سعودی خبررساں ایجنسی ’ایس پی اے‘ کے مطابق شداد کو جزیرہ نما عرب کی قدیم ترین ایجادات میں سمجھا جاتا ہے جو اہل بادیہ کی زندگیوں میں بلکہ آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی اہمیت کا حامل ہے۔
’الشداد‘ (کجوا) کو اونٹوں پرسواری اور سامان کی منتقلی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اسے جزیدہ عرب کی قدیم دستکاری میں بھی شمار کیا جاتا ہے۔
اس کا فریم عام طورپرلکڑی یا لوہے سے بنایا جاتا ہے اور اونٹ کی پشت پر باندھا کر اس پر کپڑوں سے بھرا جاتا ہے تاکہ سواری کے لیے آرام دہ نشت بن سکے۔
شداد کی کئی اقسام ہیں ان میں ایک سواری کے لیے ہوتی ہے(فوٹو،ایس پی اے)
شداد کی کئی اقسام ہیں ان میں ایک سواری کے لیے ہوتی ہے جبکہ دوسری بھاری سامان کی منتقلی کے لیے مخصوص ہے۔ اسےصحرا نشین انسانوں اور اونٹوں کے درمیان گہرے تعلق سے جوڑتے ہیں۔ الغرض شداد میں صحرائی زندگی کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔
فی زمانہ اگرچہ جدید وسائل نقل و حمل کی فراوانی ہے تاہم شداد ثقافتی اور تاریخی منظرنامے میں آج بھی اہمیت کا حامل ہے۔
یہ جمالیاتی عنصر کے طورپر محفلوں اور مہمان خانوں کی زینت بنتا ہے ، بازاروں اور ثقافتی تقریبات میں اسے روایت کے طورپر بھی استعمال کیا جاتا ہے تاکہ ماضی سے رابطہ برقرار رہے۔