاہور کو ہی نہیں بلکہ ملک کے دیگر بڑے شہروں، خصوصاً کراچی کو بھی اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔
لاہور میں موسمِ بہار کی آمد کے ساتھ ہی بسنت کی تیاریوں نے ماضی کی یادیں تازہ کر دی ہیں اور شہریوں کے چہرے خوشی سے دمک رہے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ کراچی سے لاہور جانے والے مسافروں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کا اثر فضائی، ریل اور زمینی سفر تینوں پر واضح ہے۔
مزید پڑھیں
-
’دل ہوا بو کاٹا‘: وہ گانے جن کے بغیر بسنت ادھوری سمجھی جاتی تھیNode ID: 900229
بسنت جو کبھی لاہور کی شناخت سمجھی جاتی تھی، طویل عرصے تک پابندی کا شکار رہی۔ تاہم اس بار اس تہوار کی بحالی نے نہ صرف لاہوریوں بلکہ دیگر شہروں کے باسیوں میں بھی ایک نیا جوش پیدا کر دیا ہے۔
کراچی کے باسی، جو عام طور پر سمندر، روشنیوں اور اپنی تیز رفتار زندگی سے پہچانے جاتے ہیں، اس موقع پر لاہور کی چھتوں، پتنگوں اور رنگوں کی طرف کھنچے چلے آ رہے ہیں۔
فضائی سفر، مانگ کے ساتھ بڑھتے دام
کراچی سے لاہور کے درمیان فضائی سفر اس وقت شدید دباؤ میں ہے۔ بسنت کے باعث مسافروں میں اضافے نے ہوائی ٹکٹوں کی قیمتوں کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیا ہے۔ مختلف ایئر لائنز کی جانب سے کراچی سے لاہور کے یک طرفہ فضائی سفر کا کرایہ 45 ہزار سے لے کر 60 ہزار روپے تک رپورٹ کیا جا رہا ہے۔
ٹریول ایجنٹ محمد حسن کے مطابق یہ اضافہ صرف چند مخصوص دنوں تک محدود نہیں بلکہ بسنت سے قبل اور بعد کے دنوں میں بھی جاری ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ہمیں روزانہ بڑی تعداد میں لوگ فون کر رہے ہیں۔ بیشتر افراد کرایوں میں اضافے پر حیرت اور ناراضی کا اظہار کرتے ہیں، مگر اس کے باوجود ٹکٹ بک کروانے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔‘

محمد حسن کے مطابق آن لائن بکنگ پلیٹ فارمز اور ٹریول ایجنٹس دونوں ایک جیسے ریٹس دے رہے ہیں، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ قیمتوں میں اضافہ مجموعی مانگ کی وجہ سے ہے۔
وہ کہتے ہے کہ ’بسنت کے دنوں میں لاہور پہنچنا لوگوں کے لیے محض ایک سفر نہیں، بلکہ اس سے بڑھ کر ہے۔‘
پاکستان میں طویل فاصلے کے سفر کے لیے ریل کو اب بھی بالخصوص کراچی اور لاہور کے درمیان ایک قابل اعتماد ذریعہ سمجھا جاتا ہے، تاہم بسنت کے موقع پر ریل کا سفر اختیار کرنا آسان نہیں رہا۔
ریلوے ذرائع کے مطابق کراچی سے لاہور جانے والی تقریباً تمام بڑی ٹرینوں میں ٹکٹ بک ہیں۔ اس صورتِ حال نے کئی مسافروں کو متبادل سفری ذرائع تلاش کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
لاہور میں مقیم محمد فاروق بتاتے ہیں کہ ’ان کے کئی دوست کراچی سے لاہور بسنت پر آنا چاہتے تھے مگر ٹرین کی ٹکٹیں نہ ملنے کے باعث منصوبہ بدلنا پڑا۔‘
بس سروسز، رش کے ساتھ شکایات
کراچی سے لاہور بس کے ذریعے سفر کرنے والوں کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ مختلف بس کمپنیوں نے اضافی سروسز فراہم کرنے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم مسافروں کی جانب سے کرایوں میں اضافے اور غیر معمولی چارجز کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔

مسافروں کا کہنا ہے کہ عام دنوں میں جو کرایہ نسبتا کم ہوتا ہے، وہ بسنت کے موقع پر نمایاں طور پر بڑھا دیا گیا ہے۔
کچھ مسافروں کے مطابق بس سروسز معمول کے شیڈول سے ہٹ کر اضافی رقم طلب کر رہی ہیں۔
ذاتی گاڑی کا انتخاب
سفر کے ان تمام مسائل کے درمیان کچھ افراد نے اپنا راستہ خود بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کراچی کے پانچ دوست فرحان محمود، عمیر اقبال، شعیب شبیر، سلیم احمد اور سلمان محمود ذاتی گاڑی پر لاہور کے لیے روانہ ہو رہے ہیں۔
ان دوستوں کا کہنا ہے کہ وہ کئی برس بعد ’لاہور میں بسنت کی بحالی کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم نے ہوائی سفر کا سوچا تھا، مگر کرایے بہت زیادہ تھے۔ ٹرین کی ٹکٹیں بھی نہیں مل سکیں، اس لیے بائے روڈ جانے کا فیصلہ کیا۔‘
سلمان محمود کہتے ہیں کہ ’یہ سفر خود بھی ایک یادگار تجربہ ہوگا۔ راستہ طویل ہے، مگر دوست ساتھ ہوں تو سفر تھکا دینے والا نہیں لگتا۔ بسنت کے لیے لاہور جانا ہمارے لیے ایک جذباتی فیصلہ ہے۔‘
لاہور کی فضا، تیاری، انتظار اور یادیں













