Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’رکوع میں گئے تو پہلے فائرنگ پھر دھماکہ سنا‘، عینی شاہدین نے امام بارگاہ میں کیا دیکھا؟

’جماعت کے دوران جیسے ہی رکوع میں جھکے تو فائرنگ کی آواز سنی اور پھر زوردار دھماکے کی آواز آئی۔‘
52 سالہ محمد کاظم نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو پمز ہسپتال میں یہ تفصیلات بتائیں، جہاں دھماکے کے بعد بھی بڑی تعداد میں زخمی لائے جو اسلام آباد کے علاقے ترلائی کی امام بارگاہ میں اس وقت موجود تھے جب ایک خودکش حملہ آور وہاں گھسا۔
جمعے کو پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی کلاں میں نماز کے دوران ایک امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 32 افراد ہلاک جبکہ 160 سے زائد زخمی ہوئے۔
حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ واقعہ ترلائی کلاں میں واقع امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ میں پیش آیا تھا۔
محمد کاظم کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے اور اسلام آباد میں رہتے ہیں، دھماکے میں محفوظ رہے تھے تاہم اپنے ایک زخمی ساتھی کے ساتھ پمز پہنچے تھے۔
ان کے مطابق ’میں تقریباً بجے امام بارگاہ میں پہنچا اور امام کے پیچھے ساتویں یا آٹھویں قطار میں کھڑا ہوا۔ رکوع میں دھماکے کی آواز کے ساتھ در و دیوار لرز گئے اور چھت سے کچھ ملبہ میرے اوپر گرا۔‘
ان کے بقول ’باہر نکلا تو صحن میں لاشیں بکھری پڑی تھیں اور ایک خوفناک منظر تھا۔‘
اسی طرح دھماکے کے وقت امام بارگاہ میں موجود ایک اور شخص عمران محمود کا کہنا تھا کہ خودکش حملہ آور اس کے ممکنہ ساتھی اور رضاکار سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔

دھماکے میں 32 افراد ہلاک اور 160 سے زائد زخمی ہوئے (فوٹو: اے ایف پی)

’خودکش حملہ آور آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا تھا مگر ایک زخمی رضاکار نے اس پر پیچھے سے فائرنگ کی اور اس کی
ران میں گولیاں لگیں اور وہ گر پڑا اور پھر اٹھ کھڑا ہوا، اس کے ساتھی نے رضاکار پر فائرنگ کی۔ اس کے ساتھ ہی حملہ
یہ وفاقی دارالحکومت کا دوسرا مہلک ترین حملہ تھا، اس سے قبل ستمبر 2008 میں ایک فائیوسٹار ہوٹل پر ہونے والے خودکش ٹرک بم حملے میں 60 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
محمد کاظم نے کہا کہ دھماکے کے بعد بچ جانے والے افراد زخمیوں کی مدد کرتے ہے۔
’لوگ اپنی گاڑیوں میں لاشوں اور زخمی کو ڈال کر ہسپتال لے
جاتے رہے جبکہ ایمبولیسز 20 سے 25 منٹ کے بعد پہنچیں۔‘
پچھلے تین چار ہفتوں سے اسی امام بارگاہ میں نماز ادا کرنے والے محمد کاظم کا کہنا تھا کہ وہاں سکیورٹی کا انتظام کمزور تھا۔
’مجھے وہاں کوئی سکیورٹی کا کوئی بہتر انتظام کبھی دکھائی نہیں دیا تھا اور رضاکار اپنے طور پر ہی یہ کام کر رہے تھے اور ان کے پاس ضروری آلات کی بھی کمی تھی۔‘

 

شیئر: