سہیلی کی معذرت

***شہزاد اعظم***
ہماری نانی اماںکو ایک شوق بے حد تھا، وہ ہر ایری غیری کو اپنی سہیلی بنالیا کرتی تھیں۔کوئی آیا ملنے آجاتی تو سہیلی بن کے نکلتی، کوئی مشاطہ آجاتی تو سہیلی ہوکے نکلتی،یہاں تک کہ کوئی بھولی بھٹکی ’’پہیلی ‘‘ گھرآجاتی تو’’ سہیلی‘‘ہوجاتی۔ انجام یہ ہوا نانی جان نے اپنی 95 سالہ زندگی میں 271سہیلیاں بنا لی تھیں۔ دریں اثناء یہ امر بھی لائق تجسس ہے کہ ہم اپنی نانی کے بے حد لاڈلے نواسے تھے۔ان کی اور ہماری عمر میں صرف 90برس کا فرق تھا مگروہ ہماری بے مثال سہیلی تھیں۔ اسی وجہ سے نانی کی تمام سہیلیاں ہماری بھی سہیلیاں بن گئی تھیں۔ وہ ہم سے اکثر اپنے شوہروں کی جانب سے کی جانے والی زیادتیوں کا ذکر کیا کرتی تھیں۔ کوئی بتاتیں کہ ان کا شوہر انہیں انتہائی تضحیک آمیز انداز میں جھڑکتا ہے ، کوئی بتاتیں کہ ان کا میاں انہیں کسی ظالم تھانیدار کی طرح پیٹتا ہے ، کوئی بتاتی کہ ان کے خاوند نے انہیں بالکل باندی بنا کر رکھا ہوا ہے۔ نانی اماں کی ان سہیلیوں کے گھریلو حالات کی سنگینی ہمیں آنسو بہانے پر مجبور کر دیتی۔ہمارا دل چاہتا کہ ان تمام مظلوم خواتین کو ان کے ظالم اور جاہل شوہروں سے طلاق دلوا دی جائے ۔ اس حوالے سے جب ہم اپنی نانی اماں کو کوئی مشورہ دیتے تو وہ ہماری اس بات کو ’’نانی نواسے کی کتابِ محبت ‘‘کے ورق سے حرفِ غلط کی طرح مٹا دیا کرتیں اور کہتیں کہ ذرا ذرا سی بات پر طلاق تھوڑی لی جاتی ہے۔ عورت کو تحمل مزاجی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شوہر کے دل کو موم کرنے کی کوشش جاری رکھنی چاہئے اور اللہ کریم سے دعا کرنی چاہئے ، یوںسب کام درست ہو جاتے ہیں۔بہر حال، آج ہماری نانی کو دارِ فانی سے رخصت ہوئے کئی برس بیت چکے ہیں۔
 2018ء کے انتخابات کے دوران ہم کراچی میں تھے،ایک روزہم  نے ’’آئیمو‘‘کی ایپ پر ’’امت الحبیب‘‘ نام دیکھا ۔ ہم نے اپنی بیگم سے کہا کہ وہ اس نمبر پر گفتگو کر کے دیکھیں کہ یہ کون ہیں۔ انہوں نے بات کی اور چند ساعتوں کے بعد ہی ہمیں یہ مژدہ جانفزا سنا دیا کہ محترمہ 102سال کی خاتون ہیں اور آپ کی نانی کی انتہائی ’’پکی پختہ‘‘ سہیلیوں میں شامل ہیں۔ ہم نے فوراً ہی انہیں کال ملائی۔ دوسری جانب سے ایسی صدا بلند ہوئی جو کم از کم ہماری آواز سے کہیں کم عمر تھی۔ ہم نے ا نہیں اپنا تعارف کرایا تو وہ اتنی خوش ہوئیں اتنی خوش ہوئیں کہ نہ ہی پوچھیں۔ وہ فرطِ جذبات سے رو پڑیں اور پھر کہنے لگیں کہ تم کہاں ہو، لاہور ، کراچی، اسلام آباد، پتوکی، چیچو کی ملیاں، پنڈ دادنخان، بھائی پھیرویا ہلوکی، ہم نے کہا کہ ہم کراچی میں ہیں۔ یہ سنتے ہی انہوں نے کہا کراچی میں کہاں، گیدڑ کالونی، فقیر کالونی، بھینس کالونی، مچھر کالونی ،بہار کالونی، پٹھان کالونی، پنجاب کالونی،بلوچ کالونی، نصرت بھٹوکا لونی ،دو منٹ چورنگی یا ناگن چورنگی کہاں ہو، ہم نے کہا نانی ! ہم تو پاپوش میں ہیں۔ جواباً کہنے لگیں ابھی تک’’ جوتے ‘‘سے باہر نہیںنکل سکے، حیرت ہے ۔ہم نے کہا کہ وقت کروٹ لے رہا ہے ، تبدیلی آ نہیں رہی، تبدیلی آ چکی ہے ۔یہ سن کر نانی کی سہیلی ’’امت الحبیب‘‘ سٹپٹا گئیں ۔ فرمانے لگیں! گھاس تو نہیں چر گئے۔ کیسی تبدیلی، کہاں کی تبدیلی؟ چند ماہ قبل بازار گئی تھی تو خربوزے خریدے تھے 60روپے کلو،کچھ عرصے کے بعد گئی تو ان کا بھائو تھا 120روپے کلو، میں نے کہا کہ قیمت دگنی کیوں ہوگئی ؟ پھل فروش نے جواب دیا کہ ’’تبدیلی‘‘ آگئی ہے ۔کئی ماہ قبل میں نے ’’صحتمند‘‘ کینو خریدا تو ایک کینو12روپے کا ملا تھا۔ اب میں نے ویسا ہی صحتمند کینو خریدا تو اس کی قیمت تھی 20روپے۔ میں نے پھل فروش سے استفسار کیا کہ یہ اضافہ کس لئے؟ اس نے جواب دیا کہ تبدیلی آ چکی ہے۔ماضی میں چور ، چوری کرتا تھا، بھاگ جاتا تھا، پولیس پکڑلیتی تھی تو سزا ہو جاتی تھی ۔ آج چور چوری کرتا ہے،پولیس پکڑتی نہیں اور پکڑ لیتی ہے تو اسے ’’باعزت انداز میں ضمانت‘‘ پر رہاکر دیاجاتا ہے۔ اس حوالے سے جب سوال کیاجاتا ہے کہ یہ سب کیا ہے تو جواب ملتا ہے کہ ’’تبدیلی آگئی ہے‘‘۔حیرت تو اس بات پر ہے کہ جس پر چند لاکھ یا چند سو لاکھ کے غبن یا خوردبرد کا الزام ہے اور وہ دھائیاں دے رہا ہے کہ میں نے غبن نہیں کیا، میں معصوم ہوں ، وہ تو بدنام زمانہ جیل میں صعوبتیں جھیل رہا ہے اور جس نے ملک و قوم کے کھربوں لوٹے ہیں اورعوام کو زندہ درگور کرنے کی سازش کی، وہ آئیں بائیں شائیں کر کے صاحبان اختیار کی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے ، وہ اپنے محل نما گھر کے لان میں کھیل رہا ہے۔میں نے جب اس حوالے سے ایک ذمہ دار سے استفسار کیا تو اس نے کہا ’’اماں جی!یہ سب اس لئے ہو رہا ہے کیونکہ ’’ تبدیلی‘‘ آ گئی ہے۔
کل 2019ء میں پہلی مرتبہ ہماری اور نانی اماں کی مشترکہ 106سالہ سہیلی ’’امت الحبیب‘‘ نے نہ صرف حیرت و استعجاب بلکہ شرمندگی و خفت کے ساتھ کال کی اور کہنے لگیں، اُس روز میں نے تمہیں ’’تبدیلی‘‘کے بہت طعنے دیئے تھے مگر آج میں معافی مانگتی ہوں۔ پتہ ہے کیوں؟ہوا یوںکہ میں کینو لینے بازار گئی، وہاں ایک نجی چینل کا رپورٹر لوگوں سے آراء لے رہا تھا۔ اس نے ایک پڑھے لکھے، لحیم شحیم نوجوان سے استفسار کیا کہ ڈالر کی قدر کہاں جا رہی ہے ، ملکی معیشت کا کیا بنے گا، مہنگائی کا کیا ہوگا؟وہ نوجوان پہلے تومسکرایا پھر ’’بے پروا عزم‘‘ کے ساتھ مسکراتے ہوئے کہا’’عمران خان ایک ا یسے آل رائونڈر ہیں جوبولرز اینڈ سے گیند کراتے ہیں اور خود ہی بیٹنگ اینڈ پر پہنچ کر اسی گیند کوچھکا مارتے ہیں ۔ نابالغ اذہان اسے ’’یو ٹرن‘‘ سمجھتے ہیں حالانکہ یوں’’پلٹنا، جھپٹنا، جھپٹ کر پلٹنا‘‘ صرف اس لئے ہے تاکہ ’’میچ‘‘ جاری رہ سکے ۔‘‘ یہ کہہ کر اس نوجوان نے ’’غراتے‘‘ ہوئے کہا، ڈالر خواہ 1000کا ہو جائے، کرپشن کرنے والوں کو چھوڑنا نہیں ہے۔‘‘ نانی کی سہیلی نے کہا کہ اس نوجوان کی باتیں سن کر یقین ہو گیا کہ’’تبدیلی آچکی ہے میں نہایت شرمندہ ہوں، اپنے کہے کی معافی مانگتی ہوں۔ 
 

شیئر: