بالکنی میں چڑیو ں کو دانا ڈالنے سےکسی کو تکلیف نہ پہنچے، سپریم کورٹ

نئی دہلی۔۔۔۔سپریم کورٹ نے کہا کہ کسی رہائشی عمارت یا سوسائٹی میں مقیم شخص کو بالکنی میں چڑیوں کو اس طرح دانا نہیں کھلایا جاسکتاکہ دانا گرنے سے گندگی پھیلے اور دوسروں کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑے۔ اعلیٰ عدالت نے ممبئی کی کثیر المنزلہ عمارت میں رہائی پذیر خاتون کی جانب سے چڑیوں کو دانا کھلانے سے روکنے کا حکم دینے کے معاملے میں مداخلت سے انکار کردیا۔جسٹس یویو للت اور جسٹس اندو ملہوترا کی بنچ نے کہا کہ رہائشی عمارتوں اور سوسائٹی میں مقیم افراد کومقررہ قواعدوضوابط پر عمل کرنا چاہئے۔اے بی پی نیوز کے مطابق2011میں دسویں منزل پر رہنے والے دلیپ سمن لال شاہ اور مینا شاہ نے 14ویں منزل پر رہائش پذیر جگیشا ٹھاکر اور ان کے اہل خانہ کے خلاف درخواست دائر کی جس میں شاہ نیتحریر کیا کہ ٹھاکر خاندان اپنی بالکنی سے چڑیوں کو دانا، پانی دیتے ہیں جس سے انہیں اوردیگر خاندانوں کومشکلات کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ان کے اس عمل سے چڑیوں کی بڑی تعداد وہاں روزانہ آتی ہے جس سے گندگی پھلتی ہے ۔یہ بھی تحریر کیا کہ ٹھاکر خاندان صبح ساڑھے 6بجے سے اٹھ کر کام دھندے میں مصروف ہوجاتا ہے جبکہ دیگر خاندان کے افراد کی نیند میں خلل پیدا ہوتا۔انہیں چڑیوں کو دانا ڈالنے کیلئے کوئی جگہ مخصوص کرنی چاہئے۔ٹھاکر خاندان نے جواب میں کہا کہ وہ تحفظ حیوانا ت کے شعبے سے منسلک ہیں ،1998ء سے ایک این جی او کے تعاون سے کتوں کی دیکھ بھال کا مرکز چلا رہے ہیں۔ٹھاکر نے کہا کہ شاہ گزشتہ دنوں این جی او کو مویشیوں اورجانوروں کیلئے دوائیاں فراہم کیا کرتے تھے لیکن معاملات خراب ہونے سے تعلقات منقطع کرلئے۔ انہوں نے کہا کہ پبلک مقامات پر چڑیوں کو دانا، پانی نہیں دیا جاسکتا کیونکہ وہاں حادثات کا امکان ہے یا پھر کتے یا دیگر جانور حملہ آور ہوسکتے ہیں۔
مزید پڑھیں:- - - -تیزاب حملہ بھیانک جرم ہے، قابل معافی نہیں، سپریم کورٹ

شیئر: