Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’سب کو مجھ سے ہمدردی کرنی چاہیے‘، بلیو پاسپورٹ پہ بیٹے کے اسائلم پر اقبال آفریدی کا دفاع

اپنے بیان میں اقبال آفریدی نے اپنے بیٹے کے اقدام کا دفاع کیا۔ (فوٹو: اقبال آفریدی، فیس بک)
پی ٹی آئی کے رکنِ قومی اسمبلی اقبال آفریدی کے بیٹے سے متعلق سوشل میڈیا پر جاری بحث نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
یہ معاملہ اُس وقت سامنے آیا جب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے دعویٰ کیا کہ اقبال آفریدی کا بیٹا بلیو پاسپورٹ پر یورپ گیا اور بعد ازاں اٹلی میں اسائلم ڈکلیئر کر دیا۔
طلال چوہدری کے مطابق یہ معلومات سفارتی ذرائع سے پاکستان تک پہنچیں۔ انہوں نے کہا کہ بلیو اور ڈپلومیٹک پاسپورٹس کے مبینہ غلط استعمال کی وجہ سے حکومت نے ان کے اجرا کو محدود کیا ہے اور اب صرف ضرورت کے تحت ہی ایسے پاسپورٹس جاری کیے جائیں گے۔
وزیرِ مملکت نے یہ بھی کہا کہ دیگر ممالک پاکستان سے بلیو پاسپورٹس کی تعداد اور ان کے استعمال سے متعلق سوالات اٹھاتے ہیں، جبکہ اسی وجہ سے بعض ممالک پاکستان کے ساتھ ویزا سہولتوں سے متعلق معاہدوں میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
دوسری جانب، اقبال آفریدی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے بیٹے کا دفاع کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ ملک میں سیاسی اور امن و امان کی صورتحال خراب ہے، جبکہ لوگ دباؤ اور خوف کے ماحول کا سامنا کر رہے ہیں۔
بعد ازاں سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے ایک ویڈیو بیان میں اقبال آفریدی نے کہا کہ ان کا بیٹا 'مظالم' کی وجہ سے ملک چھوڑنے پر مجبور ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ایک باپ سے اس کے بیٹے کی جدائی کے درد کو سمجھنے کے بجائے تنقید کی جا رہی ہے۔
اقبال آفریدی کا کہنا تھا کہ 'میرے بیٹے کو مجھ سے ہمیشہ کے لیے جدا کر دیا گیا، لوگوں کو مجھ سے ہمدردی کرنی چاہیے۔'

شیئر: