عورت کی بے پردگی کو ”فیشن“ قرار دینے والے روشن خیال

 اکثریت مردوں کی واقعی قول و فعل میں تضاد نہیں رکھتی مگر کیا کیا جائے کہ مشرف جیسے بھی تو اسی جہان رنگ و بو کا حصہ ہیں اور یہ کہانیاں انہی کے دم سے قائم ہیں 
زاہدہ قمر ۔ جدہ
مشرف کو نہ تو اس کا طنز برا لگتا تھا نہ طعنہ ، وہ اس کے عشق میں واقعی ہر احساس سے عاری ہوچکا تھا۔کہاں کی حمیت ، کہاں کی انا؟ کیسی خود داری اور کیسا بھرم؟ اس کی زندگی کے ہر احساس اور احساس کے تمام رنگ نازو (تتلی) سے سجے تھے۔ وہ اسکے بغیر زندگی کا تصور بھی محال سمجھتا تھا۔
نازو فنکشن میں جانے کیلئے شاپنگ کرنا چاہتی تھی۔ اس لئے آج ذرا جلدی جاگ گئی تھی۔ دوپہر تقریباً ڈھل رہی تھی۔ ویسے بھی اس بستی کے لوگوں کی صبح وشام سے شروع ہوکر صبح کے اجالے کی کرنوں کے نکلنے تک جاری رہتی۔ ان کی زندگیاں ان کے ضمیر کی طرح اجالوں کی عادی نہیں تھیں، انکے وجود مصنوعی رنگ و روشنی سے منور تھے اور ضمیر مصنوعی تاویلوںسے آہ! انسان نے اپنی تباہی کے کیا کیا طریقے اور کیسے کیسے حیلے گھڑ رکھے ہیں!
ہم اپنی محنت کا کماتے کھاتے ہیں! کیسے یہ کمائی ناجائز ہے؟
لوگ خود ہمارے پاس آکر ہمارا دامن تھامتے ہیں۔ ہم نے کب کسی سے کہا کہ ہم کو بلاﺅیا ہمارے پاس آجاﺅ؟
گانا بجانا ہمارا پیشہ ہے۔ ہم چوری کرکے، ڈاکہ ڈال کر کسی کا گھر نہیں لوٹتے!!
ایسی کتنی ہی پرفریب بے حیائی کی تاویلوں سے وہ بڑی ڈھٹائی سے اپنا دھندہ جائز قرار دیتے۔ مشرف جیسے ”گھر میں شیر اور باہر ڈھیر“ کے مترادف کتنے نوجوانوں کی زندگیاں برباد کرکے اس گناہ کے کا روبار پر، معاذ اللہ، فخر کیا جاتا۔
مرد بھی عجیب مخلوق ہے گھر کی عورت ، ماں ، بہن ، بیٹی اور بیوی کو سات پردوں میں رکھنے والے باہر کی عورت کی بے پردگی کو ”فیشن“ او ر”معمولی“ قرار دیکرکتنے وسیع القلب اور روشن خیال بن جاتے ہیں۔
یہ صحیح ہے کہ اکثریت مردوں کی واقعی قول و فعل میں تضاد نہیں رکھتی اور ان کی حمیت کے پیمانے بھی تضاد کا شکار نہیں ہوتے مگر کیا کیا جائے کہ مشرف جیسے بھی تو اسی جہان رنگ و بو کا حصہ ہیں اور یہ کہانیاں انہی کے دم سے قائم ہیں۔
مشرف اس کے شاپنگ پر جاتے ہی بور ہوگیا ۔ وہ اسپتال سے نائٹ ڈیوٹی کرکے آیا تھا۔ ارادہ تھا کہ ناشتہ کرکے سوئے گا مگر آ ج نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ اسپتال میں اس کی لاپروائیوں اور آئے دن کی چھٹیوں پر پہلے ہی بہت زیادہ باز پرس ہونے لگی تھی اور آج تو حد ہی ہوگئی۔ جب وہ شام کو اسپتال پہنچا تو شاید کوئی ”فارنر ڈاکٹرز اینڈ سرجنز “ کا وزٹ تھا۔ اسے یہ بات بالکل یاد نہیں تھی کہ پرسوں اسکی چھٹی کے وقت اس سے سرکلر پر سائن کروائے گئے تھے۔ ایک تو جلد آنے کی سختی سے ہدایت تھی۔ دوسرے اچھے طریقے سے ڈریس اپ ہونے کی اور مشرف کے ذمہ تو ایک اور بھی ذمہ داری تھی کہ وہ دن میں بھی آکر اسپتال کی صفائی ستھرائی اور انتطامات کا جائزہ لیتا اور اپنی نگرانی میں یہ کام کرواتا۔ خصوصاً ایڈمن بلاک کے ساتھ ملحق کانفرنس ہال اور اس کے درمیان واقع چند وارڈز.... 
وہ بالکل فراموش کر بیٹھا۔اپنا موبائل گھر آتے ہی نازو کے باپ کے حوالے کرکے ایسا سویا کہ عصرکے وقت جاگا۔ ویسے بھی اسکا موبائل نازو کے باپ کے پاس ہی ہوتا تھا اور کبھی کبھی تو اسپتال تک میں وہ بغیر کسی سیل فون کے جاتا۔ 
شروع شروع میں نازوکے باپ نے موبائل بڑی لجاحت او رپیار سے اپنے دوستوں میں عزت بنانے کے نام پر مانگا اور نازو نے ہنس کر لاڈ سے بتایا۔
ابا بھی ناں ..... اب دیکھو کتنے معصوم ہیں میرے ابا! کہہ رہے ہیںکہ اتنا مہنگا موبائل اپنے دوستوں کو دکھاﺅںگا۔ ان کو بتاﺅں گا کہ دیکھو ! یہ موبائل میرے داماد نے مجھے دیا ہے۔ کیسے بھلے، کتنے سادہ ہیں میرے ابا .....ہے ناں؟
مشرف اس اپنائیت پر نثار ہوگیا۔ نازو کے ابا نے اسے اپنا سمجھا ۔وہ نازو کی خوشی کا ذریعہ ثابت ہوا۔ یہ تصور ہی اس کے ر گ و پے میں مسرت کی لہر دو ڑا گیا۔ اور پھر چل سو چل۔ اس کا موبائل ، گاڑی اور والٹ ہر شے نازو کے ابا کے زیر استعمال چلی گئی۔ اب وہ بالکل اس طرح اپنی چیزیں ان سے مانگتا گویا کسی غیر کی چیز مانگ رہا ہو۔ عاریتاً، تھوڑی دیر کیلئے،اور ان کا رویہ بھی ایسا ہی حوصلہ شکن ناگواری کا تاثر لئے ہوئے ہوتا۔ گویا کوئی بھکاری کسی قیمتی شے کا مطالبہ کررہا ہو۔ وہ ہی نہیں تمام گھر والوں کے چہرے کے زاویے بگڑ جاتے جب وہ کار کی چابی مانگتا یا موبائل ، کیوں، کیو ں چاہئے؟ کیا کام ہے؟ ذرا جلدی واپس کردینا۔ مجھے دوستوں کے اور پروگرام آرگنائزر کے فون آتے ہیں۔ مجھے پتہ ہوتا کہ تم دے کر واپس مانگو گے تو میں کسی کو یہ نمبر نہیں دیتا وغیرہ وغیرہ۔ اور نازو ...... وہ تو باقاعدہ بدتمیزی پر اتر آتی۔ 
جب دل ہی چھوٹا ہے تو شو آف کرنے کی کیاضرورت تھی؟ بڑے رئیس بنے پھرتے ہو اور دل دیکھو! ایک گاڑی اور موبائل تک نہیں دے سکتے۔ وہ بھی پرانا دھرانا، کنجوس ، کنگال! میں نے بھی کس مکھی چوس سے امید لگائی ، اگر ابھی اشارہ کردوں تو گاڑیوںکی لائن لگ جائے۔ گھر کے آگے ۔ مگر میںسادہ لڑکی ہوں جسے ایک دفعہ اپنا کہہ دیا بس کہہ دیا..... پھر چاہے وہ کتنا ہی تنگ دل کیوں نہ ہو؟وہ بڑے غرور سے خود کو سادہ لڑکی کہتی اور مشرف شرم کے مارے زمین میں گڑ جاتا۔ سو اب اس نے ہر چیز مانگناچھوڑ دی۔ ارادہ تھا کہ پھر سے کلینک آباد کرے گا اور خوب پیسے بنائے گا۔ نازو کے تمام ارمان پورے کرے گا مگر آج جب اسپتال گیا تو اس کے ایم ڈی نے مہمانوں کے رخصت ہوتے ہی اسے وہ جھاڑ پلائی کہ ساتوں طبق روشن ہوگئے۔ اسے بہت سخت سست کہی۔ سب کے سامنے وہ تذلیل ہوئی کہ وہ شرم سے پانی پانی ہوگیا۔ 
اپنے اطوار دیکھو؟ یہ ڈاکٹرز کا انداز ہے؟ اس قدر لاپروائی؟ تم واقعی ایم بی بی ایس کرکے آئے ہو؟ لگتا ہے بالکل جعلی ڈگری لی ہے تم نے ، اپنا لباس دیکھو، اسپتال کے سوئپر سے بھی بدتر ہے۔ اگر نقل کرکے بھی پاس ہوئے ہو تو تھوڑا بہت دکھاوا ہی کرلو۔ شو کرو کہ تم پڑھے لکھے ہو۔ دن رات تمہاری کمپلین سن سن کر میں تنگ آگیا ہوں اور آج تمہیں معلوم ہے آج کا دن کتنا اہم تھا؟ ہم تمہیں کال کرکر کے تھک گئے۔ ہر دفعہ تم نے اپنے بدتمیز نوکر سے گالیاں دلوا کر کال بند کردی۔ اس قدر غیر ذمہ داری؟ وہ بری طرح گرج رہا تھا۔ مشرف نے کچھ کہنے کی کوشش کی تو بری طرح د ھاڑا ”خاموش“ ”شٹ یور ڈرٹی ماﺅتھ“ اور ساتھ ہی منہ ہی منہ میں اسے برا بھلا کہتے ہوئے وارننگ لیٹر اس کے منہ پر دے مارا۔
بس وہ لمحہ تھا جب مشرف نے خود کو بے اختیار ہوکر اس پر جھپٹتے ہوئے پایا۔ وہ بری طرح اپنے بد لحاظ ایم ڈی ڈاکٹر پراچہ پر جھپٹ پڑا۔ دونوں ہاتھوں سے اسے پیٹ ڈالا۔ فوراً ہی سامنے کھڑے لوگوں نے اسے پکڑا اور گھسیٹ کر لے گئے۔ 
وہ بری طرح ہانپ رہا تھا ۔ سب اسے الگ کمرے میں چھوڑ کر چلے گئے۔ ڈاکٹر پراچہ کی حمایت جو کرنی تھی اسکے سامنے نمبر جو بنانے تھے۔ وہ کافی دیر تک کمرے میں بیٹھا رہا۔ پھر اس کے اسپتال کے کلرک نے آکر اس کو لفافہ تھمادیا۔ اس نے دھڑکتے دل سے لفافہ کھول کر دیکھا تو لمبی چارج شیٹ اور گواہان کے بیانات کے ساتھ اس کے ٹرمینیشن آرڈر تھے۔
(باقی آئندہ)
*********
 

شیئر: