لوک سبھا الیکشن، اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا

اب دیکھنا یہ ہے کس پارٹی کے اندازے درست ہیں اور کس کو دل بدل کرنے کا فائدہ پہنچتاہے ، بی جے پی تن تنہا قطعی اکثریت کا دعویٰ کررہی ہے
سید اجمل حسین۔ دہلی
اگرچہ ابھی 2019کے عام انتخابات میں انتخابی جلسوں اور مہمات کا سلسلہ عام نہیں ہوا ہے لیکن ملک گیر  پیمانے پر  پارٹیوں میں اٹھا پٹخ شروع ہو چکی ہے ۔ انتخابات کے بعد کسی پارٹی کو قطعی اکثریت حاصل نہ ہونے کی صورت میں حکومت سازی کے دعوے داری کے لیے ممبران کی خرید و فروخت شروع ہوتی ہے تو حکومت سازی کے بعد تو کابینہ میں ردوبدل عام بات ہے لیکن ایسا پہلی بار ہو رہا ہے کہ ملک کے تقریباً ہر صوبے میں جہاں علاقائی پارٹیاں اتحاد کے نام پر کبھی ایک دوسرے کا منہ نہ دیکھنے والی پارٹیوں کے لیڈر بغلگیر ہو رہے ہیں تو کہیں سیاسی لیڈران دل بدلی کرکے اسے گھر واپسی کہہ کر جھوٹی تسلی دے رہے ہیں۔ کہیں حریف پارٹی کے روشن امکانات سے زیادہ اپنی پارٹی کی صفایے کے آثار دیکھ کر اس پارٹی کا ساتھ چھوڑ رہے ہیں جس کی رکنیت ان کی خاندانی وراثت تھی اور وہ پیدائشی رکن تھے اور جس کے ٹکٹ پر انتخابات پر انتخابات جیت کر عوام کی خدمت سے زیادہ اپنی تجوریاں بھرنے اور اقرباپروری کو استحکام بخشنے میں مصروف رہا کرتے تھے۔یہ سلسلہ کشمیر سے کنیا کماری تک جاری و ساری ہے۔ اترپردیش میں بہرائچ سے سابق بی جے پی ایم پی ساوتری بائی پھلے نے کانگریس میں شمولیت اختیار کر کے سنسنی دوڑا دی۔پرینکا گاندھی کے کانگریس کا جنرل سکریٹری اور مشرقی اترپردیش کا انچارج بنتے ہی  مہان دل کے صدر کیشو دیو موریہ نے تو اپنی پارٹی کو  ہی کانگریس میں ضم کر دیا۔ادھر اپنا دل اور سوہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی (ایس بی ایس پی) نے بی جے پی قیادت والی این ڈی اے سے الگ ہونے کا فیصلہ کر کے بی جے پی اترپردیش میں زبردست جھٹکا دیا ہے۔2104کے عام انتخابات میں اپنا دل نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرکے 2سیٹیںجیتی تھیں اور اس کی رہنما انوپریہ پٹیل مودی کابینہ میں وزیر ہیں۔ بنگال میں ترنمول  کانگریس لیڈر بی جے پی میں یہ کہتے ہوئے شامل ہو گئے کہ صرف مودی ہی ملک بچاسکتے ہیں۔گجرات میں 2 بی جے پی لیڈران سابق وزیر بمل شاہ اور سابق ممبر اسمبلی انل پٹیل اپنے متعدد ساتھیوں اور حامیوں سمیت کانگریس میں شامل ہو گئے۔بہار سے سابق ممبر پارلیمنٹ کیرتی آزاد بی جے پی چھوڑ کر کانگریس میں شامل ہو گئے اور وہ شاید بہار کے دربھنگہ پارلیمانی حلقہ سے انتخاب بھی لڑیں گے۔جنوبی ہند میں تلنگانہ کی حکمراں جماعت تلنگانہ راشٹریہ سمیتی لیڈر و تلنگانہ قانون ساز کونسل کے رکن اور تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے چیئرمین ایس رمولو نائیک کانگریس میں شامل ہو گئے۔
آندھر پردیش میں سابق مرکزی وزیر کیلی کوپارانی وائی ایس آر کانگریس میں شامل ہو گئیں۔آندھرا پردیش میں ہی سابق مرکزی وزیر کشور چند نے تیلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) میں شمولیت اختیار کر لی۔آندھرا پردیش میں ہی تیلگو دیشم کے ممبر پارلیمنٹ اونتی سری نواس وائی ایس آر کانگریس میں شامل ہو گئے۔تمل ناڈو میں اگر انا ڈی ایم کے اور بی جے پی متحد ہو کر انتخابی دنگل میں کود رہی ہیں تو کانگریس اور ڈی ایم کے میں نہ صرف اتحاد ہو گیا بلکہ سیٹوں کی تقسیم بھی ہو گئی اور کانگریس کو ڈی ایم کے نے 9سیٹیں دے دیں۔بی جے پی کو انا ڈی ایم کے نے5سیٹیں دی ہیں۔چھتیس گڑھ میںہندوستان کی پہلی مس ٹرانس کوئین وینا سنڈرے سیاسی میدان میں کودتے ہی کانگریس کے خیمہ میں چلی گئیں۔دہلی میں عام آدمی پارٹی نے کانگریس سے انتخابی سمجھوتہ کرنے کی پیش کش کی لیکن کانگریس نے یہ کہہ کر اس سے اتحاد کرنے سے انکار کر دیا کہ اس کی گرفت صرف دہلی تک ہی ہے۔ اس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ کانگریس کو یہ خدشہ تھا کہ اگر کہیں اس نے دہلی میں کیجریوال کی پارٹی سے اتحاد کر لیا تو اسے لامحالہ ہریانہ اور پنجاب میں بھی کرنا پڑے گا جہاں کانگریس پہلے ہی سے خود کو فاتح سمجھ رہی ہے۔ پنجاب میں بہوجن سماج پارٹی سے اتحاد کر کے عام آدمی پارٹی کانگریس کو خاصا نقصان پہنچا سکتی ہے۔
مہاراشٹر میں ہاں نہیں کے بعد آخر کار لوک سبھا انتخابات کیلئے تجدید اتحاد ہو گیا لیکن شیو سینا نے ایک یہ پخ بھی لگا دی ہے کہ اسے مہاراشٹر میں وزارت اعلیٰ کا عہدہ بھی چاہیے ۔نہ دینے کی صورت میں ’’یا شیخ اپنی اپنی دیکھ‘‘ کی دھمکی بھی دے رکھی ہے۔اس نے یہ بھی صاف صاف کہہ دیا ہے کہ اگر بی جے پی کو پچھلی بار سے100سیٹیں کم ملیں تو بی جے پی اکیلے نہیں بلکہ این ڈی اے کی تمام پارٹیاں مل کر وزیر اعظم طے کریں گی۔
مراٹھا اداکارہ اساوری جوشی نے کانگریس میں شمولیت اختیار کر لی۔ادھر سماج وادی پارٹی  نے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کو دھمکی دے دی ہے کہ اگر اسے ایک بھی سیٹ نہ ملی تو اکیلے ہی انتخابات لڑے گی۔اس صورت حال سے جس میں سیاستدانوں نے وفاداریاں بدلیں اور سیاسی پارٹیوں نے قومی اور علاقائی سطح پر اتحاد کیا یہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ خود سیاسی لیڈروں تو دور کی بات خود سیاسی جماعتوں کا تجربہ یہ معلوم کرنے سے قاصر ہے کہ لوک سبھا انتخابات میں اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا ۔یہ بات دیگر ہے کہ بی جے پی تنہا اپنے بل پر قطعی اکثریت اور حلیف پارٹیوں کے ساتھ دو تہائی اکثریت کا دعویٰ کر رہی ہے ۔لیکن دوسری قومی پارٹی کانگریس ہندی ریاستوں راجستھان ،مدھیہ پردیش،اترا کھنڈ،چھتیس گڑھ ، اور پنجاب میں تنہا اپنے بل پر اورمہاراشٹر، تمل ناڈو، آندھرا پردیش،کرناٹک،کیرل اور جھاڑ کھنڈ میں علاقائی پارٹیوں کے اتحاد سے قطعی اکثریت حاصل کرنے کا یقین ظاہر کرر ہی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کس کے اندازے درست ہیں اور کس کو دل بدل کرنے کا فائدہ پہنچتاہے ۔
مزید پڑھیں:- - - -میرٹھ : تجاوزارت ہٹانے پر ہنگامہ، فائرنگ اور گاڑیاں نذر آتش

شیئر: