Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

گہرے اختلافات اور بڑھتے جنگی خدشات کے سائے میں ایران اور امریکہ کے عمان میں مذاکرات

ارنا نے جمعرات کی رات اطلاع دی کہ عباس عراقچی مذاکرات کے لیے مسقط پہنچ چکے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ایران اور امریکا جمعے کے روز عمان میں ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی اہم مذاکرات کرنے جا رہے ہیں، تاہم ایجنڈے پر اختلاف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطے میں ممکنہ جنگ کے خدشات کے دوران پیش رفت کا حصول آسان نہیں ہوگا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اگرچہ دونوں فریقوں نے مغرب کے ساتھ ایران کے طویل عرصے سے جاری جوہری تنازع پر سفارت کاری بحال کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، لیکن واشنگٹن چاہتا ہے کہ مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام کے ساتھ ساتھ اس کے بیلسٹک میزائل، خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت اور ’اپنے ہی عوام کے ساتھ رویےجیسے معاملات بھی شامل ہوں۔
دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ وہ مسقط میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکہ کے مشرقِ وسطیٰ کے ایلچی سٹیو وٹکوف کے درمیان ہونے والی بات چیت کو صرف جوہری معاملات تک محدود رکھنا چاہتا ہے۔
تہران نے کہا ہے کہ وہ ان مذاکرات میں ’پورے اختیار کے ساتھ اور جوہری معاملے پر ایک منصفانہ، باہمی طور پر قابلِ قبول اور باوقار سمجھوتے تک پہنچنے کے مقصد کے ساتھ‘ شریک ہوگا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ مذاکرات، جن کے مقام، وقت اور طریقۂ کار سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے بعد بدھ کی رات دونوں فریقوں نے باضابطہ تصدیق کی، جون میں امریکہ کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ مل کر اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جنگ میں شمولیت اور جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد دونوں دیرینہ مخالفین کے درمیان پہلی براہِ راست ملاقات ہوں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرقِ وسطیٰ کے ایلچی سٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ان مذاکرات میں اپنے اپنے وفود کی قیادت کریں گے۔
 یہ بات چیت خلیجی ریاست عمان میں ہو رہی ہے، جو ماضی میں بھی دونوں ممالک کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرتی رہی ہے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے جمعرات کی رات اطلاع دی تھی کہ عباس عراقچی مذاکرات کے لیے مسقط پہنچ چکے ہیں۔
ایران کی وزارت خارجہ نے جمعرات کی شام کہا تھا کہ امن کے تحفظ کے لیے سفارت کاری سے فائدہ اٹھانے کا کوئی بھی موقع ضائع نہ کرنا اس کی ’ذمہ داری ہے، اور امید ظاہر کی کہ واشنگٹن ان مذاکرات میں ’ذمہ داری، حقیقت پسندی اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرے گا۔
یہ ملاقات ایران میں مذہبی قیادت کے خلاف ملک گیر مظاہروں کی لہر کے عروج کے تقریباً ایک ماہ بعد ہو رہی ہے۔ انسانی حقوق کے گروپوں کے مطابق ان مظاہروں کو بے مثال کریک ڈاؤن کے ذریعے دبایا گیا، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے۔
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران کے حوالے سے کہا، ’وہ مذاکرات کر رہے ہیں۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’وہ نہیں چاہتے کہ ہم ان پر حملہ کریں، ہم وہاں ایک بڑا بحری بیڑا بھیج رہے ہیں۔‘
صدر ٹرمپ کا اشارہ اس طیارہ بردار بحری بیڑے کی طرف تھا جسے وہ بارہا ’آرماڈا‘ قرار دے چکے ہیں۔
ٹرمپ نے ابتدا میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن پر تہران کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی دی تھی اور یہاں تک کہا تھا کہ مظاہرین کے لیے ’مدد آ رہی ہے۔‘
تاہم حالیہ دنوں میں ان کا لہجہ زیادہ تر ایرانی جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر مرکوز رہا ہے، جس کے بارے میں مغرب کو خدشہ ہے کہ اس کا مقصد ایٹم بم بنانا ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بدھ کو نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں سیریس ایکس ایم کو بتایا کہ صدر ٹرمپ ’تمام آپشنز کھلے رکھیں گے۔‘
وینس نے کہا کہ ’وہ سب سے بات کریں گے، غیر فوجی ذرائع سے جو کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے اس کی کوشش کریں گے، اور اگر انہیں لگا کہ فوجی راستہ ہی واحد آپشن ہے تو آخرکار وہ اسی کا انتخاب کریں گے۔‘

 

شیئر: