ہڑتال کا آج دوسرا دن: کولکتہ میں جھڑپیں،2طالب علم زخمی

نئی دہلی۔۔۔  مرکزی ٹریڈ یونینوں کی 2روزہ ملک گیرہڑتال کا آج دوسرا دن ہے ۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں ہڑتال کاجزوی اثر نظر آرہا ہے۔منگل کو مہاراشٹر ، بنگال، کیرالہ، دہلی، منی پور ،آسام، تامل ناڈو اور تریپورہ جیسی ریاستوں میں ہڑتال کا اثر دیکھا گیا۔کولکتہ میں بدھ کی صبح  مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی ( ایم سی پی) کے کارکن سڑکوں پر اتر آئے اور حکومت کی پالیسیوں کیخلاف مظاہرے اور نعرے بازی کی۔پولیس نے ایم سی پی کے رہنما سوجن چکرورتی سمیت متعددمظاہرین کو حراست میں لے لیا۔کولکتہ کے جادھوپور بس اسٹیشن میں ڈرائیوروں کو ہیلمٹ پہن کر بس چلاتے ہوئے دیکھا گیا۔ممبئی میں بسوں کی بیسٹ سروس متاثر ہوئی ۔ اس کے ملازمین سڑکوں پر اتر کر اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی۔انہوں نے تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کیا اورکہا کہ 2007ء کے بعد سے بھرتی کئے گئے اسٹاف کو ماسٹر گریڈ ملازمین کا درجہ دیا جائے اور بیسٹ کا بجٹ بی ایم سے مربوط کردیا جائے ۔بنگال میں ہڑتال کا اثر آج جزوی طور پر دیکھنے میں آیا۔مشرقی ریلوے کے ہاوڑہ اور سیالدہ ڈویژن اور جنوب مشرقی ریلوے زون میں ٹرینوں کی آمدو رفت متاثر ہوئی۔مظاہرین نے ضلع جنوبی 24پرگنہ کے لکھی کانت پور، کیننگ ، اتر24پرگنہ کے مدھیہ گرام ،حسن آباد اور باراسات میں ٹرینوں کو روکنے کی کوشش کی جہاں مظاہرین اور پولیس کے مابین جھڑپیں ہوئیں۔بہار میں بھی آج ٹریڈ یونینوں کی ہڑتال کا جزوی اثر نظر آیا۔ پٹنہ سمیت دیگر کئی اضلاع میں یونین کے کارکنوں نے مظاہرے کئے اور حکومت کیخلاف نعرے بازی کی۔کیرالہ میں آدھی رات کو سرکاری پریس سے منسلک ملازمین نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ٹریڈ یونین ملازمین کے 2روزہ ہڑتال کے آخری دن کچھ مقامات سے تشدد کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔مغربی بنگال کے ہاوڑہ میں مظاہرین اور یونین کے حامیوں کی جانب سے کئے جانے والے پتھراؤ میں2 طالبعلم زخمی ہوگئے۔ بس پر پتھراؤ جھکیرا،ہاوڑہ شاہراہ پر واقع شان پور موڑ پر کیاگیاجس میں بس کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔
مزید پڑھیں:- - - - - -دہلی: بدمعاشوں نے نوجوان کو سرعام قتل کردیا

 

شیئر: