Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

زبالہ جہاں زمانۂ قدیم میں عازمینِ حج اور تجارتی قافلے اکٹھے ہوا کرتے تھے

زبالہ کو آثارِ قدیمہ اور تاریخی اعتبار سے پورے ریجن میں سب سے اہم درجہ دیا گیا ہے (فوٹو: ایس پی اے)
گزرے ہوئے زمانے سے آج تک، آثارِ قدیمہ کے لحاظ سے اہم اور تاریخی حیثیت کا گاؤں زبالہ، جزیرہ نمائے عرب کے نمایاں تہذیبی نشانات میں سے ایک ہے۔
دربِ زبیدہ کے تاریخی راستے پر واقع اِس گاؤں میں کاروان، عازمینِ حج اور تجارتی قافلے اکٹھے ہوا کرتے تھے۔ دربِ زبیدہ  کا روٹ، عراق اور بحیرۂ روم کے مشرقی علاقوں کو مکہ کے ساتھ مِلاتا تھا۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق زبالہ گاؤں، حدودِ شمالیہ میں رفحا کمشنری سے 25 کلومیٹر کے فاصلے پر جنوب میں واقع ہے۔
یہ گاؤں بیش قیمت انسانی، ثقافتی اور قدرتی میراث سے مالا مال ہے جس کا ایک ثبوت بار بار ہونے والی اُن تاریخی تبدیلیوں سے بھی ملتا ہے جو قبل از اسلام اور ظہورِ اسلام کے بعد کے زمانے تک ہوتی رہیں۔ اِن سے حج اور تجارت کے لیے استعمال ہونے والے قدیم راستوں کے دوران پڑاؤ کے ایک کلیدی مقام کے طور پر زبالہ گاؤں کی اہمیت اور حیثیت کا واضح اظہار ہوتا ہے۔
اِس گاؤں کو آثارِ قدیمہ اور تاریخی اعتبار سے پورے ریجن میں سب سے اہم درجہ دیا گیا ہے۔ آثارِ قدیمہ کی سڈیڈیز سے ظاہر ہوتا ہے کہ اِس گاؤں کی تاریخ چار ہزار سال سے بھی قدیم ہے۔ گاؤں میں پانی کے استعمال میں لانے کے ایک جامع نظام کا سراغ بھی ملا ہے۔
کھدائی کے دوران یہاں سے 350 کنوئیں اور مختلف حجم کے پانی کے ذخائر کے آثار ملے ہیں جو اِس بات کے گواہ ہیں کہ زبالہ گاؤں میں طویل عرصے سے انسان آباد تھے اور یہ گاؤں صحرا کے ماحول سے مطابقت پیدا کرنے کی زبردست صلاحیت کا حامل تھا۔

زبالہ کی سائٹ پر منظم انداز میں سنہ 2015 سے قدیم آثار کی کھدائی ہو رہی ہے جس کے دوران کئی دریافتیں ہوئی ہیں۔ اِن میں سے سب سے قابلِ ذکر دریافت، مستطیل صورت کی ایک مسجد ہے۔ اِس کے علاوہ کھدائی کے دوران کافی تعداد میں مٹی کے تنور دریافت ہوئے ہیں جنھیں زمانۂ قدیم میں کھانے پکانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
کھدائی کے دوران ایک ہی جگہ پر ایک دوسرے سے متصل سات تنور بھی ملے ہیں جو یہاں رہنے والوں کے ایک منظم اور مستقل رہائشی انداز کو ظاہر کرتے ہیں۔

زبالہ گاؤں کی کھدائی کے دوران ملنے والے آثارِ قدیمہ کے ایک متنوع مجموعے میں مٹی کے برتن، صابن کی طرح کا نرم قدرتی پتھر اور انتہائی عمدگی سے بنائے گئے دھات اور شیشے کے اوزار بھی دریافت ہوئے ہیں۔ اِن اوزاروں کو بنانے میں جس مہارت اور سجاوٹ کا مظاہرہ کیا گیا ہے اُس سے قدیم زمانے کے دستکاروں کے ہنر کی بخوبی نشاندہی ہوتی ہے اور یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ زبالہ گاؤں اور اسلامی دنیا کے شہری مراکز کے درمیان تجارتی اور تہذیبی روابط بھی تھے۔

شیئر: