” دَہائیوں سے دُہائیاں دیتی خواتین“

شہزاد اعظم
ہمارا بھی عجب حال ہے۔ہم اُن مظلوموں سے داد رسی کے طالب ہوتے ہیں جو خود ظلم سہنے کے عادی ہو چکے ہوں۔ہمارے معاشرے میں خواتین” دہائیوں سے دہائیاں“دیتی چلی آ رہی ہیں کہ یہ معاشرہ مَردوں کاہے، انہوں نے صنف نازک پر جبر و استبداد کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں۔ مردانہیں ”باندی“بنا کر گھر میں قید رکھنا چاہتے ہیں، اُن کی نظر میں بیوی وہ ہے جو گھر میں رہ کر ماسیوں والے تمام کام کرے اور ساتھ ہی اس کے بچے بھی پالے۔ شوہر مارے پیٹے تو بھی ”چوں“ نہ کرے۔ گھر یلواخراجات کے لئے رقم نہ دے تو بھی ”اُف“ نہ کرے۔وہ جب چاہے اپنی بیوی کی سوکن لانے کی تیاری کر لے اور اگر پہلی بیوی منع کرے تو اس کی بولتی بند کردے اور اگر وہ اس زباں بندی پر راضی نہ ہو تو”جدیداور کم وزن گرہستن“ کے راستے سے ”بھاری بھرکم رکاوٹ“دور کرنے کے لئے اپنے بچوں کی اماں کو طلاق دے کر در بدر کر دے۔ 
ایسے ظلم ہمارے معاشرے میں عام ہیں۔مظلوم عورت رو رو کر انصاف مانگتی نظر آتی ہے مگر مردانہ تسلط والا معاشرہ اس کی ایک نہیں سنتا۔ زیر نظر تصویر فیصل آبادکی ہے جہاں خواتین وکلاءاپنے مطالبات کی منظوری کے لئے ”کرسی دھرنا“ دیئے بیٹھی ہیں۔ ذرا سوچئے کہ یہ وہ ہستیاں ہیں جنہیں خود تو انصاف میسر نہیں مگر یہ دیگر مظلوموں سے معاوضہ لے کرانہیں انصاف دلانے کے لئے دن رات جدوجہد کرتی ہیں۔یہی نہیں ،اکثر طالب علم اسی سے علم حاصل کرنے پر مجبور ہوتے ہیں جو خود لا علم ہوتا ہے، جان ومال کا تحفظ اُن سے مانگا جاتا ہے جو خود ”ڈاکو“ ہوتا ہے۔ایسی ان گنت مثالیں ہمارے معاشرے میں جا بجا ملتی ہیں۔اس تصویر کو دیکھ کر خیال آتا ہے کہ:
عجب ہم لوگ ہیں روٹھے ہوﺅں سے دل لگی چاہیں
جسے دنیا کی چاہت ہو، اسی سے بے خودی چاہیں
تونگر سے کریں ہردم توقع بے بسی کی ہم
جو ہوں انصاف کے طالب ، انہی سے منصفی چاہیں
چلے شانہ بشانہ صنفِ نازک ہر قدم اپنے
رہے گھر میں ہماری نصف بہتر ، ہم یہی چاہیں
یہ ہے معیار دہرا جس نے رسوا کر دیا ہم کو
طلب ہے تیرگی کی اور ہر سُو روشنی چاہیں
 

شیئر: