امریکہ نے ترکی کو F-35 لڑاکا طیاروں کے ساز و سامان کی ترسیل روک دی

امریکہ میں حکام کے مطابق ترک حکام کو بتایا گیا ہے کہ اب ترکی کو F-35 لڑاکا طیاروں کے ساز وسامان کی مزید ترسیل نہیں ہوگی۔
امریکہ کی جانب سے اپنے اتحادی ترکی کو جنگی لڑاکا طیاروں کی ساز وسامان کی ترسیل روکنے کا اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ ترکی روس سے میزائل کا دفاعی نظام خریدنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔
ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے روس سے میزائل کا دفاعی نظام خریدنے کے منصوبے سے پیچھے ہٹنے سے انکار کیا ہے جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ نظام F-35 کی سکیورٹی کو داو پر لگا سکتا ہے۔
 F-35 لڑاکا طیاروں پر اختلاف امریکہ اور ترکی کے درمیان سفارتی تنازعات کے سلسلے کی نئی کڑی ہے۔ ان تنازعات میں ترکی کی جانب سے عسکریت پسند فتح اللہ گولن کی حوالگی، مشرق وسطیٰ اور شام کی پالیسی اور ایران پر پابندیوں کے حوالے سے دونوں ملکوں کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔
خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی حکام نے بتایا کہ ’ تربیت کے حوالے سے اگلی شپمنٹ اور F-35 کے تمام سازوسامان کی ترسیل روک دی گئی ہیں۔‘
F-35 لڑاکا طیارے لاک ہیلڈ مارٹن کورپ کمپنی تیار کرتی ہیں۔
نیٹو کا اجلاس:۔
امریکہ کی جانب سے F-35 پر فیصلے سے یہ توقع کی جارہی تھی کہ اس ہفتے ہونے والے نیٹو کے اجلاس میںشرکت کے لیے ترکی کے وزیر خارجہ کے واشنگٹن کے دورے کو پیچیدہ کر سکتا ہے۔
گزشتہ اتوار ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کو دہائیوں میں سب سے بڑی انتخابی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کے ایک تجزیہ کار اینڈریو ہنٹر کے مطابق ’ قطع نظر اس کے کہ کون ان ہتھیاروں کو استعمال کررہا ہیں اور کس مقصد کے لیے روس کے بعض ہتھیار امریکہ کے لیے خطرہ ہیں۔‘
امریکہ اور دوسرے اتحادی ممالک جو F-35 رکھتے ہیں ان کو خدشہ ہیں کہ روسی میزائل کا نظام S-400 ان جہازوں کی نشاندہی کر سکے گا۔
ترکی کو روسی ساختہ میزائل خریدنے سے روکنے کے لیے امریکہ نے پیٹریاٹ اینٹی میزائل نظام رعایتی نرخ پر دینے کی پیشکش کی تھی جس کی مدت معیاد مارچ کے آخر تک ختم ہوئی ، ترکی نے پیٹریاٹ اینٹی میزائل نظام میں دلچسپی ظاہر کی تھی لیکن روسی ساختہ میزائل نظام S-400 کی قیمت پر نہیں۔
ترکی کے وزیر دفاع نے مارچ کے مہینے کہا تھا کہ کچھ مسائل کے باوجود ترکی کے پائلٹ ایرازونا میںF-35 لڑاکا طیاروں کی تربیت لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ان کو امید ہے کہ یہ لڑاکا طیارے نومبر میں انقرہ پہنچ جائیں گے۔
جیٹ طیاروں کی ترسیل روکنے کے بعد یہ امکان ہے کہ ترکی کے ہوابازوں کی تربیت امریکہ کی جانب سے روک دی جائیں۔
امریکی سینیٹر وں نے بھی ترکی کی جانب سے روس کے میزائل نظام کو خریدنے کے منصوبے پر خدشہ ظاہر کیا ہے۔چار امریکی سینٹروں نے ایک بل بھی متعارف کروایا ہے جس کے تحت اس وقت تک ترکی کو طیارے منتقل نہیں کیے جائیں گے جب تک امریکی حکومت اس بات کی تصدیق نہیں کرتی کہ انقرہ S-400 روسی ساختہ میزائل نظام سے دستبردار نہیں ہوتا۔

شیئر: