قوت بخش ادویہ پررقم کا ضیاع

لندن۔۔۔ دنیا بھر میں بہت سے لوگ اپنے آپ کو چاق و چوبند اور تندرست رکھنے کیلئے بہت سی اضافی دوائیں یا سپلیمنٹس استعمال کرتے ہیں اور یہ ایک عادت بن چکی ہے۔ دوا ساز کمپنیاں بھی اس تصور کو بڑھاوا دینے میں پیش پیش ہیں کہ یہ سپلیمنٹس انکی قوت مدافعت اور چستی و چالاکی میں اضافہ کرتی ہیں۔ مگر برطانیہ کے ممتاز فارماکولوجسٹ ڈاکٹر پال کلیٹن کا کہناہے کہ یہ ساری باتیں دوا ساز کمپنیوں نے پھیلائی ہیں کیونکہ سائنسی تحقیق و تجربات سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ان سپلیمنٹس میں کوئی ایسی چیز نہیں ہوتی جو آپ کی قوت بڑھا سکتی ہیں مگر اسے استعمال کرنے والا نفسیاتی طور پر خود کو بہتر محسوس کرنے لگتا ہے۔ مگر بیشتر لوگ اومیگا تھری، وٹامن سی اور دوسرے ملٹی وٹامنز کے چکر میں سپلیمنٹس کھاتے ہیں مگر انکابھی کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ جیب ضرور خالی ہوتی ہے۔ ڈاکٹر پال کے مطابق بیشتر سپلیمنٹس عام طور پر ہر جگہ فروخت ہوتے ہیں۔ مگر ان میں سے اکثریت ایسے سپلیمنٹس کی ہوتی ہے جنکی تیاری وغیرہ میں کسی نفاست کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ڈاکٹر کلیٹن کاکہناہے کہ اگر ہم تندرست ہیں تو ہمیں وٹامنز کی کوئی ضرورت نہیں۔رہن سہن اچھا ہو تو انسان ہر حال میں خوش و تندرست رہ سکتا ہے۔

شیئر: