سعودی خبررساں ایجنسی ’ایس پی اے‘ کے مطابق مشترکہ مشقوں میں مسلح افواج کے مختلف یونٹس، نیشنل گارڈ ، ریاستی سلامتی کے ادارے، خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک کی عسکری کمان اور متعدد برادر و دوست ممالک کی افواج نے شرکت کی۔
مشقوں میں مشترکہ حربی کارروائیاں اور خصوصی تدریسی لیکچرز بھی شامل تھے علاوہ ازیں فضائی تکنیکی اور معاون عملے کی مہارت میں اضافہ کرنے ، جدید عکسری حکمتِ عملی الیکٹرانک و سائبرجنگ کے حوالے سے بھی کثیر الجہتی عملی ماحول میں جائزہ لینے کے لیے آپریشنل مشنز کیے گئے۔
شریک افواج کے دستوں نے نہایت درستگی پر مبنی کارروائیاں انجام دیں جن سے ان کی جنگی صلاحیتوں اورباہمی ہم آہنگی میں بھی اضافہ ہوا ۔
مشقوں کا آغاز 18 جنوری کو مشرقی ریجن کے ایئروارفیئرسینٹرمیں ہوا تھا(فوٹو، ایس پی اے)
واضح رہے ’سپیئرز آف وکٹری 2026 ‘ کو خطے کی نمایاں اور بڑی فضائی مشقوں میں شمار کیا جاتا ہے جس کا مقصد عسکری شراکت داری کو مضبوط بنانا اور مہارتوں کا تبادلہ کرتے ہوئے شریک افواج کے مابین ہم آہنگی میں اضافہ کرنا بھی ہے تاکہ علاقائی اور بین الاقوامی امن و استحکام کی حمایت کی جاسکے۔
خیال رہے رماح النصر2026 مشترکہ مشقوں کا آغاز 18 جنوری 2026 کو مشرقی ریجن کے ایئروارفیئرسینٹر میں ہوا تھا جس میں پاکستانی ایئرفورس کے یونٹس بھی شریک تھے۔