بیت اللہ دیکھنے کی سعادت، آئیوری کوسٹ کے کسان کا حج کا خواب پورا ہوگیا
تراورے ابوبکر کو حج کی ادائیگی کی دیرینہ خواہش پوری ہونے کی بہت خوشی ہے (فوٹو: ایس پی اے)
جمہوریۂ کوٹ ڈی آئیور (آئیوری کوسٹ) سے تعلق رکھنے والے تراورے ابوبکر دل میں حج کی خواہش لیے برسوں سے انتظار میں تھے کہ کب وہ وقت آئے گا جب انھیں بیت اللہ دیکھنے کی سعادت ملے ہوگی۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق روزگار کے لیے زارعت سے منسلک، ابوبکر، مسجد الحرام کی زیارت کے شوق کے ساتھ ساتھ، سفر کے لیے پیسے بھی جمع کر رہے تھے تاکہ جب تکمیلِ آرزُو کا وقت آئے تو اُن کے پاس وسائل موجود ہوں۔
پھر ایک دن یوں ہوا کہ ابوبکر کو وہ اطلاع مل گئی جس کے انتظار میں وہ دن گِن رہے تھے۔ مکہ روٹ انشیٹیو کے ذریعے انھیں اچانک پتہ چلا کہ اِس برس حج کی ادائیگی کرنے والوں میں اُنھیں بھی منتخب کر لیا گیا ہے۔
ابوبکر نے بتایا کہ برسوں بیت گئے تھے لیکن اُن کا خواب ٹوٹا نہ سفرِ حج کی آس ختم ہوئی۔ اُن کی یہ بھی خواہش تھی کہ جب موقع آئے تو اُن کی والدہ بھی رُوحانی سفر پر اُن کے ساتھ ہوں لیکن اِس خواب کی تکمیل سے پہلے ہی ابوبکر کی والدہ آخرت کے سفر پر روانہ ہوگئیں۔
لیکن اب جب وہ اپنی آرزو کو پورا کرنے کے لیے مشاعرِ مقدسہ کے سفر کی تیاری کر رہے ہیں تو اُن کے جذبات مِلے جُلے ہیں۔ اُنھیں حج کی ادائیگی کی دیرینہ خواہش پوری ہونے کی بہت خوشی ہے لیکن والدہ کو ساتھ نہ لے جا سکنے کا غم بھی ہے۔
اُنھوں نے بتایا کہ ’روٹ ٹُو مکہ انیشیٹیو‘، جمہوریۂ کوٹ ڈی آئیور سے آنے والے اُن سمیت دیگر عازمینِ حج کے لیے ایک آرام دہ تجربہ ثابت ہو رہا ہے جس کا آغاز اُس لمحے سے ہوا جب انھوں نے اپنے ملک میں اِس انیشیٹیو کے تحت تمام ضابطے مکمل کر لیے۔
ابوبکر نے سعودی حکومت کے ایسے تمام اقدامات کی تعریف کی ہے جن میں خاص طور پر عازمینِ حج کے سامان پر کوڈ لگانا اور اُسے براہِ راست مملکت میں بھیج دینا شامل ہے کیونکہ اِس طریقے سے سامان کو ساتھ لے کر جانے اور ہوائی اڈوں پر طویل انتظار کی اذیت ختم ہو جاتی ہے۔
ابوبکر کہتے ہیں اِن سہولتوں کی وجہ سے بیت اللہ کی جانب سفر مزید آرام دہ ہو گیا ہے اور عازمین کے لیے کافی آسانیاں پیدا ہوئی ہیں۔اُنھوں نے عازمین کی خدمت کے لیے مملکت کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو بہت سراہا کی۔
ابوبکر نے بتایا کہ جب وہ کعبے کے سامنے جائیں گے تو اپنے والدین کی مغفرت کے لیے دعا مانگیں گے اور وہ اللہ سے اپنے حج کی قبولیت کی التجا بھی کریں گے۔