’سوچا نہیں تھا اے آئی ویڈیو حقیقت بن جائے گی‘ ، کوہ پیما برفانی طوفان کی نذر
’سوچا نہیں تھا اے آئی ویڈیو حقیقت بن جائے گی‘ ، کوہ پیما برفانی طوفان کی نذر
پیر 26 جنوری 2026 14:51
فیاض احمد، اردو نیوز۔ پشاور
اجمل سواتی کے مطابق عنایت گلزار سے آخری بار 23 جنوری کو رابطہ ہوا تھا (فوٹو: عنایت گلزار فیس بک)
خیبرپختونخوا کے ضلع مانسہرہ میں مچی سر ٹاپ سر کرنے کے دوران لاپتا ہونے والے نوجوان کوہ پیما عنایت گلزار کی تلاش ایک المناک انجام پر ختم ہو گئی۔ ریسکیو 1122 اور مقامی رضاکاروں نے شدید برف باری اور خراب موسم کے باوجود کئی گھنٹوں کی پیدل جدوجہد کے بعد ان کی لاش برف سے نکال لی۔
عنایت گلزار 22 جنوری کو اکیلے ٹریکنگ کے لیے روانہ ہوئے تھے، تاہم شدید برفانی طوفان میں پھنسنے کے بعد ان سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ یہ واقعہ نہ صرف مہم جوئی کے خطرات کو اجاگر کرتا ہے بلکہ اس نوجوان سیاح کی زندگی، اس کے خوابوں اور اس حادثے سے چند دن پہلے بنائی گئی ایک اے آئی ویڈیو کے باعث سوشل میڈیا پر بھی بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔
23 جنوری کو جمعے کے روز نوجوان کوہ پیما عنایت گلزار کی گمشدگی کی خبر سامنے آئی تھی جس کے بعد ریسکیو 1122 کی ٹیم نے سرچ آپریشن کا آغاز کیا۔
کوہ پیما عنایت گلزار اوگی کے علاقے میں مچے سر ٹاپ کو سر کرنے کے لیے اکیلے ہی ٹریکنگ پر نکلے تھے۔ ریسکیو 1122 کے ہمراہ مقامی افراد نے بھی سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا۔
ریسکیو 1122 کے مطابق موسم کی خرابی کے باعث عنایت گلزار کی تلاش میں تاخیر ہوئی مگر دوسرے دن موسم کے صاف ہوتے ہی دوبارہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کا آغاز کیا گیا۔ ریسکیو 1122 نے مقامی افراد کے ساتھ مل کر لاش کو برف سے نکالا اور کئی گھنٹے پیدل سفر کرنے کے بعد ایمبولینس تک پہنچایا۔
پولیس کے مطابق عنایت گلزار 22 جنوری کو مچے سر چوٹی کی طرف اکیلے گئے تھے اور 23 جنوری کی رات کو شدید برف باری کی وجہ سے پھنس گئے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ عنایت کا آخری مرتبہ اپنے قریبی دوست سے فون پر رابطہ ہوا تھا۔
عنایت گلزار کون تھے؟
عنایت گلزار کا تعلق خیبرپختونخوا کے ضلع مانسہرہ سے تھا اور وہ ایک ایڈونچر ٹریولر اور کوہ پیما تھے۔ عنایت گلزار ٹورازم سیکٹر میں گزشتہ پانچ برسوں سے کام کر رہے تھے اور اپنے وی لاگز کے ذریعے مقامی علاقوں کی خوبصورتی دکھا کر سیاحوں کو متوجہ کرتے تھے۔
عنایت گلزار ٹائیگر نامی چوٹی سمیت 15 ہزار فٹ سے بلند کئی چوٹیوں کو اکیلے سر کر چکے تھے۔ ان کے قریبی دوستوں کے مطابق وہ مہم جوئی کو پسند کرتے تھے اور اسی لیے دشوار گزار راستوں پر اکیلے سفر کرتے تھے۔
دوست اجمل سواتی کا کہنا ہے کہ ’عنایت گلزار نے اپنی موت سے قبل مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی ایک ویڈیو اپلوڈ کی تھی (فائل فوٹو: اے ایف پی)
اے آئی ویڈیو حقیقت میں بدل گئی؟
عنایت گلزار کی موت کے بعد ان کی بنائی گئی ایک اے آئی ویڈیو زیر بحث ہے جو اس حادثے سے پانچ دن پہلے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تھی۔
عنایت گلزار کے دوست اجمل سواتی کا کہنا ہے کہ ’عنایت گلزار نے اپنی موت سے قبل مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی ایک ویڈیو اپلوڈ کی تھی جس میں ایک خواب کی صورت میں خود کو ایک برف پوش پہاڑ پر دکھایا گیا تھا اور وہ مدد کے لیے پکار رہے تھے۔
اجمل سواتی کا کہنا تھا کہ ’کسی نے بھی یہ نہیں سوچا تھا کہ یہ اے آئی ویڈیو کچھ روز بعد حقیقت میں بدل جائے گی اور وہ برفانی طوفان میں پھنس کر وفات پا جائیں گے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’عنایت گلزار ایڈونچر ہائیکنگ کرنے کے لیے ڈب میدان مچی سر گئے تھے جہاں 10 سے 20 فٹ برف پڑی ہوئی تھی۔‘
اجمل سواتی کے مطابق ’عنایت گلزار سے آخری بار 23 جنوری کو رابطہ ہوا تھا جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ مچے سر ٹاپ کامیابی سے سر کرنے کے بعد واپسی آ رہا ہے مگر وہ چلنے پھرنے سے قاصر تھے اور ان کے جسم میں طاقت نہیں تھی۔‘
اجمل سواتی نے کہا کہ اس گفتگو کے بعد عنایت گلزار کا نمبر بند ہو گیا۔
اہل علاقہ نے مطالبہ کیا ہے کہ صوبائی حکومت عنایت گلزار کے ورثا کے لیے پیکج کا اعلان کرے (فوٹو: ریسکیو 1122)
’پہاڑوں کا شہزادہ تھا موت بھی پہاڑوں میں ہوئی ‘
ایک اور دوست نے بتایا کہ ’عنایت گلزار کو ایک انرجی ڈرنک کے لیے ویڈیو شوٹ ریکارڈ کرنا تھا جس کے لیے انہوں نے مچے سر ٹاپ کا انتخاب کیا۔‘
اہل علاقہ نے مطالبہ کیا ہے کہ ’صوبائی حکومت عنایت گلزار کے ورثا کے لیے پیکج کا اعلان کرے تاکہ اس کے گھر کی کفالت ہوسکے کیوں کہ مرحوم نے کم عمری میں سیاحت کے فروغ کے لیے غیرمعمولی خدمات انجام دی ہیں۔‘
سفر سے پہلے موسم کا حال جاننا ضروری
کوہ پیما ندیم سرور نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’عنایت گلزار نے ہائیکنگ سے پہلے موسم کی صورتِ حال کا جائزہ نہیں لیا ہوگا کیوں کہ 22 اور 23 جنوری کو شدید برف باری کی پیش گوئی کی گئی تھی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’مانسہرہ کے بالائی علاقوں میں برفیلی ہوائیں چلتی ہیں جس سے انسانی جسم حرکت کرنا چھوڑ دیتا ہے اور زیادہ دیر اس طوفان میں رہنے سے موت واقع ہوجاتی ہے۔‘
کوہ پیما ندیم سرور کے مطابق ہائیکنگ یا کسی بھی ایڈونچر کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہیں اور ایسے علاقوں میں اکیلے مہم جوئی پر جانا خطرے سے خالی نہیں۔