سعودی سرمایہ کارترکی سے کاروبار سمیٹنے لگے

سعودی مخالف پالیسی کی وجہ سے متعدد سعودی سرمایہ کار ترکی میں اپنی جائیدادیں فروخت اور سرمایہ کاری ختم کررہے ہیں۔ صرف استنبول  میں مکانات خریدنے والے 40 فیصد سعودی شہریوں نے اپنی جائداد فروخت کردی ہے۔
سبق ویب سائٹ کے مطابق امریکی پابندیوں کی وجہ سے ترکی کی کرنسی انحطاط کا شکار ہے۔ ان تمام حالات کو دیکھتے ہوئے سعودی شہریوں کی بڑی تعداد جنہوں نے ترکی کے مختلف سیاحتی شہروں میں مکانات اور فلیٹس حاصل کیے ہوئے تھے انہوں نے اب انہیں فروخت کرنا شروع کردیا ہے۔
غیر منقولہ جائداد کی مارکیٹ کے ترک ماہرین نے اعترا ف کیا ہے کہ رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں گذشتہ سال کی مماثل مدت کی نسبت غیر منقولہ جائداد کی مارکیٹ میں 46فیصد کمی ہوئی ہے۔
الاقتصادیہ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے  مطابق  ترکی میں جائیداد خریدنے  میں سعودی تیسری بڑی اکثریت رکھتے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا  ہے کہ ترکی میں غیر منقولہ جائیداد کی خریداری میں عراقی شہری سرفہرست ہیں۔ دوسرے نمبر پر ایرانی ، تیسرے پر سعودی ، چوتھے پر کویتی جبکہ پانچویں نمبر پر روسی شہری ہیں جن کی سب سے زیادہ جائیدادیں ہیں۔ 
ترکی نے گذشتہ دنوں غیر منقولہ جائیداد کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے  متعدد مراعات کے علاوہ نرم پالیسیاں اختیار کی تھیں۔
ترکی نے شہریت کے قانون میں بھی ترمیم کرتے ہوئے فیصلہ کیا تھا کہ ڈھائی لاکھ  ڈالر کی جائیداد خریدنے والے غیر ملکی کو ترکی کی شہریت دی جائے گی۔ اس کے لیے شرط یہ ہے کہ خریدی جانے والی جائیداد تین سال تک فروخت نہ کی جائے۔
اس پالیسی کی وجہ سے ترکی نے گذشتہ چند سالوں میں 10لاکھ سے زیادہ افراد نے جائیداد کی خریداری میں دلچسپی لی۔ یہی وجہ ہے کہ ترکی میں تعمیرات کے شعبے میں 70فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ 
ترکی میں غیریقینی صورتحال کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی غیر معمولی کمی واقع ہوئی ہے۔ 
علاوہ ازیں سعودی عرب مخالف پالیسیاں اختیار کرنے پر بھی سعودی شہریوں نے  اپنی جائداد یں فروخت کرنا شروع کردی ہیں۔ جن شہریوں نے ترکی میں سرمایہ کاری کررکھی ہے وہ بھی اپنا سرمایہ  وہاں سے نکال رہے ہیں۔
 

شیئر: