نئی ایئر لائن ’فلائی ناس سیریا‘ کے قیام کے لیے معاہدے پر دستخط
نئی ایئر لائن ’فلائی ناس سیریا‘ کے قیام کے لیے معاہدے پر دستخط
ہفتہ 7 فروری 2026 20:17
51 فیصد حصص شام اور 49 فیصد فیصد فلائی ناس کے پاس ہوں گے (فوٹو: اخبار 24)
سعودی عرب نے سنیچر کو شام میں ایوی ایشن، ریئل سٹیٹ اور ٹیلی کمیونیکشن کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے ایک بڑے پیکیج کا اعلان کیا ہے۔
الاخباریہ کے مطابق سنیچر کو دمشق کے پیپلز پیلس میں صدر احمد الشرع کی سرپرستی میں منعقدہ تقریب میں ’سٹرٹیجک معاہدوں‘ پر دستخط کیے گئے۔
سعودی وزیر سرمایہ کاری خالد الفالح نے سعودی عرب اور شام کے درمیان سٹرٹیجک معاہدوں پر دستخط کو تاریخی دن قرار دیا'اس میں ایک مشترکہ ایئر لائن اور ٹیلی کمیونیکشنز کی ترقی کے لیےمنصوبہ شامل ہے۔
خالد الفالح نے شام میں ’ایلاف‘ سرمایہ کاری فنڈ کے آغاز کا اعلان کیا۔ معروف سعودی کمپنیوں کی قیادت میں ایک کنشورشیم شام کے شہر حلب میں دو ایئرپورٹس کی مختلف مراحل میں ترقی کے لیے سرمایہ کاری کرے گا، جس کا تخمینہ 2 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔
سول ایوی ایشن سیکٹر میں معروف سعودی بجٹ کیریئر ایئر لائن فلائی ناس اور سیرین ایوی ایشن اتھارٹی نے ایک نئی ایئرلائن ’فلائی ناس سیریا‘‘ کے قیام کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
ایئرلائن کے 51 فیصد حصص شام کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن اینڈ ایئرٹرانسپورٹ کو شام اور 49 فیصد فیصد فلائی ناس کے پاس ہوں گے۔ نئی ائیرلائن کے آپریشنز 2026 کی آخری سہ ماہی میں شروع ہونے کی توقع ہے۔
’فلائی ناس سیریا‘ مشرق وسطی، افریقہ اور یورپ کے متعدد ملکوں کے لیے پروازیں چلائے گی۔
ایوی ایشن اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے بڑے پیکیج کا اعلان کیا ہے۔ (فوٹو: الاقتصادیہ)
امریکہ کی جانب سے گزشتہ برس دسمبر میں پابندیاں ہٹائے جانے کے بعد سرمایہ کاری کا یہ سب سے بڑا اعلان ہے۔
گزشتہ برس ریاض نے 6.4 کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا جو ریئل سٹیٹ، انفراسٹرکچر، اور ٹیلی کام میں کام کرنے والی 100 سے زیادہ سعودی کمپنیوں کے ساتھ 47 معاہدوں تسیم ہے
یاد رہے سعودی وزیر سرمایہ کاری انجینیئر خالد الفالح کی سربراہی میں سنیچر کو ایک وفد دمشق پہنچا ہے، جس کا مقصد سعودی عرب اور شام کے درمیان اقتصادی اور سرمایہ کاری کے تعاون کو مضبوط بنانا اور مشتترکہ منصوبو ں پرعملدرآمد کے مرحلے میں شراکت داری کو آگے بڑھانا ہے۔
یہ دورہ ایک وسیع تر فریم ورک کا حصہ ہے جس میں دونوں ملکوں کے درمیان سٹرٹیجک شراکت داری کی سپورٹ، ترقی میں نجی شعبے کے کردار کو بڑھانے اور اقتصادی انضمام کے لیے ایک پائیدار راستہ قائم کرنا ہے۔