Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ کا غزہ کے معاملے پر ’بورڈ آف پیس‘ کا اجلاس 19 فروری کو منعقد کرنے پر غور

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوری کے اواخر میں ’بورڈ آف پیس‘ بنانے کا اعلان کیا تھا (فوٹو: گیٹی امیجز)
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے امریکی ویب سائٹ ایکسیئس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بنائے گئے ’بورڈ آف پیس‘ کے تحت رہنماؤں کا پہلا اجلاس 19 فروری کو منعقد کرنے پر غور کر رہا ہے جو غزہ کے ایشو پر ہو گا۔
رپورٹ میں ایک امریکی سرکاری عہدیدار اور چار ممالک کے سفرا کا حوالہ دیا گیا ہے جن کو اعتماد میں لیا گیا ہے۔
 رپورٹ کے مطابق اس اجلاس میں غزہ کی تعمیر نو کے لیے فنڈ ریزنگ کانفرنس بھی متوقع ہے، تاہم یہ معاملات ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں اور ان میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ اجلاس امریکہ کے انسٹیٹیوٹ آف پیس میں منعقد کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اس سے ایک روز قبل 18 فروری کو وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کرنے والے ہیں۔
وائٹ ہاؤس اور امریکی وزارت خارجہ نے فوری طور پر تبصرے کے لیے کی گئی درخواستوں پر ردعمل نہیں دیا۔
جنوری کے اواخر میں صدر ٹرمپ نے اس بورڈ کا اعلان کیا تھا جس کی صدارت وہ خود کریں گے اور ان کے بقول ’اس کا مقصد عالمی تنازعات کو حل کرنا ہو گا۔‘
اس بورڈ کے بارے میں بہت سے ماہرین نے تشویش ظاہر کی ہے اس سے اقوام متحدہ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
دنیا بھر کی حکومتوں نے صدر ٹرمپ کی جانب سے اقدام میں شامل ہونے کی دعوت پر محتاط ردعمل ظاہر کیا ہے۔
اگرچہ اس میں امریکہ کے مشرق وسطیٰ کے کچھ اتحادی شامل ہو چکے ہیں تاہم اس کے بہت سے روایتی مغربی اتحادی دور ہی رہے ہیں۔
نومبر کے وسط میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں منظور کی گئی قرارداد میں بورڈ اور اس کے ساتھ کام کرنے والے ممالک کو غزہ میں انٹرنیشنل سٹیبلائزین فورس بنانے کا اختیار دیا۔
جہاں صدر ٹرمپ کے ہی منصوبے کے تحت اکتوبر میں ایک نازک جنگ بندی کا آغاز ہوا تھا جس پر اسرائیل اور فلسطین کے عسکری گروپ نے دستخط کیے تھے۔
 پچھلے برس کے اواخر میں سامنے آنے والے اس منصوبے کے تحت بورڈ کا مقصد غزہ کی عارضی حکومت کی نگرانی کرنا تھا۔ 

 رپورٹ کے مطابق اس اجلاس میں غزہ کی تعمیر نو کے لیے فنڈ ریزنگ کانفرنس بھی متوقع ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

اس کے بعد صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ عالمی تنازعات سے نمٹنے کے لیے اس میں توسیع کی جائے گی۔
اس کے حوالے سے بہت سے ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی غیرملکی علاقے کے معاملات کی نگرانی کے لیے بورڈ کا بنایا جانا نوآبادیانی ڈھانچے سے مشابہ ہے اور اس میں فلسطینیوں کو شامل نہ کیے جانے پر بھی تنقید کی۔
اکتوبر میں شروع ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے کی بار بار خلاف ورزیاں سامنے آ چکی ہیں جن میں ساڑھے پانچ سو سے زائد فلسطینی اور چار اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکتوں کی رپورٹس ہیں۔
2023 کے اواخر میں شروع ہونے والے اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 71 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ غزہ کی پوری آبادی کو اندرونی طور پر بے گھر ہونا پڑا اور غذائی قلت کے بحران نے بھی سر اٹھایا۔
انسانی حقوق کے متعدد ماہرین، سکالرز اور اقوام متحدہ اس صورت حال کو نسل کشی کے مترادف قرار دے چکے ہیں۔

 

شیئر: