پٹیالہ میں ایچیسن کالج لاہور کی یادیں، بٹوارے سے قبل ’دوستی‘ کی کئی کہانیاں زندہ ہو گئیں
پٹیالہ میں ایچیسن کالج لاہور کی یادیں، بٹوارے سے قبل ’دوستی‘ کی کئی کہانیاں زندہ ہو گئیں
بدھ 4 فروری 2026 12:04
ادیب یوسفزئی - اردو نیوز
بٹوارے کے وقت ایچیسن کے بہت سے سکھ اور ہندو طلبہ چلے گئے تھے (فوٹو: ایچیسن کالج)
انڈین پنجاب کے تاریخی شہر پٹیالہ کے ایک سکول میں منعقدہ تقریب(سپیشل اسمبلی) کے دوران بٹوارے سے قبل کی وہ کہانیاں دوبارہ زندہ ہوئیں جن کی جڑیں لاہور میں قائم ایک تعلیمی ادارے سے جا ملتی ہیں۔
گزشتہ روز یدوندرا پبلک سکول (وائی پی ایس) پٹیالہ میں لاہور کے ایچیسن کالج کی 140ویں سالگرہ منانے کے لیے خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ اس تقریب میں 1947 تک ایچیسن میں زیر تعلیم رہنے والے چار سابق طلباء (ایلومینائی) کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا۔
سمرن سنگھ بھدور، کرنل ہریندر سنگھ اٹاری، گروپ کیپٹن جتیندر سنگھ چمنی اور ملوندر سنگھ سدھی وہ چار طلباء تھے جو سنہ 1947 تک ایچیسن میں زیر تعلیم رہے اور اس وقت حیات ہیں۔
پٹیالہ میں لاہور کے ایچیسن کالج کی 140ویں سالگرہ کے لیے منعقدہ اس تقریب میں وائی پی ایس کے طلباء، اساتذہ، سٹاف اور سابقہ طلبہ بھی موجود تھے جبکہ ایچیسن کالج کے اعزازی سفیر ڈاکٹر ترنجیت سنگھ بٹھالیہ بھی حاضرین میں شامل تھے۔
ان کے مطابق ان کے والد، دادا اور پردادا تینوں ایچیسن کالج میں زیر تعلیم رہ چکے ہیں۔ انہوں نے اُردو نیوز کو بتایا کہ ’بٹوارے کے وقت تقریباً 60 فیصد طلباء کو اس پار آنا پڑا۔ جب جنوری 1948 میں ایچیسن میں بچے آئے تو ان کے 60 فیصد دوست جا چکے تھے۔ کئی دوستیاں اچانک ختم ہو گئی تھیں اور تمام سکھ اور ہندو طلبہ انڈیا منتقل ہو گئے تھے۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ پٹیالہ کے مہاراجہ نے ایچیسن کے ان طلبہ کے لیے پٹیالہ پبلک سکول قائم کیا تاکہ وہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔
اس حوالے سے ڈاکٹر ترنجیت سنگھ نے ایک پریس ریلیز بھی شیئر کی جس میں بتایا گیا کہ یدوندرا پبلک سکول(وائی پی ایس) نے لاہور کے ایچیسن کالج کی 140ویں سالگرہ کو خصوصی انداز میں منایا۔
پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ وائی پی ایس پٹیالہ کی جانب سے ایچیسن کی سالگرہ تین فروری کو منائی گئی جبکہ ایچیسن کالج لاہور میں مرکزی تقریبات 13 سے 15 فروری کے درمیان ہوں گی۔
ڈاکٹر ترنجیت سنگھ بٹھالیہ امریکہ کی اوہائیو سٹیٹ یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں (فوٹو: ڈاکٹر ترنجیت سنگھ)
پریس ریلیز کے کے مطابق ’اس وقت ایچیسن کالج میں تقریباً 265 طلبہ زیر تعلیم تھے جن میں سے لگ بھگ 160 سکھ اور ہندو طلباء انڈیا منتقل ہو گئے تھے۔ ان طلبہ کی تعلیم کے تسلسل کے لیے پٹیالہ کے مہاراجہ یدوندرا سنگھ نے اپنا سٹیڈیم عطیہ کیا اور یوں وائی پی ایس کی بنیاد رکھی گئی۔‘
ڈاکٹر ترنجیت سنگھ بٹھالیہ انڈین شہری ہیں اور اس وقت امریکہ کی اوہائیو سٹیٹ یونیورسٹی میں سول انجینیئرنگ کے پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ 2019 میں اپنی جڑوں کی تلاش میں پاکستان آئے تھے اور اس کے بعد کئی بار لاہور کا رخ کر چکے ہیں۔ ان کے خاندان کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے اور ان کے بزرگ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی فوج میں جنرل رہے تھے۔
گزشتہ برس وہ مارچ میں وہ ایچیسن آئے جہاں ایک عشائیے میں ان کی ملاقات اس خاندان کے فرد سے ہوئی جن کے بڑوں نے ان کے والدین کو پناہ دی تھی۔ وہ بتاتے ییں کہ ان کا اس ادارے سے جذباتی رشتہ ہے۔
ایچیسن کالج کو ایک بین الاقوامی تعلیمی ادارہ قرار دیتے ہوئے وہ بتاتے ہیں کہ ’اس ادارے کے سابق طلباء دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔ آج وائی پی ایس میں اس تقریب نے ان یادوں کو تازہ کرنے کا موقع دیا جو وقت اور سرحدوں کے باوجود زندہ ہیں۔ وائی پی ایس کا تعلیمی نظام آج بھی بالکل ایچیسن کی طرح ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں اداروں کو برادرانہ اداروں کی طرح دیکھا جاتا ہے۔‘
چاروں سابق طلبا نے اپنے ماضی کو یاد کرتے ہوئے اپنے دوستوں، اساتذہ اور سکول کی زندگی کا ذکر کیا (فوٹو: ترنجیت سنگھ)
پریس ریلیز کے مطابق ایچیسن کالج کے اس وقت کے پرنسپل رائے بہادر دھنی رام کپیلا کو یدوندرا پبلک سکول کا پہلا ہیڈ ماسٹر مقرر کیا گیا۔ اسی طرح ایچیسن کے استاد اور ہاکی کوچ ہرنام سنگھ بال کو اسسٹنٹ ہیڈ ماسٹر بنایا گیا۔
’ایچیسن کالج سنہ 1886 میں قائم ہوا تھا اور اس کی عمارت کے لیے پٹیالہ کے مہاراجہ نے 50 ہزار روپے عطیہ کیے تھے۔ مہاراجہ بھوپندر سنگھ اور ان کے بیٹے مہاراجہ یدوندرا سنگھ سمیت پٹیالہ کے شاہی خاندان کے تقریباً 20 لڑکوں نے اسی ادارے میں تعلیم حاصل کی۔‘
ڈاکٹر ترنجیت سنگھ بٹھالیہ بتاتے ییں کہ اسی مشترکہ ربط کی بدولت انڈیا میں آج لاہور کے سکول کی سالگرہ منائی گئی۔ ان کے بقول ’دونوں اداروں کے طلباء کی گہری دوستیوں اور تاریخ کی کئی کہانیاں موجود ہیں۔ آج کی تقریب کے دوران چاروں سابق طلباء نے اپنے ماضی کو یاد کرتے ہوئے اپنے دوستوں، اساتذہ اور سکول کی زندگی کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ لاہور سے رخصت ہوتے وقت انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ کبھی واپس آ سکیں گے یا نہیں۔‘
پٹیالہ میں لاہور کے ایچیسن کالج کی 140ویں سالگرہ منانے کے لیے خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا (فوٹو: ترنجیت سنگھ)
تقریب میں ایچیسن کالج لاہور کے موجودہ پرنسپل ڈاکٹر ایس ایم تراب حسین کا ویڈیو بیان بھی دکھایا گیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ وائی پی ایس اور ایچیسن کے درمیان تعلق غیر معمولی نوعیت کا ہے۔ ’یہ دونوں ادارے برادرانہ ہیں اور ان کا مشن بھی ایک ہی ہے۔ بٹوارے کے وقت ایچیسن کے بہت سے سکھ اور ہندو یہاں سے چلے گئے اور پھر واپس نہیں آ سکے۔‘
اپنے اس ویڈیو بیان میں انہوں نے ماضی کی ایک یاد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’1986 میں جب ایچیسن کی صد سالہ تقریبات ہوئیں۔ اس وقت میں بھی طالب علم تھا۔ مجھے یاد ہے تب وائی پی ایس سے بڑی تعداد میں اساتذہ، طلبہ اور ایلومینائی نے لاہور آ کر ہمارے ساتھ یہ دن منایا تھا۔‘
ڈاکٹر تراب حسین نے افسوس کا اظہار کیا کہ حالیہ برسوں میں دونوں ملکوں کے سیاسی حالات کی وجہ سے یہ روابط متاثر ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں امید ہے کہ مستقبل میں ایچیسن اور وائی پی ایس کی نئی نسلوں کو ایک دوسرے سے ملنے اور اس تعلق کو زندہ رکھنے کے مواقع ملیں گے۔