لپ اسٹک کا بے تحاشہ استعمال خطرناک ثابت ہوتا ہے ‎

ہمیشہ سے لپ اسٹک کو بناؤ سنگھار کا ایک لازمی جزو سمجھا جاتا ہے   جسکے بغیر میک اپ نامکمل رہتا ہے .  لیکن ایک تحقیق کے نتیجے میں خواتین  کو خبر دار کیا گیا ہے کہ  لپ اسٹک کی تیاری کے عمل میں بعض زہریلے مادے اور دھاتیں استعمال کی جاتی ہیں . یہ مہلک دھاتیں انسان کی ضرورت نہیں ہوتیں  لیکن یہ خون میں آسانی سے تحلیل ہوجاتی ہیں .  عام طور پر کاسمیٹکس مصنوعات  میں کرومیم موجود ہوتا ہے .  لہذا ایسی خواتین جو میک اپ کا زیادہ استعمال کرتی ہیں  ان میں اس کیمیکل کی شرح  خطرناک حد تک بڑھ سکتی ہے . جو انہیں پھیپھڑوں کے سرطان یا پیٹ  کے سرطان میں مبتلا کرنے کاباعث بن سکتی ہے .  خاص طور پر جو خواتین  زیادہ تر ایک ہی  طرح کے رنگوں کی لپ اسٹک اور لپ  گلوس استعمال کرتی ہیں  ان میں المونیم  اور میگنیز کی مقدار  نقصان دہ  حد تک بڑھ سکتی ہے. اگر جسم میں المونیم کی مقدار بڑھ جائے تو  اس سے الزائمر  کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے .  جبکہ میگنیز نامی دھات کی زیادتی  انسان کےموڈ اور  یادداشت  کو متاثر  کرسکتی ہے .  اس لیے آپ جب بھی لپ اسٹک خریدیں  اس بات کی  یقین  دہانی ضرور کرلیں  کہ وہ کسی معیاری کمپنی کی  ہے .  مستقل ایک ہی  رنگ کی لپ اسٹک استعمال  نہ کریں بلکہ کوشش کریں کہ آپکے پاس مختلف رنگوں  کی لپ اسٹک موجود ہوں .  اس کے ساتھ ہی مختلف کمپنیوں کی لپ اسٹک استعمال کریں  تاکہ ایک ہی کمپنی کی لپ اسٹک کے استعمال سے  آپ اپنے ہونٹوں کی خوبصورتی اور لالی گنوا نہ بیٹھیں .   
یہ بھی پڑھیں:مشرقی پہناوے ، مشرقی روایات کے امین

شیئر: