بچے ڈاکٹروں سے رجوع نہیں کرسکتے

نیویارک.... یونیورسٹی آف ایلینوائے نے ملک گیر سروے کے نتیجے میں پیڈریاٹکس کی صورتحال کے حوالے سے جاری ہونے والے اعدادوشمار کے تجزیے کے بعد انکشاف کیا ہے کہ امریکہ کے تقریباً50فیصد بچے اور نو عمر لڑکے اپنی مرضی سے ڈاکٹروں کے پاس چلے جاتے ہیں حالانکہ سرکاری ہدایات یہ ہیں کہ 13سال سے کم عمر کے بچے ڈاکٹروں سے رجوع نہیں کرسکتے۔ ضرورت ہے کہ ان کے ساتھ والدین یا کوئی بڑا آدمی موجود رہے۔ رپورٹ کے مطابق متذکرہ 50فیصد بچوں میں بھی اکثریت ان کی ہوتی ہے جو کبھی ڈ اکٹروں کے روبرو پیش نہیں ہوتے۔ حکومت نے 1992 ءمیں نوعمر بچوں کیلئے تنہا ڈاکٹروں سے رجوع کرنے کیلئے کم سے کم 13سال کی عمر سے مشروط کردیا تھا۔ اس سلسلے میں تحقیقی کام کرنے والے ایک سائنسدان کا کہناتھا کہ ڈاکٹروں کو چاہئے کہ وہ بچوں کو مروجہ قوانین پر سختی سے عمل کرنے کی طرف راغب کریں جبکہ دوسرے لوگوں کا کہناہے کہ بہت سے والدین بھی بچوں کیلئے ڈاکٹروں کے پاس جانے کے کام کو کچھ زیادہ پیچیدہ بنادیتے ہیں اور پھر بچے خود ہی ڈاکٹروں کے پاس پہنچ جاتے ہیں، جو غلط ہے۔
 

شیئر: