غیر ملکی کو اپنے نام سے سعودی کا کاروبار کرانا

عبدالعزیز الثنیان۔ مکہ
 

    سعودی مارکیٹ میں سعودی کا غیر ملکی کو اپنے نام سے کاروبار کرانا انتہائی خطرناک مسئلہ بنا ہوا ہے ۔ اسے ’’التستر التجاری‘‘کہا جاتا ہے۔ یہ سعودی قانون کے بموجب جرم ہے۔ اس رواج نے سعودی تاجروں ، صارفین اور کاروباری مارکیٹ کو خطرات پیدا کررکھے ہیں۔ اس کے متعدد اسباب ہیں۔اسے قابو کرنا آسان نہیں بیحد مشکل ہے۔ بسا اوقات یہ کاروبار قانونی تقاضے پورے کرکے کیا جاتا ہے۔ اس قسم کے لوگوں کو پکڑنا اور ان کے خلاف کارروائی کرنا قانون نافذ کرنیوالے اداروں کیلئے انتہائی مشکل ہے۔
    گزشتہ عرصے کے دوران اس گتھی کو سلجھانے کی کوشش قوانین و ضوابط کے ذریعے کی گئی مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ سعودیوں کے نام سے غیر ملکیوں کی کاروبار کے خاتمے کیلئے بنائے جانے والے قوانین و ضوابط الٹے پڑگئے۔ میرے نقطہ نظر سے یہ ایسا مسئلہ ہے جسے اولین ترجیحات میں رکھنا ہوگا۔ اس کی وجہ سے سعودی معیشت کی شرح نمو متاثر ہورہی ہے۔ اگر اس پر قابو پالیا گیا تو نہ صرف یہ کہ شرح نمو میں اضافہ ہوگا بلکہ بیروزگاری کی شرح بھی کم ہوجائیگی۔
    اس تجارتی آفت کے اسباب مختلف ہیں۔ میرے خیال سے سب سے اہم سبب ویزوں کا غیر قانونی کاروبار ہے ۔ یہ کاروبار گزشتہ برسوں کے دوران کافی پھلا اور پھولا ۔اس کا احاطہ کرنا انتہائی دشوار ہے۔ ویزوں کا کاروبار باقاعدہ تجارت کی شکل اختیار کرگیا۔ ویزہ فروشوں کو ویزوں کے تاجر کا عنوان دیدیا گیا۔ ہر ملک اور ہر پیشے کے حوالے سے ویزے کی قیمت مختلف مقرر کردی گئی۔ اس کا لین دین اس قدر پیچیدہ ہوگیا کہ نگراں اداروں کیلئے اس پر نظر رکھنا محال ہوگیا۔دوسرا سبب یہ ہے کہ سعودی نوجوان بہت سارے پیشوں سے متنفر ہیں۔ غیر ملکی کارکن ان پر قبضہ جمائے ہوئے ہیں۔ایسے پیشوں سے غیر ملکی کارکنان کو ہٹانا اور ان کی جگہ سعودیوں کا لانا اپنے آپ میں ایک چیلنج ہے۔ اس قسم کے پیشوں پر کام کرنیوالے غیر ملکیوں سے بے نیاز بھی نہیں ہوا جاسکتا کہ ہمارے نوجوان ان میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔
    سعودیوں کے نام سے غیر ملکیوںکے کاروبار کے مسئلے کو تدریجی طور پر ہی حل کیا جاسکتا ہے۔ اس کیلئے متعدد اقدامات کرنے ہونگے۔سب سے پہلا کام تو یہ کرنا ہوگا کہ غیر ملکی کو اپنے نام سے کاروبار کرانے والے سعودی شہری کو سخت اور عبرتناک سزائیں دی جائیں ۔یہ سزائیں مقرر کرنی ہوگی۔علاوہ ازیں اس مسئلے کے حل پر قادر نگراں اور عدالتی ادارے تیار کرنے ہونگے۔نگرانی کا کام سخت بنانا ہوگااور سعودیوں کے نام سے غیر ملکیوں کے کاروبار کے مقدمات نمٹانے کیلئے سرسری سماعت والی عدالتیں قائم کرنا ہونگی۔
    کاروبار کرنے والوں کوبینکوں میں اکاؤنٹ کھولنے کا پابند بنانا ہوگا۔ تھوک کا کاروبار ہو یا ریٹیل کا دونوں صورتوں میں کاروبار سے ہونیوالی آمدنی پر نظر رکھنے کیلئے بینکوں کو شامل کرنا پڑیگا۔ لانڈریوں، ریستورانوں ، الیکٹرانک اشیاء فروخت کرنیوالی دکانوں، کھانے پینے کا سامان بیچنے والے مراکز ، بقالوں اور حجاموں تک کو بینک اکاؤنٹ کھولنے کا پابند بنانا پڑیگا۔ تمام شہریوں پر یہ پابندی عائد کرنا ہوگی کہ وہ بینکوں میں اپنے اکاؤنٹ کھلوائیں اور ترسیل زر کیلئے اپنے اکاؤنٹ ہی استعمال کریں۔ ایسا کرنے سے ہر ایک کی آمدنی اور اس کے ذرائع بآسانی متعین کئے جاسکیں گے۔ ایسا کرنے سے کوئی بھی فریق قانون کی گرفت سے آزادنہیں رہے گا۔

مزید پڑھیں:- - - -  - -ایران پورے خطے کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے، امریکہ کے نائب صدر

شیئر: