مسلم لیگ کیلئے مشکلات بڑھ گئیں

صلاح الدین   حیدر ۔بیوروچیف،کراچی
     شریف خاندان کے مستقبل کے بارے میں روز نئے سوالا ت جنم لیتے ہیں۔پچھلے2سال سے سابق وزیرا عظم پریشانیوں میں گھرے ہوئے تھے۔پانامہ لیکس کے مقدمات ، جے آئی ٹی میں حاضری ، عدالت عظمیٰ سے عہدے اور پارٹی کی صدارت سے نااہلی، ایک کے بعد ایک الزامات ، وضاحتیں ، پرسب کچھ بے کار۔ ہاں ایک فائدہ جو کہ نواز شریف کو تقویت پہنچا سکتاہے،وہ ہے وزارت ِ عظمیٰ سے ہٹنے کے بعدان کی مقبولیت میں اضافہ ہی نہیں ہوا بلکہ مریم نواز کی صورت میں ایک نیا لیڈر مل گیا۔ اسے کہتے ہیں ’’  Blessing in disguise  ‘‘۔رحمت جو چھپرپھاڑ کے گود میں آگری، ہر بات پر تنقید کرنا بھی مناسب نہیں ہوگا۔ نواز شریف اور مریم نے برے وقتوں میں ہمت اور بہادری سے کام لیا جو کہ قابل تعریف ہے۔راقم الحروف جب یہ سطریں لکھ رہا تھا، باپ بیٹی ہوائی جہاز میں سوار جانب لندن رواں دواں تھے۔ ہمت مرداں  مدد خدا ۔ یہ صحیح ہے کہ مفاہمت کے بجائے انہوںنے عدلیہ سے ٹکراؤ کا راستہ اختیار کیا جس پر انہیں پشیمانی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ جہاں پارٹی  ان کے ساتھ کھڑی رہی، وہیں بہت سارے طبقات سے جس میں دانشور بھی شامل تھے  تنقیدی جملوں اور سیاسی تنقید بھی برداشت کرنا پڑی۔ اکثر و بیشتر مبصرین، تجزیہ نگار ، وکلاء  نے انہیں نجانے کن کن القاب سے نوازا ۔سیاسی مخالفین سے تو خیر کوئی اور توقع تھی ہی نہیں۔سیاست میں آپ کی ذات اور پالیسوں پر حملے تو ہوتے ہی رہتے ہیں لیکن اگر عوام کے دوسرے طبقات سے حملے ہوئے تو پھر اس سے بچنا چاہیے، جسے باپ بیٹی نے یکسر رد کردیا۔
    2نقطہ نظر کثرت اور تسلسل سے سامنے آتے رہے ۔پہلے تو یہ کہ جس طرح سے نیب اور جے آئی ٹی نے ان کا کیس سپریم کورٹ میں پیش کیا  اور جس طرح کے ثبوت انکی بے تحاشہ دولت کے بارے میں پیش کئے گئے،ان سے سوائے ان کی اپنی پارٹی کے چنیدہ لوگوں کے  عام خیال یہی ہے کہ چند ہفتوں کے بعد وہ اور ا نکی بیٹی بھی جیل کی کال کوٹھری میں ہونگے۔نواز شریف کا پہلے والا نعرہ مجھے کیوں نکالا کی شدت تو اب نہ ہونے کے برابر ہے، شاید کچھ معا صرساتھیوں نے سمجھایا ہو کہ وہ ایک حد سے زیادہ آگے نہ جائیں، ریڈ لائن کا خیال رکھیں  ورنہ نتیجہ انکے حق میں اچھا نہیں ہوگا۔نواز ، مریم اور دونوں بیٹے حسن اور حسین  بلکہ کلثوم تک خود ہی ذمہ دار ہیں۔ ایک سیدھے  معاملے کو اس قدر الجھانے میں کہ ان کے مستقبل کے بارے میں شدید شکوک وشبہات ظاہر کئے جارہے ہیں۔اگر تحریک انصاف کے بانی عمران خان ،عوامی مسلم لیگ اور نوازشریف کے ماضی کے ساتھی شیخ رشید ، علامہ طاہرالقادری نے ان کے خلاف محاذ کھول رکھا ہے تو بڑی حد تک کابینہ کے وزیر خاص طور پر خواجہ آصف، مریم اورنگزیب، خواجہ سعد رفیق، دانیال عزیز، طلال چوہدری وغیرہ بھی  بہت بڑی حد تک ان کی مشکلات میں اضافہ کا باعث بنے۔ بڑے بزرگ کہتے ہیں کہ خوشامدیوں سے بچو مگر اسکا کیا کیا جائے کہ نواز اور مریم  انہی خوشامدیوں کے نرغے میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں  تو پھر یہ ’آبیل مجھے مار ‘کی مثال ہوگئی۔ آپ خود  اپنے پیروں میں کلہاڑی مارنا چاہتے ہوں تو کوئی کیا کرسکتاہے؟
    صرف چند روز پہلے ایک سنسنی خیز خبر ٹیلی وژن اور اخبارات کی زینت بنی کہ لاہور ہائی کورٹ نے نواز ، مریم ، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور 16 دیگر لوگوں کی عدلیہ کیخلاف تقاریر پر پابندی عائد کردی ہے اور ٹیلی وژن کے معاملات کو دیکھنے والے قومی ادارے، پیمرا کو حکم دیا کہ ایسی تمام تقاریر کی نشرو اشاعت پر 15 دن تک پابندی لگا دی جائے۔ اس پر بہت سارے صحافیوں ، پیپلز پارٹی کے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں صف اوّل کے لیڈران خورشید شاہ ، بیرسٹر اعترازاحسن، شیری رحمان، حامد میر، زاہد حسین اورکئی ایک حضرات نے شدید تنقید کی کہ ہائی کورٹ کا فیصلہ آزادی صحافت پر حملہ ہے اور پھر کس پیمانے کے تحت پیمرا تقاریر کی حدو د متعین کریگا۔ تنقید کی شدت دیکھ کر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے از خود نوٹس لیتے ہوئے کیس اپنے سامنے منگوا لیا۔ نواز شریف اور مریم نواز کو بذات خود  وکلا کے ذریعے حاضری کا نوٹس جاری کرد یا۔ پہلی ہی پیشی پر چیف جسٹس نے یہ کہہ کر کہ  ہائی کورٹ نے کہیں بھی پابندی کا ذکر نہیں کیا، مقدمہ خارج کردیا۔ نواز اور مریم نواز کو اجازت دی کہ آپ تقاریر جاری رکھیں، کوئی قدغن نہیں ۔ہائی کورٹ کے فیصلے کو شاید بغیر پڑھے خبر بنا دیا گیا،لیکن صحافی حضرات اور ٹی وی اینکر پیشہ ور لوگ ہوتے ہیں، یہ ایسی غلطی نہیں کرسکتے۔ ظاہر ہے کہ ہائی کورٹ کا فیصلہ کہیں اور سے لکھوایا گیا۔ اکثر لوگوں نے اس کی ذمہ داری مریم نواز پر ڈالی، جو کہ سپریم کورٹ میں بیٹھ کر چنیدہ صحافیوں کو لکھ کر دیتی رہی تھیں کہ عدالت کی اس بات کی خاص طور پر تشہیر کریں۔ چیف جسٹس نے بھی اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ بیشتر کورٹ رپورٹر غلط رپورٹنگ نہیں کرتے، یہ خبر جان بوجھ کر پھیلائی گئی اور اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ تفتیش کر کے بتائیں کہ کس نے ایسی مذموم حرکت کی ہے۔اگر مریم اورنگزیب زد میں آتی ہیں تو تعجب نہیں ہوناچاہئے۔
    اس سے پہلے احتسابی عدالت  جو پہلے ہی حاضری سے استثنا کی درخواست کو رد کرچکی تھی، اس مرتبہ نرم رویہ دیکھتے ہوئے مریم اور والد کو استثنادے دیا   اور  دونوں پہلی فرصت میں کلثوم نواز جو کہ لندن میں موذی مرض کے علاج کی غرض سے کافی عرصے سے مقیم ہیں، کی عیادت کے لیے لندن روانہ ہوگئے، ظاہر ہے بیوی اور ماں کو ایسے برے وقت میں کون چھوڑ سکتاہے؟ احتساب عدالت نے صحیح فیصلہ کیا ،انسانی ہمدردی بھی آخر کوئی چیز ہوتی ہے، اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔کلثوم شدید علیل ہیں، قوم ان کی صحت یابی کیلئے دعا گو ہے۔
    کسی حد تک تو نواز شریف خوش قسمت انسان ہیں،لیکن انا پرستی ان کے لیے سم قاتل سے کم نہیں۔مریم بھی کچھ زیادہ ضدی ہیں، روک سکو تو روک لو ان کا تکیہ کلام ہے لیکن زیادہ انا پرستی کا خمیازہ بھگتنا ہی پڑے گا۔ فطرت  اپنے قانون پر سختی سے عمل پیرا رہتی ہے، اس میں کسی طرح کا ردوبدل نہیں ہوتا۔شیخ رشید کی پیش گوئی کہ نواز کو سزا ہوتے ہی پارٹی کا شیرازہ بکھر جائے گا میں تھوڑی بہت صداقت  ضرور ہے۔ (ن) لیگ ختم تو نہیں ہوگی لیکن صدمات سے دوچار ضرور ہونا شروع ہوگئی ہے۔کئی ایک قومی اسمبلی کے ممبران تحریک انصاف ، یا پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں، بلکہ یوں کہیے کہ بہت آگے گئے، باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں۔تقریبا ً   32/35 قومی اسمبلی کے ممبران شاید منحرف ہوجائیں، پھر جنوبی صوبہ محاذ کے قائم ہونے کے بعد 46 قومی اسمبلی کی نشستوں پر (ن) لیگ کومشکلات کا سامنا ہوگا۔ خوشامدیوں نے ایک اور محاذ کھول دیا۔ سابق وزیرا طلاعات جو کہ نواز شریف کے دوسرے دورے حکومت میں ان کے قریبی ساتھی تھے، اور (ق) لیگ میں رہنے کے بعد دوبارہ (ن) لیگ آگھسے،نے اسلام آباد میں ایک سیمینار کیا جس کا عنوان تھا’ ووٹ کا تقدس‘ اس میں نواز شریف نے پچھلے 70 سال کی تاریخ کو دھراتے ہوئے شکوہ کیا کہ  وزرا ئے  اعظم  اور عوام کے منتخب نمائندوں کو ان کا جائز مقام نہیں ملا۔بیرونی قوتیں انہیں بہکاتی رہیں۔سیمینار میں حاصل بزنجو، مولانا فضل الرحمن، محمود خان اچکزائی نے شرکت کی۔ حاصل بزنجو کو ایک ٹیلی وژن اینکر نے اپنے پروگرام میں مدعو کیا لیکن انکی باتیں سن کر وہ پروگرام سے اٹھ کر چلے گئے۔اس پر ظاہر ہے، پی ٹی آئی کے ترجمان فواد چوہدری   اور کئی ایک دوسروں نے شدید تنقید کی کہ جمہوریت ان لوگوں کے نزدیک ایک منافع بخش کاروبار سے زیادہ نہیں۔ اگر ان کے خلاف بات کی جائے تو جمہوریت خطرے میں پڑ جاتی ہے، تو حضور یہ ہے حال  ہماری سیاست کا۔
مزید پڑھیں:- - - -عدالتی فیصلے سے سیاست میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئیگی

شیئر: