”آخری بس ایک لانی اور ہے“

شہزاد اعظم۔جدہ
  
نہایت سہانی رات تھی،چاندنی چٹکی ہوئی تھی۔اک شہر فروزاں کے وسیع و عریض پنڈال میں ہزاروں لوگ جمع تھے۔عالیشان اسٹیج سجا ہوا تھا ۔سفید چاندنی بچھی تھی۔معزز خواتین اور چنیدہ مرد حضرات اس چاندنی کے وسط میں بچھے قالین پر گاﺅتکیوں پر کہنیاں ٹکائے بیٹھے تھے۔اسٹیج کے پس منظر میں خوبصورت پوسٹر آویزاں تھا جس پرخطاط نے خوبصورت انداز میں لکھ رکھا تھا:
فرحی مشاعرہ،آج کا مصرعہ فرح ،”آخری بس ایک لانی اور ہے“۔
    ہمیں کس نے اور کیوں بلایا تھا،یہ تو یاد نہیں رہا البتہ اتنا یادہے کہ ہم اسٹیج کے سامنے پہلی قطار میں بچھے صوفے پر براجمان تھے۔ چند فٹ کے فاصلے پر ہی تمام شاعر اور شاعرات تشریف فرما تھیں۔مہمانوں نے جو لباس زیب تن کر رکھے تھے وہ ملبوسات کے حوالے سے عالمی ثقافت کی نمائندگی کرتے نظر آ رہے تھے۔ان میں شلوار قمیص،جینز اور ٹی شرٹ،شیروانی اور پاجامہ،کرتا اور شلوار،چوڑی دار پاجامہ اور قمیص،ساری،چولی گھاگرا،لہنگا،غرارہ،پینٹ شرٹ اور تھری پیس سوٹ،سب ہی شامل تھے۔
    پنڈال خوشبوﺅں سے مہک رہا تھا۔اسٹیج سے ایک انسانی آواز ابھری،”جناب و بیگم فرحت کی جانب سے منعقد کئے جانیوالے فرحی مشاعرے میں تمام ”فرحانوں“کو خوش آمدید۔آج وطن عزیز ترقی کی اس منزل پر ہے جسے دیکھ کر دنیا رشک کررہی ہے۔غربت اور غریبوں کا صفایا ہو چکا ہے۔ہر شخص کی زندگی میں اتنی خوشیاں ہیں کہ جن کا کوئی حساب نہیں۔بیروز گاری جیسی لعنت ایک عرصے سے”جلا وطنی“کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔کئی دہائیوں قبل ملک میں غربت،مہنگائی،بیروزگاری،ناخواندگی اور پسماندگی نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔اس دور میں ”ہم دو،ہمارے دو“جیسے نامناسب قسم کے سرکاری نعرے لگائے گئے۔صاحبان فراست نے ان کی مخالفت کی۔اس وقت غربت و افلاس کے مارے مجبور و بے کس عوام کوسمجھایا ہی نہیں بلکہ ”دھمکایا“جاتا تھا کہ خوشحال زندگی کا خواب شرمندہ تعبیر کرنا چاہتے ہو اور نسل نو کو اعلیٰ تعلیم سے آراستہ کرنے کے خواہشمند ہو تو یا رکھنا ہو گا کہ”ہم دو،ہمارے دو“۔
    آج صورتحال بالکل بدل چکی ہے۔ہر چہرہ شگفتہ و شاداب نظر آتا ہے۔لوگوں کو خیرات دینے کے لئے کئی کئی روز انتظار کرنا پڑتا ہے اس کے باوجود انہیںکوئی فقیر نہیں ملتا۔ماضی میں فقیر ،لوگوں سے پیسے اینٹھنے کے لئے ان کی جان کو آجاتے تھے مگر آج حالت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص بحیثیت فقیر کسی سے خیرات لینے پر رضا مند ہو جاتا ہے تو مخیر اس کا شکریہ ادا کرتا ہے،اس کا موبائل نمبر لے لیتا ہے کہ آئندہ خیرات دینے کے لئے میں خود آپ سے رابطہ کر لوں گا۔
    وطن پاک میں خوشحالی کی آمد کے بعد ”ہم دو۔۔۔“جیسے نعرے معدوم و موہوم ہو چکے ہیں۔ماضی کے پسماندہ اور بدحال دور کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اس وقت ایک گھر میں ایک ہی گرہستن ہوا کرتی تھی۔بعض لوگ ایسے بھی تھے جنہیں اپنے ”مکان“ کو ”گھر“ میں تبدیل کرنے کے لئے اتنی طویل تگ و دو کرنی پڑتی تھی کہ انہیں پیرانہ سالی آ گھیرتی تھی اور ان کا مکان،دمِ آخر تک مکان ہی رہتا تھا۔
    آج ہم اپنے ارد گرد نظر ڈالیں تو ہر گھر سے ایک نہیں بلکہ ایک سے زائد گرہستنوں کی ”چہچہاہٹ“سنائی دیتی ہے۔ہمیں ہر سو گھر ہی گھر نظر آتے ہیں،”مکان“تو جیسے ناپید ہو چکے ہیں۔لوگوں کو خوشیاں اور آسائشیں بافراط میسر ہیں۔حالت یہ ہے کہ ہر شخص ان آسائشوں کا عادی ہو چکا ہے۔ اب یہ آسائشیں اس کے لئے معنی نہیں رکھتیں۔ان پرمسرت چہروں پر قہقہے بکھیرنے کے لئے ہی آج کے فرحی مشاعرے کا اہتمام کیا گیا ہے۔
    جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں،وطن عزیز میں خوشحالی کے باعث ہر خاندان میںایک سے زائد گرہستنوں کا رواج زور پکڑتا جا رہا ہے۔آج کے مشاعرے میں یہ حقیقت شعراءکے کلام سے خود بخود ظاہر ہوگی۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اتنی خوشحالی کے باوجود ہمارے گھروں میں پسماندہ دور کی جو نشانی من و عن موجودد ہے وہ ”سوتاپا“ ہے جس سے نجات ملنے کی تاحال کوئی امید نہیں۔حکومت کی جانب سے اس ضمن میں ”تحفظ حقوق مرداں“قانون کا مسودہ تیار کرنے میں جتی ہوئی ہے۔
    بعد ازاں مشاعرے کا آغاز ہوا۔کیا خوب مشاعرہ تھا۔ہمیں تمام شعراءکا کلام تو یاد نہیں رہا ،گنے چنے شعرا کا ایک ایک شعر یاد رہ گیا جو کیا جا رہا ہے نذرقارئین:۔
٭    جناب غوغا:
تین تو موجود ہیں گھر میں مِرے
آخری بس ایک لانی اور ہے
٭    محترم چلبلا:
چار بچوں کی ممانی فاخرہ
چار بچوں کی ممانی اور ہے
٭    جناب لوٹا:
کرچکے ہیں گو کہ ہم حجت تمام
دل میں بس اک بے ایمانی اور ہے
٭    جناب خاندانی:
تین اپنے گھر سدھاری جا چکیں
ایک تایا کی نشانی اور ہے
٭    محترمہ شاکی صاحبہ:
اور تھا خط میں زبانی اور تھا
گو حقیقت میں کہانی اور ہے
٭    جنابہ پردیسن صاحبہ:
یہ تمیس و فول بھی کھائے مگر
ذائقہ ”پاکیستانی“اور ہے
٭    محترم ٹُلا:
”دے کے خط منہ دیکھتا ہے نامہ بر“
مانگتا وہ ”چائے پانی“اور ہے
٭محترمہ تشکیک صاحبہ:
دیکھ کر مرغی وہ یو ں چلا اٹھی
کس لئے گھر میں زنانی اور ہے
    یہ مشاعرہ رات بھر جاری رہا ۔بعدازاں اعلان کیا گیا کہ تمام شعراءو شاعرات ذہن نشین کر لیں کہ کل یعنی 11جنوری 2107ء کا مصرعہ فرح یوں ہے:
اب منہ چھپائے پھرتے ہیں بچوںکی ماں سے ہم
    قافیہ،ردیف ”جہاں سے ہم،کماں سے ہم،بیاں سے ہم “وغیرہ ہے۔مشاعرے میں شرکت کے خواہشمند کل دوپہر ایک بجے تک ”کاشانہ¿ فرحت“فون کر کے اپنا نام لکھوا دیں۔
    جیسے ہی ہمارے کانوں میں صدا آئی کہ ”کل کا فرحی مصرعہ“تو ہم چونک اٹھے۔صوفے پر ساتھ ہی بیٹھے ہوئے ایک مہمان سے ہم نے استفسار کیا کہ یہ ماہانہ یا سالانہ مشاعرہ نہیں؟جواب ملا کہ یہ روزانہ مشاعرہ ہے۔ہزاروں لوگ یہاں روز ہی ہنسنے کے لئے آتے ہیں۔
    ہم حیران رہ گئے ۔اسی اثناءمیں کسی چیونٹے نے ہمارے پاﺅں پر زور سے کاٹا۔منہ سے ”آﺅچ“کی آواز نکلی اور یکدم صوفے سے اٹھ کر کھڑے ہوگئے۔دیکھا تو ہمارے ”رفیق غرفہ“ہمیں جھنجوڑ رہے تھے کہ ”اٹھ جائیے!کیا آج دفتر نہیں جائیں گے؟جب ہمارے حواس مجتمع ہوئے تو پتہ چلا کہ ہم 100سال بعد کے پاکستان میں جا پہنچے تھے۔پھر بھی ہم مسحور رہے کہ اگر ہمارے خواب شرمندہ تعبیر ہوگیا تو ہم نہ سہی،ہماری آئندہ نسلیں تو خوشحال زندگی بسر کر سکیں گی۔
    فی الحال ہم اور کچھ تو نہیں،بس اتنا کرسکتے ہیںکہ اس ”فرحی مصرعے “کے مطابق طبع آزمائی کریں۔
    آپ کیا کہیں گے؟

 

شیئر: