Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا بیوروکریٹس کی دہری شہریت پر پابندی کے لیے ووٹ

نور عالم خان کی جانب سے پیش کردہ سول سرونٹس ترمیمی بل 2024 پر غور کیا گیا (فوٹو: اے پی پی)
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ نے بیوروکریٹس کی دہری شہریت پر پابندی کے بل کے حق میں ووٹ دے دیا۔
پیر کو ملک ابرار احمد کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ کا اجلاس ہوا جس میں ممبر قومی اسمبلی نور عالم خان کی جانب سے پیش کردہ سول سرونٹس ترمیمی بل 2024 پر غور کیا گیا۔
کمیٹی کے اکثریتی ارکان نے بل کے حق میں اپنا ووٹ دیا اور اس کی آج کی ہی منظوری کا مطالبہ کیا، تاہم چیئرمین کمیٹی نے 16 فروری کو اس کی حتمی منظوری کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ 16 فروری کو وزارت کی حتمی رپورٹ کے بعد ووٹنگ کروائی جائے گی۔
تاہم بعد ازاں رکن کمیٹی اور بل کو پیش کرنے والے نور عالم خان نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’ہماری ووٹنگ آج کی ہی شمار ہو گی 16 فروری کو صرف باضابطہ منظوری متوقع ہے۔‘
واضح رہے کہ نور عالم خان کی جانب سے پیش کردہ بل میں بیوروکریٹس کی دہری شہریت پر پابندی لگانے کی تجویز دی گئی ہے۔
اجلاس کے دوران اراکین کمیٹی آغا رفیع اللہ، نور عالم خان اور طاہرہ اورنگزیب نے کمیٹی کو بتایا کہ اگر سیاستدان دہری شہریت نہیں رکھ سکتے، اور سب سے بڑھ کر اگر افواج پاکستان نہیں رکھ سکتی تو پھر سول بیوروکریسی کیسے رکھ سکتی ہے۔
طاہرہ اوررنگزیب کا کہنا تھا کہ ان کی صاحبزادی مریم اورنگزیب نے بھی آسٹریلیا کی شہریت چھوڑ دی تھی اور اس کے بعد انہوں نے عوامی عہدہ سنبھالا۔
بل  پیش کرنے والے رکن کمیٹی نور عالم نے اپنے ریمارکس میں بتایا کہ ’ہمارے پاس ریاست کے راز نہیں ہوتے، لیکن بیوروکریسی کے پاس ہوتے ہیں۔‘
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ’ہمیں کوئی مثال ملتی ہے کہ کسی مغربی ملک کے کسی بڑے افسر کے پاس دہری شہریت ہو؟‘

آغا رفیع اللہ نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے 2018 میں بیوروکریٹس کی دہری شہریت پر پابندی کی سفارش کی تھی (فوٹو: اے ایف پی)

نور عالم نے مزید کہا کہ دہری شہریت رکھنے والے بیوروکریٹس ملک کے ساتھ غداری کرتے ہیں اور پاکستان کے بیوروکریٹس ایک دوسرے کا بہت خیال رکھتے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ بہت سے بیوروکریٹس گریڈ 22 میں پہنچ چکے ہیں لیکن ان کے پاس ابھی تک دہری شہریت موجود ہے۔
قائمہ کمیٹی میں شریک سیکریٹری کابینہ کامران علی افضل نے بتایا کہ وہ خود دہری شہریت کے مالک نہیں ہیں، لیکن اگر کوئی پیدائشی طور پر دہری شہریت کا مالک ہے، تو کیا اسے چھوڑنا چاہیے؟
اس موقع پر آغا رفیع اللہ نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے 2018 میں بیوروکریٹس کی دہری شہریت پر پابندی کی سفارش کی تھی۔ ’ہمارے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ آئے تو بیوروکریٹس فوری طور پر عمل در آمد کرواتے ہیں، لیکن خود عمل نہیں کرتے۔‘
سیکریٹری کامران علی نے کہا کہ ’ہم آپ کی کسی دلیل کی مخالفت نہیں کرتے، یہ آپ کا استحقاق ہے، اگر منظوری کرنی ہے تو آگے بڑھیں۔‘
کمیٹی کے ممبران نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ اس پابندی میں ججز کو بھی شامل کیا جائے۔
یاد رہے کہ گذشتہ سال قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں ممبر قومی اسمبلی عبدالقادر پٹیل نے انکشاف کیا تھا کہ اس وقت پاکستان میں 22 ہزار سرکاری افسران دہری شہریت کے حامل ہیں۔
تاہم حالیہ عرصے میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے قومی اسمبلی میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا تھا اس وقت 20 افسران کے پاس دہری شہریت موجود ہے

نور عالم خان نے کہا کہ پاکستان میں افسر گاڑیاں بھی استعمال کرتے ہیں اور الاؤنس بھی لیتے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

آج ہونے والے قومی اسمبلی کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی سیکریٹریز کو الاؤنس دینے کا ایجنڈا بھی زیر غور آیا۔ اس نقطے پر رکن کمیٹی نور عالم خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے بیوروکریٹس کو ہر چیز کی اجازت دی جائے، پابندیاں صرف اراکین پارلیمنٹ پر لگائی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ پالیسی بنی تھی کہ جو افسر گاڑی لیتا ہے اسے الاؤنس نہیں ملے گا لیکن یہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے، پاکستان میں افسر گاڑیاں بھی استعمال کرتے ہیں اور الاؤنس بھی لیتے ہیں۔
اس حوالے سے چیئرمین کمیٹی نے سیکریٹری کابینہ کو پالیسی پر چیک اینڈ بیلنس رکھنے کی ہدایت کی۔
مزید براں، قائمہ کمیٹی اجلاس میں پاکستان کے معیاری وقت کی انٹرپریٹیشن اور ریفرنسز ترمیمی بل 2025 بھی متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔
مجوزہ بل میں بتایا گیا کہ گلوبل سٹینڈرڈ ٹائم سے پاکستان کا وقت پانچ گھنٹے کے فرق سے ہوگا۔ جب ممبر قومی اسمبلی آغا رفیع اللہ نے سوال کیا کہ اس سارے عمل سے پاکستان میں کیا فرق پڑے گا، تو سیکریٹری کابینہ ڈویژن نے بتایا کہ ’ہمارے اوپر اس حوالے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔‘

 

شیئر: