بنگلہ دیش میں نیپا وائرس سے خاتون کا انتقال، ’ایک ہفتہ قبل علامات ظاہر ہوئی تھیں‘
بنگلہ دیش میں نیپا وائرس سے خاتون کا انتقال، ’ایک ہفتہ قبل علامات ظاہر ہوئی تھیں‘
ہفتہ 7 فروری 2026 6:33
انڈیا میں دو کیس رپورٹ ہونے کے بعد پاکستان سمیت کئی ممالک کے ایئرپورٹس پر سکریننگ کی جا رہی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ بنگلہ دیش میں نیپا وائرس کے باعث ایک خاتون چل بسی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس خاتون کو جنوری میں نیپا وائرس کی انفیکشن ہوئی تھی۔
بنگلہ دیش میں ہر سال نیپا وائرس کے کیس رپورٹ ہوتے ہیں تاہم اس بار اس کے پڑوسی ملک انڈیا میں بھی دو کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد ایشیا بھر میں ایئرپورٹس پر سکریننگ کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے۔
وائرس کے باعث جان سے جانے والی خاتون کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ان کی عمر 40 اور 50 کے درمیان تھی اور ان میں 21 جنوری کو بیماری کی علامات ظاہر ہوئی تھیں، جن میں سردر، بخار اور منہ میں زیادہ لعاب بننے کی علامات شامل تھیں۔
عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ ایک ہفتے بعد ہی ان کی موت واقع ہو گئی اور ان میں وائرس کی موجودگی کی تصدیق بھی ہوئی۔
انہوں نے کسی دوسرے ملک کا سفر نہیں کیا تھا تاہم پام کا کچا رس استعمال کیا تھا۔
اس خاتون کے قریب رہنے والے تمام 35 افراد کے ٹیسٹ بھی کیے گئے جو کہ نیگیٹیو آئے تاہم پھر بھی ان کو مانیٹر کی جا رہا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق متاثرہ خاتون کے علاوہ نیپا وائرس کا کوئی کیس ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے۔
انڈیا میں بھی دو کیس سامنے آنے کے بعد پاکستان سمیت کئی ممالک کے ایئرپورٹس پر سکریننگ کی جا رہی ہے (فوٹو: روئٹرز)
نیپا ایک ایسا وائرس ہے جو کھانے پینے کی ان اشیا سے پھیلتا ہے جو چمگادڑوں سے آلودہ ہوں، یہ 75 فیصد تک مہلک ہو سکتا ہے تاہم یہ لوگوں کے درمیان آسانی سے نہیں پھیلتا۔
انڈیا کے مغربی بنگال میں اس کا کیسز سامنے آنے کے بعد ملائشیا، تھائی لینڈ، انڈونیشیا اور پاکستان نے ایئرپورٹس پر پہنچنے والوں لوگوں کے ٹمپریچر کی چیکنگ شروع کر دی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جمعے کو بتایا گیا کہ اس کے بین الاقوامی سطح پر پھیلنے کے خدشات کم ہیں وہ موجودہ معلومات کی بنا پر سفری یا تجارتی پابندیوں کی سفارش نہیں کرتا۔
2025 کے دوران بنگلہ دیش میں چار ایسے افراد انتقال کر گئے تھے جو وائرس سے متاثرہ تھے اور لیبارٹری ٹیسٹوں سے اس کی تصدیق ہوئی تھی۔
اس وقت نیپا وائرس کے علاج کے لیے کوئی باضابطہ اور مصدقہ دوا یا ویکسین سامنے نہیں آئی ہے۔