Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بے جا روک ٹوک بچے کو ضدی اور بدمزاج بنا دیتی ہے

بے جا روک ٹوک  اور بات بات پر ڈانٹ ڈپٹ بچے کو ضدی اور چڑچڑا بنا دیتی ہے ۔ اکثر  والدین اپنے بچوں کے ساتھ  نہایت سختی سے پیش آتے ہیں اور انہیں بات بے بات ٹوکتے رہتے ہیں ۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ بچے کو سختی سے روکنا اس کے حق میں بہتر ہے لیکن درحقیقت یہ بچے کے معصوم ذہن پر بہت منفی اثرات چھوڑتا ہے ۔ اس قسم کے رویے بچوں کو شدت پسند اور بد مزاج بنا دیتے ہیں ۔ بلاوجہ سختی برداشت کرنے والے بچے بڑے ہوکر احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ ان کے اندر سے خود اعتمادی ختم ہو جاتی ہے  . وہ مشکلات سے ٹکرانے اور مضبوط فیصلے لینے کا حوصلہ اپنے اندر نہیں پاتے ۔ انہیں ہر قدم پر یہ خوف لاحق رہتا ہے کہ وہ کچھ غلط کر رہے ہیں ۔ خوداعتمادی کا یہ فقدان کے مستقبل کو تباہ و  برباد کر کے رکھ دیتا ہے ۔
 لہذا والدین کو چاہیے کہ بچوں کے ساتھ مثبت طرز عمل اپنائیں  ۔ بچوں سے غلطی ہو جانے کی صورت میں ان پر چیخنے چلانے کے بجائے نرمی سے اس غلطی کا ازالہ کریں ۔ اگر بچے شرارتی ہیں تو انہیں مختلف قسم کی سرگرمیوں میں مصروف رکھیں اور ان کی چھوٹی چھوٹی کامیابیوں کو بھرپور طریقے سے سراہیں ۔ اپنے اور بچوں کے درمیان اعتماد کا رشتہ قائم کریں  تاکہ وہ اپنی ہر چھوٹی سے چھوٹی بات بھی والدین کے ساتھ شئیر کر سکے ۔ والدین  سے بڑھ کر بچوں کے لیے کوئی رشتہ مخلص نہیں ہو سکتا لہذا  والدین کو چاہیے کہ اس انمول رشتے کو بااعتماد بنانے کے لیے بچوں کے ساتھ دوستانہ رویہ اختیار کریں . 

شیئر: