کمر کو درد سے محفوظ رکھنے کے لیے سونے کی بہترین پوزیشن کون سی؟
کمر کو درد سے محفوظ رکھنے کے لیے سونے کی بہترین پوزیشن کون سی؟
جمعہ 6 فروری 2026 7:49
غلط پوزیشن میں سونا نیند کے معیار کو متاثر کرتا ہے اور کمر میں درد کا بھی سبب بنتا ہے (فری پک)
جیسے صحت مند غذا صحت مند جسم کے لیے ضروری ہے اسی طرح اچھی اور پُرسکون نیند بھی تندرست اور توانا جسم کے لیے بہت اہم ہے۔ مناسب نیند دماغ کو فعال رکھنے، جذباتی توازن کو برقرار رکھنے اور جسم کو تازہ دم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق مناسب نیند دماغ کی درست کارکردگی، جذباتی توازن اور جسمانی صحت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس کے علاوہ ہارمونز کو متوازن رکھنے، مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے اور یادداشت اور سوچنے کی صلاحیت کو بہتر بنانے میں بھی مدد دیتی ہے۔
لیکن نیند کے دوران کچھ عوامل خلل پیدا کر سکتے ہیں اور مختلف مسائل کو جنم دے سکتے ہیں۔ ان میں ایک عام مسئلہ غلط پوزیشن میں سونا ہے۔
غلط پوزیشن میں سونا نہ صرف نیند کے معیار کو متاثر کرتا ہے بلکہ کمر میں درد کا بھی سبب بنتا ہے۔ جیسے کہ پیٹ کے بل سونے سے ریڑھ کی ہڈی اور گردن پر دباؤ پڑتا ہے۔
جب سوتے وقت ریڑھ کی ہڈی کو مناسب سہارا نہ ملے تو پٹھوں میں کھچاؤ اور اکڑن پیدا ہو سکتی ہے۔ اور اس طرح پہلے سے موجود کمر کے مسائل بڑھنے کا خدشہ ہوتا ہے یا نئے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
کمر کے درد سے بچنے کے لیے سونے کی بہترین پوزیشن کون سی ہے آئیے جانتے ہیں۔
عام طور پر کمر کے بل یا کروٹ لے کر سونا سب سے بہتر سمجھا جاتا ہے۔
کمر کے بل سونا
کمر کے بل سونے سے جسم کا وزن برابر تقسیم ہو جاتا ہے اور دباؤ کم پڑتا ہے۔
گھٹنوں کے نیچے تکیہ رکھنے سے ریڑھ کی ہڈی کا قدرتی خم برقرار رہتا ہے اور نچلی کمر پر دباؤ کم ہو جاتا ہے۔
کمر کے بل سونے سے جسم کا وزن برابر تقسیم ہو جاتا ہے اور دباؤ کم پڑتا ہے (فوٹو: فری پک)
کروٹ لے کر سونا
کروٹ لے کر سونا بھی ریڑھ کی ہڈی کے لیے بہت مفید ہے۔ کروٹ لے کر سونے والوں کو گھٹنوں کے درمیان تکیہ رکھنا چاہیے تاکہ جسم سیدھا رہے اور کولہوں اور نچلی کمر پر دباؤ کم ہو۔
کروٹ لے کر ٹانگوں کو جسم کی طرف موڑ کر سونا۔
یہ پوزیشن ریڑھ کی ہڈی کے مہروں کے درمیان جگہ پیدا کرتی ہے جو خاص طور پر ان لوگوں کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے جنہیں ریڑھ کی ہڈی کے مسائل ہوں۔
اگر آپ اس پوزیشن کو زیادہ آرام دہ بنانا چاہتے ہیں تو سکڑ کر لیٹتے ہوئے جسم کو ڈھیلا چھوڑیں۔
کمر کے درد سے بچنے کے لیے چند اضافی باتوں کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔
درست گدّے کا انتخاب
درست گدے کا انتخاب بہت اہم ہے کیونکہ درمیانی سختی والا گدا جسم کو مناسب سہارا دیتا ہے اور آرام بھی فراہم کرتا ہے۔
اگر گدا پرانا ہو چکا ہو اور جسم کو سہارا نہ دیتا ہو تو اسے بدل دینا بہتر ہے۔
تکیے کا انتخاب
تکیے کا انتخاب بھی درست ہونا چاہیے تاکہ گردن سیدھی پوزیشن میں رہے۔
کمر کے بل سونے والوں کے لیے پتلا تکیہ بہتر ہوتا ہے جبکہ کروٹ لے کر سونے والوں کو قدرے موٹا تکیہ زیادہ فائدہ دیتا ہے۔
ایک ہی وقت پر سونا اور جاگنا
نیند کے معمولات کو بہتر بنانا بھی ضروری ہے۔ روزانہ ایک ہی وقت پر سونا اور جاگنا جسم کو بہت حالت میں رکھتا ہے۔
کمرے کا ماحول
سونے کے لیے کمرے کا ماحول آرام دہ ہونا چاہیے۔ کمرہ قدرے ٹھنڈا، تاریک اور پُرسکون ہو تو نیند بہتر آتی ہے۔
سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے موبائل یا دیگر سکرینوں کو دیکھنے سے اجتناب کرنا چاہیے (فوٹو: فری پک)
سکرین کے استعمال سے گریز
سونے سے پہلے سکرین کے استعمال کو کم کرنا بھی مفید ہے۔
سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے موبائل یا دیگر سکرینوں کو دیکھنے سے اجتناب کرنا چاہیے کیونکہ ان کی روشنی نیند کے قدرتی نظام میں خلل ڈالتی ہے۔
پُرسکون سرگرمیاں
سونے سے پہلے خود کو پُرسکون کرنے والی سرگرمیاں اپنائیں۔
مطالعہ، مراقبہ یا ہلکی پھلکی سٹریچنگ ذہن کو سکون دیتی ہے اور جسم کو نیند کے لیے تیار کرتی ہے۔
دن بھر متحرک رہنا اور رات کو ہلکا کھانا کھانا بھی بہتر نیند میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
کمر کے درد سے بچنے کے لیے اپنی سونے کی پوزیشن پر توجہ دیں اور آرام دہ نیند کے لیے ان عادات کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔