گجرات : 450دلتوں نے بودھ مت قبول کرلیا

احمد آباد ۔۔۔۔گجرات کا اونا کیس ایک مرتبہ پھر موضوع بحث بنا جہاں گئورکشکوں کے ظلم کا شکار ہونے والے نوجوانوں سمیت 450نچلی ذات کے ہندوؤں نے مذہب تبدیل کرکے بودھ مت اختیار کرلیا۔ اس موقع پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے دلت رکن اسمبلی پردیپ پرمار بھی موجود تھے۔ وہ گرسومناتھ ضلع کے موتا سمدھیالا گاؤں میں منعقدہ تقریب میں شریک ہوئے ۔ تقریب میں ان لوگوں سے 22حلف لی گئیں۔پروگرام میں 1000سے زائد دلتوں نے شرکت کی۔واضح ہو کہ جولائی 2016میں مردہ گائے کی کھال نکالنے پر گئو رکشکوں نے 7دلتوں کو زدوکوب کیا تھا ۔ اس واقعہ کے بعد متاثرہ خاندان کے بالو بھائی ، ان کے بیٹے رمیش اور وشرام کے علاوہ بیوی کنور نے بودھ مت قبول کرلیا۔بالو بھائی نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ ہندو ؤں کی جانب سے ذات برادری میں اونچ نیچ کی تفریق سے تنگ آکر بودھ مت قبول کیا۔رمیش نے کہا کہ ہمیں مندر میں داخل ہونے سے روکا جاتا تھا ، جہاں محنت مزدوری کرنے جاتےہیں وہاں اپنا برتن لیکر جانا پڑتا ہے۔ اونا میں گئو رکشکوں کے ظلم کا نشانہ بننے والےافراد کو ابھی تک انصاف نہیں ملا۔ ریاستی حکومت نے بھی ہمارے ساتھ بھید بھاؤ اور تفریق کا رویہ رکھا ہے جوتبدیلی مذہب کا باعث بنا۔
مزید پڑھیں:- - - -چچازاد بہن سے کم نمبرآنے پرطالبہ کی خود سوزی

شیئر: