تاریخ اور اردو میں ماسٹرز کی حامل افسانہ نگار تسنیم کوثر

زینت ملک۔جدہ
ایک ایسے وقت جب ترقی یافتہ مما لک کے نقاد اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ ان ملکون میں مختصر افسانہ نویسی کا زوال ہو رہا ہے، اس وقت ایشیا ئی ادب میں مختصر افسانہ ہی ہر طرح کی نفسیاتی ، فلسفیانہ، سیاسی اور جذباتی تحریکوں کا مظہر بن گیا ہے۔ 
افسانہ نگارتسنیم کوثر نے پٹنہ یونیورسٹی سے ہسٹری میں پہلا اور اردو میں دوسرا ماسٹرز کیا۔ انہوں نے اپنی تعلیمی استعداد بڑھانے کے لئے پرانے کلاسک رائٹرز کی ڈھیروں تحاریر سے استفادہ کیا ۔ان کا خیال ہے کہ مختصر غیر متعین تکنیک اور لچک کے راز کو سمجھ لینے والا افسانہ نگار ہر قسم کے موضوع کو دلکش بنا سکتا ہے لیکن یہ دلکشی ایک مستقل کیمیاوی عمل کے بعد حاصل ہوتی ہے:
وضع و ترکیب میں تھا سب سے نرالا پٹنہ 
قدر دانی میں تھا ہر شہر سے بالا پٹنہ
نور تھا دل کا تو آنکھوں کا اجالا پٹنہ
ہر کے دکھ درد کا کرتا تھا ازالہ پٹنہ 
کس کو آپے کاکبھی کوئی خیال آتا تھا
عید آتی جو کوئی اہل کمال آتا تھا
  تسنیم کوثرنے اس جگہ سے تعلیم حاصل کی جہاں باکمال اساتذہ نے بے شمار طالب علموں کو اپنے بیدار مغز سے کارآمد بنایا۔ انکے شریک حیات پروفیسر محمد انوارالحق تبسم،صدر شعبہ تاریخ ،اورینٹل کالج ، پٹنہ ہیں۔ انکے اثمار حیات عمران انوار اور عرفان انوار ہیں۔
محترمہ تسنیم کوثر نے افسانہ نگاری کی ابتدائ1992ءمیں کی ۔پہلا مطبوعہ افسانہ ”زبان و ادب، پٹنہ“ تھا۔ انہوں نے جن استاتذہ سے فیض ِ علم حاصل کیا ان میں پروفیسرسید محمد حسن عسکری، پروفیسر ڈاکٹر قیام الدین احمد، پروفیسر انوارالحق تبسم ،پروفیسر کے کے دتہ اور پروفیسر نندنی شامل ہیں ۔ زبان و ادب،ایوان اردوزآجکل انشا، مریخ ،گلبن وغیرہ میں تسنیم کوثر کے لکھے ہوئے افسانے شامل اشاعت رہے ہیں۔
اسے بھی پڑھئے:درس و تدریس سے منسلک ادیبہ و شاعرہ ، ڈاکٹر نگار عظیم
تسنیم کوثر ، آل آنڈیا ریڈیو ،پٹنہ کی دوسری مسلم خاتون ہیں جنہوں نے خبریں پڑھیں ۔ریڈیو سے ان کے کئی افسانے بھی نشر ہوئے۔ والد سید اختر اور والدہ کوثر جہاں علم دوست شخصیت تھے ۔درس و تدریس کا سلسلہ آج بھی قائم ہے۔ تسنیم کوثر نے اپنے شہر کی لائبریریوں میں موجود تقریباً تمام اردو کے نمائندہ مصنفین کی کلاسک تحاریر سے استفادہ کیا ۔ان کا خیال ہے کہ ناول نگار یا افسانہ 
 نگار جو کچھ لکھتے ہیں اس کا ایک مخصوص پس منظر ہوتا ہے اور وہ اگر پڑھنے والے کو معلوم نہ ہو تو وہ اس کہانی کو بہتر طور پر نہیں سمجھ سکتے۔ اس لئے جب ایک ایسا قاری جس نے کچھ تاریخ سے آگاہی حاصل کر رکھی ہے ،اسے ہر کلاسک رائٹر کی کہانی کو پڑھ کر لطف آئے گا۔
عام ادب،پاپولر ادب اور کلاسک ادب، سب ایک دوسرے سے جدا ہوتے ہیں۔ سجاد حیدر یلدرم اور انکی صاحب زادی قرة العین حیدر نے اردو ادب میں ایک خاص مقام پایا ۔
تسنیم کوثر کہتی ہیںکہ کرشن چندر کے افسانے کبھی پرانے محسوس نہیں ہوتے۔ انکے زمانے کی عام بولی انتہائی سادہ اور پر اثر ہے۔ میں نے اسی انداز کو اپنے افسانوں میں یہ سوچ کر اپنایا کہ اس طرح نئے لکھنے والوں اور پڑھنے والوں میں وہ انداز ملے اور دیہات کی وہی سادگی کا ماحول آج بھی ہمیں ملے اور یہ حقیقت ان پر منکشف ہو کہ فطری ماحول سب سے زیادہ پر اثر ہوتا ہے ۔
شہاب الدین ، احمدندیم قاسمی، ممتاز مفتی، اشفاق احمد، بانو قدسیہ، عصمت،منٹو، قرة العین،بشریٰ رحمن، اے آر خاتون، رضیہ بٹ اور کئی ناول نگاروں کو شوق سے پڑھا اور پھر جانا کہ کس نے کس ماحول سے متاثر ہوکر کیا کچھ لکھا ہے اور یہی وجہ بنی کہ افسانوں کا مجموعہ جس میں 17کہا نیاں ہیں،شائع ہو ا ہے ۔
مصنفہ تسنیم کوثر سمجھتی ہیں کہ علم ایک سمندر ہے، اس میں جہاں تک جائیں ، مزید کی طلب بڑھتی جاتی ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ وقت بہت سی چیزیں مٹا دیتا ہے لیکن کتابیں قوموں کے عروج و زوال کی داستان سناتی ہیں۔ایک بیدار مغزمصنف کی تخلیقات تحقیق کا درجہ رکھتی ہیں۔ 
 

شیئر: