Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

غزہ ایڈوائزری پینل پر اسرائیل کا اعتراض، صدر ٹرمپ کے امن بورڈ کی رکنیت میں توسیع کے لیے ایک ارب ڈالر درکار

اسرائیل نے کہا کہ اس بورڈ کی ساخت اسرائیل کے ساتھ مشاورت کے بغیر طے کی گئی ہے (فوٹو: روئٹرز)
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اتوار کو اپنی حکمران اتحادی جماعتوں کا اجلاس طلب کیا جس میں وائٹ ہاؤس کی جانب سے قائم کیے گئے غزہ سے متعلق ایک مشاورتی پینل کی ساخت پر اعتراض اٹھایا گیا۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اسی ہفتے وائٹ ہاؤس نے ’غزہ ایگزیکٹو بورڈ‘ کے قیام کا اعلان کیا تھا، جو ایک وسیع تر ’بورڈ آف پیس‘ کے تحت کام کرے گا۔ یہ بورڈ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیرِصدارت قائم کیا جانا ہے اور غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ان کے 20 نکاتی منصوبے کا حصہ ہے۔
ایگزیکٹو بورڈ کو مشاورتی حیثیت حاصل ہوگی جس میں ترکیہ کے وزیرِ خارجہ حاکان فدان اور قطری سفارت کار علی الثوادی سمیت مختلف علاقائی اور بین الاقوامی شخصیات شامل ہیں۔
سنیچر کی رات نیتن یاہو کے دفتر نے ایگزیکٹو بورڈ کی تشکیل پر باقاعدہ اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اس بورڈ کی ساخت اسرائیل کے ساتھ مشاورت کے بغیر طے کی گئی ہے۔
وزیرِاعظم کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ ’بورڈ آف پیس کے ماتحت قائم غزہ ایگزیکٹو بورڈ کی تشکیل سے متعلق اعلان اسرائیل کے ساتھ ہم آہنگی کے بغیر کیا گیا اور یہ اسرائیلی پالیسی کے برخلاف ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ وزیرِاعظم نے وزیرِ خارجہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکی وزیرِ خارجہ سے رابطہ کریں۔

رکن ملک کی مدتِ رکنیت چارٹر کے نافذ ہونے کی تاریخ سے زیادہ سے زیادہ تین سال ہوگی (فوٹو: اے ایف پی)

ادھر روئٹرز کے مطابق امریکی انتظامیہ کی جانب سے تقریباً 60 ممالک کو بھیجے گئے ایک مسودہ چارٹر کے مطابق نئے ’بورڈ آف پیس‘ کی رکنیت تین سال سے زیادہ برقرار رکھنے کے خواہاں ممالک کو ایک ارب ڈالر نقد ادا کرنا ہوں گے۔
چارٹر میں کہا گیا ہے کہ ہر رکن ملک کی مدتِ رکنیت چارٹر کے نافذ ہونے کی تاریخ سے زیادہ سے زیادہ تین سال ہو گی، جس میں توسیع بورڈ کے چیئرمین کی منظوری سے ممکن ہو گی۔ تاہم یہ شرط ان ممالک پر لاگو نہیں ہوگی جو پہلے سال کے اندر ایک ارب ڈالر سے زائد نقد رقم فراہم کریں گے۔

 

شیئر: