Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’’ضدی‘‘ کو چوکڑیاں بھلانے والی ’’دلہن‘‘

جب شوہر اہلیہ کی ہاں میں ہاں ملانے کا عادی ہوجائے تو دوسری شادی کا حقدارقرار پاجاتا ہے

ثمینہ عاصم ۔ جدہ

بلا شبہ مردوں کو4 شادیاں کرنے کی اجازت ہے۔ اس میں کوئی دورائے نہیں اور نہ ہی ہونی چاہئے کیونکہ 4شادیاں ہر مرد کا حق ہے لیکن کووی بھی قدم ا ٹھانے سے قبل انسان کو بغور جائزہ لینا چاہئے کہ اس کے مابعد اثرات کیا مرتب ہوں گے یا ہو سکتے ہیں نیز یہ کہ آیا آپ اپنی نئی دلہن یعنی پہلی بیوی کی ’’حریف‘‘ کو خوش رکھنے اور اس کی تمام فرمائشیں پوری کرنے کے انتظامات کرسکتے ہیں یا نہیں؟اگر آپ ان تمام امور کا جائزہ لے کرعالم ازدواج میں پیشرفت کریں گے تو کامیاب رہ سکیں گے اور پھر دوسری کے بعد تیسری اور آخر کار چوتھی شادی کرنے کے خیال کو عملی جامہ پہنا سکیں گے اور اگر ایسا نہ کیا تو پھر جان لیجئے کہ دوسری شادی کے بعد تیسری کا تصور بھی آپ کے لئے کسی ڈرائونے خواب سے کم نہیں ہوگااور آپ کسی سے یہ شکایت بھی نہیں کر سکیں گے کہ میری بیویوں نے میری زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ اگر کوئی غیر شادی شدہ مردکسی کی بات کو برداشت کرنے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو، بات بات پر لڑتا ہو، غصہ ہر وقت ناک پر رکھا رہتا ہو ،ماں کے سامنے زبان چلاتا ہو، چھوٹے بہن بھائیوں کا ناطقہ بند کئے رکھتا ہو، باپ کے سامنے تیوری پر بل ڈالے رکھتا ہو اور اس پر اپنی نام نہاد جوانی کا رعب ڈالتا ہو ، کسی دوست یا رشتے دار کی بات سننے کا روادار نہ ہو، مختصر یہ کہ کسی بھی طور کسی کی نہ مانتا ہو ، لوگ اسے دماغی خلل میں مبتلاقرار دینے لگیں ،دنیا کی کوئی طاقت اس کی اصلاح کا کارنامہ انجام دینے سے قاصر ہو تو ایسے شخص کے لئے اطبائے قدیم و جدید نے زور دے کر کہا ہے کہ اسکا علاج شادی کے سوا کچھ نہیں ۔ شادی کے ذریعے دلہن کی شکل میں جو مؤنث گھر میں قدم رکھتی ہے وہ اس ’’ضدی، ہٹ دھرم اور ٹیڑھی‘‘ شخصیت کو اس کی ایسی اوقات یاد دلا تی ہے کہ وہ ساری چوکڑیاں بھول جاتا ہے ۔

ابا کی ڈپٹ، ماں کی ڈانٹ،بھائیوں کی باتیں اور بہن کی فریادیں،وہ سب سر جھکا کر سنتا ہے اور اپنے غرفۂ عروسی میں جاتا ہے تو بیوی اسے کھری کھری سناتی ہے ۔یوں اس کا ذہنی فتوراور شخصی غرور ملیا میٹ ہوجاتا ہے اور وہ صبر، تحمل ، برداشت اور استقامت کو ہی مقصدِ حیات بنالیتا ہے ۔ اس طرح منہ زور شخص کو لگام دینے کا وہ کام جوطاقتور بھائی اور اعزہ و احباب نہیں کر سکتے،ایک دھان پان سی دلہن وہ کارنامہ انجام دینے میں کامیاب ہو جاتی ہے ۔ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب ’’دولہا‘‘ کہلانے والا یہ شخص اپنی گردن کا سریا، ذاتی انا، خودداری، اکڑ، پھوں پھاں، سب کچھ بھول کراپنی اہلیہ کی ہاں میں ہاں ملانے کا عادی ہوجاتا ہے تو ماہرینِ ازدواجیات کے مطابق وہ شخص انکساری یا ’’تحقیرِ ذات‘‘ کی اس منزل کو پہنچ جاتا ہے جہاں وہ دوسری شادی کے لئے انتہائی موزوں، مناسب اور اس کا حق دارقرار پاجاتا ہے کیونکہ اب کسی کو کچھ سنانے کے قابل نہیں رہتا بلکہ لوگوں کی باتیں سننے کا عادی ہو جاتا ہے جس میںبلا ناغہ ہونے والی ’’بیویانہ سرزنش‘‘ یا ’’نسوانی تضحیک ‘‘سر فہرست ہوتی ہے۔ایسے حالات و ماحول میں یہ ’’کہنہ دولہا‘‘دوسری، تیسری اور حتیٰ کہ چوتھی شادی کرنے کا مستحق ہو جاتا ہے۔

مادی اعتبار سے اکثرلوگوںکا عام خیال یہی ہے کہ کسی بھی مرد کواسی صورت میں دو یا چار شادیاں کرنی چاہئیںجب وہ انصاف کرنا جانتا ہو اور بہت پیسے والا ہو ورنہ چار شادیاں ، چوں چوں کا مربہ بن جاتی ہیں اور دولہا میاں یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ ’’یہ میں نے کیا کیا‘‘ یا‘‘ ایہہ میں کیہہ کر بیٹھا واں۔‘‘ عام حقیقتِ حال و ا حوال یہی ہے کہ دوسری شادی کے نام سے مرد کی باچھیں کھل جاتی ہیں۔یہ بھی سچ ہے کہ اگر خواتین کسی کی برائیاں یا غیبت کرنے کا ارادہ کر لیں تو انتہائی ’’خواہرانہ جذبات سے معمور‘‘ ہو کر یکجا ہو جاتی ہیں اور بقول شخصے، سر جوڑ کر بیٹھ جاتی ہیں لیکن اگر 4سوکنیں ہوں تو وہ کسی طور یکجا نہیں ہوتیں بلکہ ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کی روادار بھی نہیں ہوتیں۔ وہ گھر کے الگ الگ کونوں میں نظر آتی ہیں۔ سوکنوں کی مخاصمت ، جسے سماجی ماہرین ’’سوتاپہ‘‘ کہہ کر پکارتے ہیں، برصغیر میں پورے طمطراق سے پایاجاتا ہے مگر جزیرہ نمائے عرب وہ خطۂ ارضی ہے جو ’’سوتاپے ‘‘جیسی مخاصمت سے محروم ہے ۔ یہاں تو کسی بھی مرد کی ددو یا زائد شادیوں کورشک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے بلکہ بعض خاندانوں میں تو ایسے مردجن کی دو،تین یا 4بیویاں نہ ہوں، انہیں’’ غریب ‘‘کہا جاتا ہے۔

عورتیں بڑے فخر سے بتاتی ہیں کہ میرے میاں کی 2یا4 بیویاں ہیں اور اگر کوئی عورت یہ کہتی ہے کہ میرے میاں نے ایک ہی شادی کی ہے تو دوسری فوراً کہتی ہے کہ کیا تمہارے میاں اتنے غریب ہیں کہ وہ دوسری شادی نہیں کرسکتے۔ ہمارے وطن عزیز میں تو یہ وتیرہ عام ہے کہ اگر بیوی سے کوئی بات منوانی ہو تو مرد حضرات دھمکی دے ڈالتے ہیں کہ اگر میری بات نہ مانی تو میں دوسری شادی کرلوں گا۔ ایک شادی شدہ جوڑے میں بہت محبت تھی۔ دونوں نے بڑے شوق سے اپنے لئے مکان بنوایا اور بیوی نے بہت ہی خوبصورت چیزیں جمع کرکے گھر سیٹ کیا ۔اچانک بیوی نے اپنے شوہر کے رویے میں تبدیلی محسوس کی اور آخر ایک دن اس کے شوہر نے کہا کہ میں دوسری شادی کرنے جارہا ہوں۔ اس کی بیوی کو بہت افسوس ہوا۔ سب سے زیادہ افسوس اس وقت ہوا جب اس نے گھر سے چلے جانے کو کہا ۔بیوی نے رونے دھونے کی بجائے ایک فیصلہ کیا اور پرسکون ہوگئی ۔ اس نے اپنا سامان سمیٹنا شروع کر دیا۔ جس دن شادی کے بعد اس کے شوہر اور اس کی سوکن کو آنا تھا، ا س سے ایک دن پہلے یا جانے سے پہلے بیوی نے کچھ مچھلی کے انڈے منگوائے ۔ان انڈوں میں نمک ملایا اور تمام کمروں میں پردے کی راڈوں میں انڈے بھردئیے اور اپنا سامان لے کر نکل گئی۔ نوبیاہتا جوڑا جب گھر آیا اور کمرے میں داخل ہوا تو انہیں کچھ بدبو آئی۔ انہوںنے خوشبو چھڑکی لیکن کوئی فرق نہیں پڑا۔ اگلے دن وہ بدبوزیادہ ہوگئی ۔انہوں نے پورے گھر کی صفائی کروائی اور خوشبو بھی چھڑکی لیکن بدبو ناقابل برداشت ہوتی گئی۔ آخر انہوں نے دوسرا مکان لیا اور وہاں شفٹ ہوگئے لیکن وہاں بھی اس بدبو نے پیچھا نہ چھوڑا۔ انہوں نے کئی مکان بدلے لیکن انہیں سکون نہ ملا کیوں کہ وہ جہاں بھی جاتے ، پردے کی راڈز بھی ساتھ لے جاتے۔ یوں اس عورت نے اپنے شوہر اور سوکن سے بدلہ لیا۔ ایک صاحب کی بیوی کا انتقال ہوگیا۔اس کی 5سال کی بیٹی تھی ۔سب اس کو مشورہ دیتے کہ دوسری شادی کرلو۔ بالآخر اس نے دوسری شادی کرلی۔

کچھ عرصے کے بعد اس کی بھی ایک بیٹی ہوگئی۔ اب سوتیلی بیٹی کو وہ خوب آرام کرواتی اور خوب کھلاتی پلاتی جبکہ اپنی بیٹی سے گھر کا سارا کام کرواتی۔ اس کی اپنی بیٹی نے کہا کہ سوتیلی بیٹی پر ظلم کرنے کی بجائے تم مجھ پر ظلم کرتی ہو۔ اس بات پر اس کی ماں مسکرادیتی۔ آخر سوتیلی بیٹی کھاکھا کر اور آرام کرکرکے اتنی موٹی ہوگئی کہ جو بھی رشتہ آتا وہ چھوٹی کو پسند کرتے ۔ سب کے کہنے پر ایک بہت مالدار اور خوش شکل نوجوان کے ساتھ اس کی بیٹی کی شادی ہوگئی جبکہ اس کی سوتیلی بیٹی کو کوئی پسند نہیں کرتا تھا۔ واقعہ ہے کہ ایک شخص کامشغلہ یہی تھا کہ وہ مختلف شہروں میں شادیاں کرتا اور بیوی کا جہیز اور زیور لے کر رفو چکر ہوجاتا۔ ایک دفعہ ایک بیوی دوسرے شہر جارہی تھی۔

بس میں برابر والی سیٹ پر ایک اور خاتون بیٹھی تھیں ۔باتوں ہی باتوں میں اس نے اپنے شوہر کا نام وغیرہ بتایا تو دوسری عورت نے کہاکہ میرے شوہر کا نام بھی یہی ہے ۔ ساس سسر کا نام بھی یہی ہے۔ پہلی والی عورت نے اپنے شوہر کی تصویر دکھائی تو دوسری نے کہا کہ یہ تو میرا شوہر ہے۔ دونوں نے مل کر پتہ لگایا کہ آجکل ان کا شوہر بزنس کے سلسلہ میں کس شہر میں ہے۔ وہ دونوں اپنے بھائیوں اور والد وغیرہ کو لے کر وہاں پہنچیں۔ جس گھر کا پتہ بتایا گیا تھاوہ سب وہاں پہنچے تو دیکھا کہ اس شخص کی شادی ہورہی تھی۔ دونوں خواتین نے دولہا کو دیکھا اور اسے پہچان لیا۔ ان دونوں خواتین نے قناتوں اور شامیانوں میں آگ لگادی اور دولہا میاں، یعنی اپنے شوہر کی خوب پٹائی لگائی۔

شیئر: