کشمیر میں فوج کی تعداد کم کرینگے،کانگریس کا انتخابی منشور

  نئی دہلی ... کانگریس نے انتخابی منشور کا اعلان کردیا ۔ملازمتوں کی فراہمی ،خواتین کے حقوق کیلئے جدوجہد ،کسانوں کی مدد،گڈز اور سروسز پر عائد ٹیکس کو آسان بنانے اور دیہی علاقوں میں روزگار پروگرام میں توسیع وعدہ کیا گیاہے ۔
 کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے پارٹی کے سینیئر رہنماوں کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں منشور جاری کیا۔ رائٹر اور ہندوستانی اخبارات کے مطابق انتخابی منشور میں سب سے غریب خاندانوں کو سالانہ 72000 روپے دینے اور 2030 تک ملک سے غربت کے خاتمے کی بات کہی گئی ہے۔ جن کی آواز کے عنوان سے جاری منشور میں خواتین کو بااختیار بنانے پر زور دیاگیا ہے۔
کانگریس نے رافیل دفاعی سودے سمیت گذشتہ5 برسوں میں بی جے پی دورکے تمام سودوں کی تفتیش کرانے کا بھی وعدہ کیا۔انتخابی منشور میں بد عنوانی کے خاتمہ پر زور دیتے ہوئے کہاگیا کہ اقتدار میں آنے پر انسداد بدعنوانی ایکٹ کو سختی سے نافذ کیا جائے گا۔
  منشور میں یہ بھی کہا گیاکہ کانگریس وعدہ کرتی ہے کہ مسئلہ کشمیر کا بات چیت کے ذریعے حل ڈھونڈنے کیلئے کشمیر کیلئے 3 نئے ثالث تعینات کئے جائیں گے تاکہ ہر ا سٹیک ہولڈر کے ساتھ غیر مشروط بات چیت کی جاسکے۔ یہ تینوں ثالث سول سوسائٹی سے ہونگے۔کشمیر میں نافذافسپا اور ڈسٹربڈ ایریا ایکٹ پراز سر نو غور کرنے کا اعلان کیا گیا۔کانگریس نے کشمیر میں فوج اورسینٹرل آرمڈ پولیس فورسز کی تعداد کم کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے۔
  اس موقع پر راہول گاندھی نے کہا کہ پارٹی منشور میں ایک بھی جھوٹا وعدہ نہیں کیا گیا۔ یہ مکمل طورپر حقیقت اور لوگوں کی خواہشات پر مبنی ہے۔ انہوںنے کہا کہ یہ منشور بند کمرے میں بیٹھ کر نہیں بلکہ ملک بھر میں لاکھوں افراد سے بات چیت کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔ منشور کمیٹی سے صاف کہہ دیا گیا تھا کہ پارٹی ایسا کوئی وعدہ نہیں کرے گی جسے پورا کرنا ممکن نہیں ہے۔ صرف وہی وعدے کئے گئے ہیں جو حقیقی طور پر پورے کئے جا سکیں۔
 

شیئر: