Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

خیبر پختونخوا میں بارش اور برفباری کا الرٹ، سیاحتی راستے بند ہونے کا خدشہ

محکمے کے مطابق اتوار کی رات سے منگل تک صوبے کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
خیبر پختونخوا کے بالائی اور شمال مغربی علاقوں میں موسم کی شدت بڑھنے لگی ہے، جہاں بارش اور برفباری کے نئے سلسلے کے باعث صوبائی حکومت نے ممکنہ خطرات سے خبردار کیا ہے۔
سنیچر کو صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ خراب موسمی حالات کے سبب اہم شاہراہیں اور سیاحتی مقامات کی سڑکیں عارضی طور پر بند کی جا سکتی ہیں۔
محکمے کے مطابق اتوار کی رات سے منگل تک صوبے کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے، جبکہ پہاڑی علاقوں میں برفباری کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ مسلسل سردی، بارش اور برف نے پہلے ہی معمولاتِ زندگی کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔
پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ، ریسکیو اداروں اور دیگر متعلقہ محکموں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ موسمی صورتحال کے پیشِ نظر تمام ادارے پیشگی حفاظتی اقدامات یقینی بنائیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔
محکمے نے خبردار کیا ہے کہ ناران، کاغان، کالام اور چترال جیسے بالائی سیاحتی علاقوں میں سڑکیں پھسلن کا شکار ہو سکتی ہیں، جس کے باعث آمد و رفت میں مشکلات پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور انتہائی احتیاط برتنے کی تلقین کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ پشاور، مردان، صوابی، نوشہرہ، چارسدہ، باجوڑ، مہمند، خیبر، اورکزئی، کرم، کوہاٹ، ہنگو، کرک، بنوں، شمالی و جنوبی وزیرستان، لکی مروت، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
پی ڈی ایم اے نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ طوفانی بارش، برفباری اور تیز ہواؤں کے دوران محفوظ مقامات پر رہیں۔ یاد رہے کہ گذشتہ ماہ چترال کے ایک علاقے میں برفانی تودہ گرنے سے ایک ہی خاندان کے کم از کم نو افراد ہلاک اور ایک بچہ زخمی ہو گیا تھا، جس کے بعد حکام مزید محتاط ہو گئے ہیں۔

 

شیئر: