بلوچستان کے ایک اور ضلع واشک میں اتوار کی صبح بلوچ شدت پسندوں نے حملہ کیا ہے۔ مقامی حکام کے مطابق درجنوں مسلح افراد شہر میں داخل ہو کر مختلف سرکاری اور سکیورٹی تنصیبات کو نشانہ بنایا اور نقصان پہنچایا۔
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب گذشتہ تین دنوں میں بلوچستان کے دس سے زائد اضلاع میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے درجنوں مقامات پر منظم حملے ہو چکے ہیں اور تازہ حملے میں بھی اس مسلح تنظیم کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ان حملوں کے بعد سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ رات مزید 22 دہشتگرد مارے گئے جس کے بعد ہلاک دہشتگردوں کی تعداد 177 تک پہنچ گئی ہے۔
مزید پڑھیں
-
بلوچستان میں حملے، دو جگہ خواتین کو استعمال کیا گیا: وزیر دفاعNode ID: 900157
واشک
واشک میں تعینات ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اردو نیوز کو بتایا کہ کوئٹہ سے تقریباً 470 کلومیٹر دور واقع ضلع کے ہیڈ کوارٹر میں حملہ تقریباً 11 بجے شروع ہوا جب تقریباً 50 مسلح افراد 15 سے زائد موٹر سائیکلوں اور دو گاڑیوں میں سوار ہو کر شہر میں داخل ہوئے۔
اہلکار کے مطابق مسلح افراد تقریباً چار گھنٹے تک علاقے میں موجود رہے۔ اس دوران وہ ایس پی کے دفتر اور رہائش گاہ میں داخل ہوئ اور انہیں آگ لگا دی۔ اسی کے ساتھ نادرا کا دفتر، نیشنل بینک، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے دفتر اور پولیس کی ایک گاڑی کو بھی جلا دیا گیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ حملہ آور ڈی سی کی دو گاڑیاں اور پولیس کی دو سرکاری گاڑیاں بھی چھین کر ساتھ لے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس دوران متعدد اہلکاروں اور افسران کو یرغمال بھی بنایا گیا تاہم بعد میں انہیں چھوڑ دیا گیا۔ حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
اہلکار کے مطابق حملوں کے دوران سرکاری عمارتوں اور ایف سی کیمپ کے قریب دھماکوں اور شدید فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی رہیں جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ ایف سی اہلکاروں نے شدید مزاحمت کی جس کے باعث وہ آگے نہیں بڑھ سکے۔

واشک بلوچستان کے رقبے کے لحاظ سے بڑے اضلاع میں شامل ہے اور اس کی سرحدیں خاران، چاغی، پنجگور، خضدار، سوراب کے اضلاع کے علاوہ ہمسایہ ملک ایران سے بھی ملتی ہیں۔
اس سے قبل ہفتے کی علی الصبح کوئٹہ سمیت بلوچستان کے بارہ سے زائد شہروں میں مختلف مقامات پر بیک وقت حملے کیے گئے تھے جن میں سرکاری دفاتر، پولیس تھانے، بینک اور سکیورٹی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
سرکاری حکام کے مطابق ان حملوں میں 17 سکیورٹی اہلکار اور 31 عام شہریوں سمیت مجموعی طور پر 48 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اتوار کو بتایا تھا کہ حملوں سے قبل اور بعد تقریباً 40 گھنٹوں میں کی گئی جوابی کارروائیوں میں 145 دہشت گرد بھی مارے جا چکے ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کی جانب سے پیر کی دوپہر کو بتایا گیا ہے کہ ’سکیورٹی فورسز بلوچستان بھر میں فتنہ الہندوستان خوارج کے حملہ آوروں کے خلاف کلیئرنس اور سینٹائزیشن آپریشن جاری ہیں اور گزشتہ رات فالو آپ آپریشن کے دوران 22 خوارج کو ہلاک کیا گیا۔‘
سکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ تین دنوں کے دوران مجموعی طور پر ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی تعداد 177 تک پہنچ گئی ہے۔
سکیورٹی ذرائع کی جانب سے مزید بتایا گیا کہ خفیہ ادارے اور پولیس سمیت سکیورٹی فورسز دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف گھیرا مزید سخت کررہی ہیں اور انہیں مزید بھاری جانی نقصانات کا سامنا ہے۔

نوشکی میں صورتحال بدستور کشیدہ
بلوچستان کے بیشتر شہروں میں حملوں کے ایک دن بعد حالات معمول پر آ گئے تھے، لیکن کوئٹہ سے تقریباً ڈیڑھ سو کلومیٹر دور افغانستان کی سرحد اور مستونگ، چاغی، خاران سے ملحقہ نوشکی میں کشیدگی برقرار ہے۔
مقامی لوگوں کے مطابق شہر کے بازار اور دکانیں دو دن بند رہیں، تاہم پیر کو چند دکانیں کھول دی گئیں تاکہ شہری بنیادی اشیاء خرید سکیں۔ بیشتر لوگ خوف کے سبب گھروں تک محدود ہیں اور ڈپٹی کمشنر ہاؤس اور ایف سی کے کیمپ کے اطراف میں رہائش پذیر افراد نے اپنے رشتہ داروں کے گھروں کا رخ کیا۔
ایک مقامی شہری شاہد بلوچ (فرضی نام ) نے بتایا کہ ایف سی کیمپ کے مرکزی دروازے کے قریب ہونے والے دھماکے سے بجلی کی تنصیبات کو نقصان پہنچا جس کے باعث شہر کے ایک بڑے حصے میں تین دن سے بجلی معطل ہے۔ پانی کی قلت پیدا ہوگئی ہے کیونکہ لوگ زیادہ تر سرکاری ٹیوب ویل پر انحصار کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ نوشکی شہر میں موبائل انٹرنیٹ مکمل بند اور فون سروس جزوی طور پر معطل ہے۔
خیال رہے کہ 31 جنوری کو نوشکی میں درجنوں مسلح افراد نے ڈپٹی کمشنر اور ایس پی کے دفاتر، عدالت، پولیس تھانے، جیل، سی ٹی ڈی دفتر، بینک اور ایف سی کے کیمپ پر حملے کیے۔ حملہ آور بارود سے بھری گاڑی کیمپ کے دروازے ٹکرانے کے بعد اندر داخل ہوئےجس کے بعد ان کا سکیورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا۔
مقامی لوگوں کے مطابق سنیچر کی رات سے اب تک متعدد دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنائی گئی ہیں جن میں دو بہت بڑے دھماکے بھی شامل ہیں۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق جوابی کارروائیاں جاری ہیں جن میں ہیلی کاپٹر اور ڈرون کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔
نوشکی کے قریب کوئٹہ کو ایران سے ملانے والی مرکزی شاہراہ این-40 تین دن سے بند ہے، جس سے سینکڑوں گاڑیاں اور مسافر پھنس گئے اور پاکستان و ایران کے درمیان تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔
ایک مقامی پولیس افسر کے مطابق دہشت گردوں کی جانب سے نوشکی کو کوئٹہ اور خاران سے ملانے والی سڑکوں کے اہم پلوں کے نیچے بم نصب کرنے کی اطلاعات ہیں جس کی وجہ سے انتظامیہ نے سڑکیں آمد و رفت کے لیے بند کر دی ہیں۔
حملہ آوروں نے شہر کے دیگر حصوں میں پولیس تھانوں، ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر کو آگ لگائی جبکہ سرکاری گاڑیاں اور اسلحہ چھین لیا گیا۔ مسلح افراد نے جیل توڑ کر وہاں موجود تمام قیدیوں کو رہا کرالیا جبکہ اہلکاروں کو یرغمال بناکر ان کا اسلحہ چھین لیا۔
نوشکی کے ڈپٹی کمشنر محمد حسین ہزارہ اور اسسٹنٹ کمشنر ماریہ شمعون بھی اس دوران مسلح افراد کے ہاتھوں اغوا ہوئے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اتوار کو بتایا تھا ڈپٹی کمشنر بعد ازاں محفوظ مقام پر پہنچ گئے، تاہم ان سے رابطہ پھر نہیں ہو سکا۔ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے دونوں افسران کی رہائی کی تصدیق کی ہے، لیکن وہ اب تک منظر عام پر نہیں آئے۔
موبائل انٹرنیٹ اور ٹرین سروس تیسرے روز بھی معطل
بلوچستان بھر میں گزشتہ تین دنوں سے موبائل فون انٹرنیٹ سروس معطل ہے جبکہ صوبے میں ٹرین سروس بھی بند ہے۔ کوئٹہ آنے اور جانے والی تمام مسافر ٹرینیں تین دن تک نہیں چل سکیں۔

حملوں کے بعد بلوچستان کو پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا سے ملانے والی اہم شاہراہیں سکیورٹی خدشات کے باعث ہفتے کی صبح سے اتوار کی دوپہر تک بند رہیں جس کے نتیجے میں ہزاروں مسافر اور گاڑیاں مختلف مقامات پر پھنس گئیں۔ بعض علاقوں میں مسافروں نے احتجاج بھی کیا جس کے بعد بیشتر شاہراہیں کھول دی گئیں، تاہم کوئٹہ کو ایران سے ملانے والی مرکزی شاہراہ این-40 نوشکی کے مقام پر اب بھی بند ہے۔
کوئٹہ میں صورتحال معمول پر
کوئٹہ میں صورتحال معمول آگئی ہے، تاہم شہر میں خوف اور غیر یقینی کی کیفیت برقرار ہے۔ ریڈ زون جانے والے راستے بند رکھے گئے ہیں جبکہ ہفتے کو ہونے والے خودکش حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی کا ملبہ اور جلنے والی گاڑیاں بعض مقامات پر اب بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔
آئی جی پولیس طاہر خان نے اتوار کو دیگر اعلیٰ افسران کے ہمراہ اتوار کو متاثرہ مقامات اور تھانوں کا دورہ کیا اور پولیس اہلکاروں سے خطاب کرکے ان کا حوصلہ بڑھایا۔
کوئٹہ میں 31 جنوری کی صبح سے شام تک مختلف مقامات پر درجنوں مسلح افراد ٹولیوں کی شکل میں گھومتے نظر آئے۔ پولیس کے مطابق ایک خودکش حملہ آور نے گورنر اور وزیراعلیٰ ہاؤس جانے والے راستے پر ریڈ زون کے قریب بارود سے بھری گاڑی ٹکرائی تھی جس میں ابتدائی تحقیقات کے مطابق 30کلو گرام سے زائد بارود کا استعمال کیاگیا۔ جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں چار پولیس تھانوں، نیو پولیس لائن، پولیس ٹریننگ کالج، ایف سی اور پولیس کی چوکیوں ، کیمپ اور گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔
سرکاری ذرائع نے کوئٹہ میں ایک ڈی ایس پی، ایک انسپکٹر، ایک سب انسپکٹر سمیت 13 پولیس اہلکاروں اور تین ایف سی اہلکاروں کی اموات کی تصدیق کی ہے۔ ایف سی اہلکاروں کو کوئٹہ کے علاقے مغربی بائی پاس، سریاب ، میاں غنڈی اور زرغون روڈ پر نشانہ بنایا گیا۔
سول ہسپتال میں تعینات ایک ڈاکٹر کے مطابق کوئٹہ میں 13 عام شہری بھی بم اور راکٹ حملوں اور فائرنگ کی زد میں آکر ہلاک ہوئے جن میں دو خواتین اور ایک بچہ بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔

پولیس کے مطابق مشرقی بائی پاس پر پولیس تھانہ خالق شہید اور نیو پولیس لائن کے باہر کھڑی درجنوں گاڑیوں کو نذرِ آتش کیا گیا جبکہ ہزارگنجی سبزی منڈی کے علاقے میں پانچ بینکوں کو نقصان پہنچایا گیا۔
حکام کے مطابق دو دنوں میں کلیئرنس کے دوران شہر میں مختلف مقامات سے دیسی ساختہ بم، دستی بم اور دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے والی وہ گاڑیاں ملی ہیں جو مسلح افراد نے کارروائیوں کے دوران شہریوں سے چھین کر کارروائیوں میں استعمال کیں۔ حکام کے مطابق کوئٹہ کے علاقے فیض آباد میں ایک آپریشن میں چار حملہ آور بھی مارے گئے۔
لوٹ مار کے واقعات میں ملوث شہریوں کو 48 گھنٹوں کی مہلت
کوئٹہ پولیس کا کہنا ہے کہ بعض علاقوں میں حملوں کے دوران ہجوم نے سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا اور کچھ مقامات پر لوٹ مار کے واقعات بھی پیش آئے۔ پولیس کے مطابق تھانوں کے باہر ضبط کی گئی گاڑیاں، رکشے، موٹر سائیکلوں کے علاوہ تھانوں اور بینکوں سے فرنیچر، کمپیوٹر، الیکٹرانکس اور دیگر سامان چوری کیا گیا۔
کوئٹہ پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’جب پولیس دہشت گردوں سے مقابلے میں مصروف تھی اس دوران بعض شرپسند شہریوں نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سرکاری املاک بمشول موٹر سائیکلیں، گاڑیاں رکشے جو کہ سرکاری تحویل میں تھے ان کو چوری کیا۔ یہ عمل خود بخود دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ سرکاری املاک کی چوری میں ملوث افراد کو 48 گھنٹوں کی مہلت دی گئی ہے کہ وہ چوری شدہ سامان متعلقہ تھانوں میں واپس کر دیں ان سے کوئی سوال نہیں کیا جائے گا۔ تاہم 48 گھنٹے بعد جس سے لوٹی گئی اشیاء برآمد ہوئیں ان انہیں دہشت گردوں کا ساتھی تصور کیا جائےگا۔
دفعہ 144 نافذ، موٹر سائیکل کی ڈبل سواری، چہرہ ڈھانپنے پر پابندی
بلوچستان حکومت نے امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر صوبے بھر میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔ اس کے تحت موٹر سائیکل کی ڈبل سواری، چہرہ ڈھانپنے، اسلحے کی نمائش، غیر رجسٹرڈ گاڑیوں کے استعمال، کالے شیشوں اور پانچ سے زائد افراد کے اجتماعات پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
تحقیقات اور کارروائیاں شروع
دوسری جانب سرکاری ذرائع نے اردو نیوز کو بتایا ہے کہ ان حملوں کے بعد پولیس، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی)، انٹیلی جنس اداروں اور دیگر سکیورٹی فورسز نے مشترکہ طور پر تحقیقات اور ساتھ ہی کارروائیاں شروع کردی ہیں۔

کوئٹہ میں تعینات ایک سینیئر سکیورٹی افسر نے اردو نیوز کو بتایا کہ حملوں کے تمام مقامات کی جیو فینسنگ کی جا رہی ہے، جبکہ سیف سٹی کے کیمروں سمیت قریبی علاقوں میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیجز بھی حاصل کی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق فوٹیجز اور دیگر شواہد کی مدد سے حملوں میں ملوث افراد اور ان کے مبینہ سہولت کاروں کی شناخت نادرا اور دیگر سرکاری ریکارڈز کے ذریعے کی جا رہی ہے۔
سکیوٹی افسر کے مطابق نہ صرف حملوں میں براہِ راست ملوث افراد بلکہ سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور لوٹ مار میں شامل عناصر کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے گی اور ان کے خلاف دہشت گردی سے متعلق دفعات کے تحت مقدمات درج کیے جا سکتے ہیں۔
عسکریت پسندوں کے اہلخانہ کے خلاف کارروائی کا عندیہ
حکومت نے حملوں میں ملوث کالعدم تنظیموں کے عسکریت پسندوں کے اہل خانہ کے خلاف بھی قانونی اور تادیبی اقدامات کا عندیہ دیا ہے جس کے تحت اپنے رشتہ دار کی عسکری سرگرمیوں میں شمولیت کی اطلاع نہ دینے والوں کے پاسپورٹ بلاک، بینک اکاؤنٹس منجمد اور دیگر پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اتوار کو پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ جن خاندانوں نے رضاکارانہ طور پر اپنے رشتہ داروں کے بارے میں اطلاع دی ان کے خلاف کارروائی نہیں کی جائے گی، تاہم جنہوں نے اطلاع نہیں دی ان کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔
یاد رہے کہ محکمہ داخلہ بلوچستان نے ستمبر 2025 میں ایک باضابطہ اعلامیہ جاری کیا تھا جس میں شہریوں کو خبردار کیا گیا تھا کہ اگر ان کے رشتہ دار دہشت گردی یا کسی کالعدم مسلح تنظیم میں ملوث پائے گئے اور اہل خانہ نے بروقت اس کی اطلاع نہ دی یا اس سے لاتعلقی کا اعلان نہ کیا تو ان کے خلاف بھی قانونی اور انتظامی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
اس اعلامیے کے مطابق ایسے خاندانوں کو جائیداد کی ضبطگی، بینک اکاؤنٹس منجمد کیے جانے، پاسپورٹ اور شناختی دستاویزات بلاک ہونے، موبائل سمز کی معطلی، سرکاری ملازمتوں سے برطرفی اور ریاستی مراعات سے محرومی جیسے اقدامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

کوئٹہ اور بلوچستان کے دس سے زائد اضلاع میں ہونے والے ان حملوں کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے جس نے ان کارروائیوں کو ’ہیروف ٹو‘ کا نام دیا ہے۔ تنظیم اس سے قبل اگست 2024 میں ’ہیروف ون‘ کے نام سے بھی مختلف شہروں میں اسی نوعیت کے حملے کر چکی ہے۔ تاہم بلوچستان کے دار الحکومت کوئٹہ میں کسی بھی مسلح تنظیم کی یہ سب سے بڑی اور اپنی نوعیت کی منفرد کارروائی تھی۔
حملوں میں خواتین کی شمولیت
صوبے میں یہ حملے اس لحاظ سے بھی منفرد تھے کہ اس میں تین یا اس سے زائد خواتین بھی شریک ہوئی ہیں۔ اس بار خواتین صرف خودکش حملوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ بعض مقامات پر انہیں مرد حملہ آوروں کے ساتھ مسلح کارروائیوں میں حصہ لیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ماضی میں بلوچ مسلح تنظیموں نے خواتین کو زیادہ تر خودکش حملوں تک ہی محدود رکھا تھا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے خواتین کی عسکری کارروائیوں میں شمولیت کو بلوچی روایات سے متصادم قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلوچیت کا نعرہ لگانے والوں نے خواتین کو بطور ایندھن استعمال کیا جس کی بلوچ تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔
خودکش حملہ آوروں کی شناخت
کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے خودکش حملوں میں ملوث تین خواتین اور ایک بڑی عمر کے شخص کی تصاویر اور ویڈیوز جاری کی گئی ہیں۔ یہ تینوں تنظیم کے مجید بریگیڈ کا حصہ بتائے گئے ہیں جو تنظیم کا خودکش سکواڈ ہے۔
تنظیم کے مطابق نوشکی میں خودکش حملہ کرنے والی خاتون کی شناخت 23 سالہ آصفہ مینگل کے نام سے کی گئی ہے جو نوشکی کی رہائشی بتائی جاتی ہیں جنہوں نے سکیورٹی فورسز کے ایک ہدف کے قریب بارود سے بھری گاڑی ٹکرا کر خودکش حملہ کیا۔
سرکاری حکام نے اس شناخت کی نہ تو تصدیق کی ہے اور نہ ہی اس کی تردید کی ہے۔
اسی طرح تنظیم کی جانب سے گوادر میں حملے میں ملوث ایک خاتون کی شناخت حوا بلوچ عرف دروشم کے طور پر بتائی گئی ہے جن کا تعلق گوادر سے ملحقہ ضلع کیچ کے علاقے تمپ کوہاڑ سے بتایا جاتا ہے۔
بعض اطلاعات کے مطابق ان کے والد نبی بخش ماضی میں بلوچ لبریشن آرمی سے وابستہ رہے اور عسکری سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہے تھے اور وہ نومبر 2021 میں کیچ میں ایک حملے کے دوران مارے گئے تھے۔
تنظیم کے دعوے کے مطابق نوشکی میں دوسرا خودکش حملہ 60 سالہ خاتون نے کیا ہے جس کی شناخت انہوں نے بولان کے علاقے غربوک کی رہوئشی ہتم ناز سمالانی بتائی ہے۔
تنظیم کے بیان کے مطابق مذکورہ خودکش حملہ آور 2015 سے بلوچ لبریشن آرمی سے وابستہ تھی اور 2016 میں بی ایل اے کے سابق سربراہ اسلم بلوچ کے ساتھ ایک فوجی کارروائی میں زخمی ہوئی تھیں جس کے بعد وہ فورسز کے ہاتھوں گرفتار بھی ہوئیں۔ تاہم ان معلومات کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔
تنظیم نے پسنی میں میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر پر خودکش حملہ کرنے والے شخص کی بھی ویڈیو اور تصاویر جاری کی ہیں جس کی سفید داڑھی اور عمر 50 سے 60 سال نظر آرہی ہے اس کا نامم فضل بلوچ اور تنظیمی نام ناکو میران بتایا گیا ہے۔
تاہم ان معلومات کی بھی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

امریکن ساختہ اسلحہ کا استعمال
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملوں میں خودکش جیکٹوں، بارود سے بھری گاڑیوں، دیسی ساختہ بموں، دستی بموں، گن سے داغے جانےوالے دستی بم، لائٹ مشین گنز، سب مشین گنز، راکٹ اور مارٹر گولوں کے علاوہ ڈرونز اور امریکی ساختہ اسلحہ کا بھی استعمال کیاگیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے میڈیا سے گفتگو میں تصدیق کی تھی کہ حملوں میں امریکی ساختہ وہ اسلحہ بھی استعمال کیاگیا جو افغانستان میں امریکی اور نیٹو فورسز کے انخلاء کے بعد مارکیٹ میں پھیل گیا۔
ان کا الزام تھا کہ ’دہشت گردوں کو ان کے آقا ہندوستان نے یہ اسلحہ خرید کر فراہم کیا۔‘
یہ الزام پہلی دفعہ نہیں لگا گزشتہ سال مسافر ٹرین جعفرایکسپریس کو ہائی جیک کرنے سمیت دیگر سنگین حملوں میں بھی بلوچستان اور پاکستانی حکومت یہ الزام عائد کرتی رہی کہ افغانستان سے سمگل ہوکر آنےوالے امریکی ساختہ اسلحہ کا استعمال ہوا ہے۔
وزیراعلیٰ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان دہشت گرد حملوں میں افغان شہری بھی ملوث ہونے کی اطلاع ملی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے لیے افغانستان کی سرزمین استعمال ہورہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی ایل اے کے سربراہ بشیر زیب بلوچ، بی ایل ایف کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نذر اور بی ایل اے کے خودکش سکواڈ مجید بریگیڈ کے سربراہ رحمان گل بھی افغانستان میں موجود ہیں۔
بی ایل اے کے سربراہ بشیر زیب طویل عرصے بعد ایک ویڈیو میں منظر عام پر آئے تھے جس میں وہ دیگر مسلح ساتھیوں کے ہمراہ موٹر سائیکلوں پر پہاڑی اور ویران علاقے میں نظر آرہے ہیں۔ تنظیم کا دعویٰ تھا کہ یہ ویڈیو بلوچستان میں بنائی گئی، تاہم وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو افغانستان میں بنائی گئی۔

باقی شہروں میں سنیچر اور اتوار کو کیا ہوا؟
کوئٹہ کے علاوہ مستونگ، نوشکی، قلات، وڈھ (خضدار)، دالبندین (چاغی)، خاران، گوادر، پسنی (گوادر) اور کیچ کے علاقوں تربت، تمپ، گومازی اور مند میں بھی سنیچر کو شدید حملے کیے گئے۔ ان میں سرکاری دفاتر، بینک، پولیس تھانے، سکیورٹی چوکیوں اور کیمپوں سمیت سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچا۔
ساحلی ضلع گوادر میں سنیچر کی صبح ملا بند، ناگوری وارڈ اور لیبر کیمپ پر حملوں میں بارہ شہری ہلاک ہوئے جبکہ سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں خاتون سمیت کم از کم پانچ حملہ آور مارے گئے۔ اسی طرح گوادر کے علاقے پسنی میں میری ٹائم ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر پر خودکش حملے اور فائرنگ میں ایک نیوی اہلکار شاہ زیب جان کی بازی ہار گیا۔ جوابی کارروائی کے دوران چھ حملہ آور مارے گئے جن میں ایک خاتون بھی شامل تھی۔ ایس ایس پی گوادر عطاء الرحمان کے مطابق گوادر میں صورتحال اب قابو میں اور معمول کے مطابق ہے۔
گوادر سے متصل ضلع کیچ کے علاقے تربت میں نیول ایئر بیس پر راکٹ اور دستی بم داغے گئے، تاہم کوئی نقصان نہیں ہوا۔ کیچ کے علاقے تمپ میں پولیس تھانے اور ایف سی کیمپ پر حملے کیے گئے۔ مسلح افراد نے پولیس تھانہ صدر اور سٹی کو نقصان پہنچایا، سرکاری گاڑی چھین لی اور باہر کھڑی تین گاڑیوں کو آگ لگا دی۔
تمپ میں پھل آباد اور رودبن میں مارٹر گولہ گرنے سے دو بچے ہلاک جبکہ پانچ افراد زخمی ہوئے۔ اسی دوران سابق تحصیلدار عابد یار کو اغوا کے دوران مزاحمت پر گھر کے اندر فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا گیا۔ تربت کے علاقے ناصرآباد میں پولیس تھانے اور بلیدہ میں صدر تھانہ اور ایف سی چوکیوں پر بھی حملے کیے گئے۔
مستونگ میں حملوں کے دوران سینٹرل جیل اور تھانے کا لاک اپ توڑ کر 30 قیدی فرار ہو گئے۔ پولیس تھانہ سٹی کے اہلکاروں کو یرغمال بنا کر ان سے سولہ کلاشنکوف، موٹر سائیکلیں اور ایس ایچ او کی گاڑی چھین لی گئی۔ بعد میں تھانہ، لیویز کنٹرول روم، تحصیل آفس اور ایک نجی بینک کی عمارت کو آگ لگا دی گئی۔ ایک سرکاری ایمبولنس بھی چھین لی گئی۔

مقامی پولیس کے مطابق کلی باروئی میں راکٹ کے گولہ گرنے سے ایک خاتون ہلاک ہوئی۔ سکیورٹی فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان شدید فائرنگ ہوئی جس میں متعدد حملہ آور ہلاک ہوئے۔ اس دوران ایس پی مستونگ کی گاڑی پر بھی فائرنگ کی گئی، تاہم وہ محفوظ رہے۔
ضلع قلات میں پولیس تھانہ سٹی اور صدر تھانہ پر حملے ہوئے۔ راکٹ اور فائرنگ کے نتیجے میں ایک اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے، اہلکاروں سے سات کلاشنکوف چھینی گئیں۔ تھانے، تحصیل آفس اور کنٹرول روم کو آگ لگا دی گئی، جبکہ قلات بازار میں دو بینکوں کو نقصان پہنچا اور ان کے گارڈز سے اسلحہ چھین لیا گیا۔ جوڈیشل لاک اپ کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔ سکیورٹی حکام کے مطابق جوابی کارروائی میں متعدد حملہ آور مارے گئے۔
چاغی میں ایف سی کے ہیڈ کوارٹر کے قریب زوردار دھماکے اور فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔ چاغی پولیس کے ایک افسر کے مطابق مطابق جوابی کارروائی میں پانچ حملہ آور مارے گئے۔
خاران میں درجنوں مسلح افراد نے جنگل روڈ پر نیو سبزل آباد میں ملازئی قومی اتحاد کے چیئرمین اور حکومتی حمایت یافتہ قبائلی رہنما شاہد گل کے گھر پر حملہ کر کے انہیں اور ان کے چھ محافظ ہلاک کر دیے۔ حملہ آوروں نے گھر میں کھڑی دو گاڑیوں کو آگ لگا دی اور اسلحہ، سونا بھی ساتھ لے گئے۔
اسی دوران ایف سی کیمپ اور نیشنل بینک پر فائرنگ کی گئی۔ نیشنل بینک کی سکیورٹی پر تعینات تین پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا کر ان سے اسلحہ چھین لیا گیا۔ داغے گئے راکٹ کے گولے تین گھروں کو لگے لیکن جانی نقصان نہیں ہوا۔ بسیمہ روڈ پر ایک وکیل زخمی ہوا جبکہ دو گاڑیاں تباہ کی گئیں ۔کلی چنال میں ایک پل کو دھماکے سے نقصان پہنچایا گیا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق جھڑپ اور دھماکوں میں ایک سکیورٹی اہلکار کی موت ہوئی اور چار زخمی ہوئے جبکہ متعدد دہشتگرد بھی مارے گئے۔













