ثالثی کی کوششیں: پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی تہران پہنچ گئے
ایران کے وزیرِ داخلہ سکندر مومنی نے محسن نقوی کا استقبال کیا (فوٹو: عرب نیوز)
پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی سنیچر کو ایران کے دارالحکومت تہران پہنچے جہاں وہ اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے ایرانی سرکاری میڈیا کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان، ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازعے اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سے پیدا ہونے والی کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’محسن نقوی آج اسلامی جمہوریہ ایران کے دو روزہ سرکاری دورے پر پہنچے ہیں، جو مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے اور خطے میں امن کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کی جاری کوششوں کا حصہ ہے۔‘
ایران کے وزیرِ داخلہ سکندر مومنی نے محسن نقوی کا استقبال کیا۔ ان کا یہ دورہ پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ دورۂ تہران کے چند دن بعد ہورہا ہے۔
اسلام آباد ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات میں فعال ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، اور گذشتہ ماہ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان ایک اہم اور حساس ملاقات کی میزبانی بھی کر چکا ہے۔
آٹھ اپریل سے شروع ہونے والی جنگ بندی نے بڑی حد تک اس لڑائی کو روک دیا ہے جو 28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی افواج کے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی۔
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے جمعے کو کہا کہ تہران کو واشنگٹن کی جانب سے ایسے پیغامات موصول ہوئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ مذاکرات جاری رکھنے پر آمادہ ہے۔
ایران کے اعلٰی مذاکرات کار اور سپیکر پارلیمان محمد باقر قالیباف نے منگل کو کہا کہ واشنگٹن کو تہران کی امن تجویز قبول کرنی چاہیے، ورنہ اسے ’ناکامی‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب صدر ٹرمپ نے ایران کی جوابی تجویز مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا کہ جنگ بندی ’انتہائی نازک صورت حال‘ میں ہے۔
باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ ’ایرانی عوام کے حقوق کو تسلیم کرنے کے سوا کوئی متبادل نہیں، جیسا کہ 14 نکاتی تجویز میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی بھی راستہ مکمل طور پر بے نتیجہ ثابت ہوگا، اور مسلسل ناکامیوں کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔‘